369

بچے معذوری سے بچ گئے ' یتیمی سے کون بچائیگا؟

گزشتہ دن 25فروری 2022ء بروز جمعتہ المبارک موسم بہت سرد اور خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا خوشی کے نغمے گا رہی تھی۔گرمی کے آتے آتے سردی کی سرد لہر نے جہاں پھولوں کو کھلنے پر مجبور کر دیا تو وہیں انسانوں کے چہرے بھی کھل کھلا اٹھے اور پرندے بھی خوشی کے گیت گانے لگے۔ اتنے میں ایک افسوسناک خبر مجھے سننے کو ملی کہ تحصیل پروآ کے علاقہ قیوم نگر میں پانچوں اور آخری دن پولیو ڈیوٹی پر مامور حوا کی بیٹیوں کی حفاظت کرنیوالے پولیس کے اہلکار خان بہادر جو کہ پولیس سے قبل پاک آرمی میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ اب ایکس سروس کوٹہ پر پولیس میں بھرتی ہیںکو دوران ڈیوٹی نامعلوم دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی 9MMپستول سے پانچ گولیاں خان بہادر کے جسم پر صرف اس لئے داغی گئیں کہ ان کا قصور یہی تھا کہ وہ قوم کے بچوں کو معذوری سے بچانے والی پولیو ٹیم کی حفاظت کیلئے اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ زخمی حالت میں انہیں فی الفور ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا ۔ ابتدائی طبی امداد دی گئی ۔ تقریباً پانچ گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر زندگی کی بازی ہا ر گئے اور جام شہادت نوش کر لیا۔

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ خیبرپختونخوا کا دوسرا بڑا ضلع ہے۔ چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ پاک چائنہ راہداری کا مرکز بھی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں 2021ء اور2022ء میں کوئی بھی پولیو کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ لیکن پولیو ڈیوٹی پر تعینات پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس کے ایک درجن کے قریب اہلکار شہید ہو چکے ہیں اور اس طرح الحمد اللہ ان 14مہینوں میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا کوئی بچہ تو معذور نہیں ہوا لیکن دس سے زیادہ حوا کی بیٹیاں بیوہ ضرورہوئیںاور جام شہادت پانے والے اہلکاروں کے 50قریب بچے یتیم ضرورہوئے۔ کیاہی اچھا ہوتا کہ باقی ترقی یافتہ ممالک کی طرحIPV ٹیکے والی پولیو ویکسین بچوں کو لگائی جاتی اور OPVپلانے والے پولیو کے قطروں سے نجات مل جاتی اور بار بار پولیو مہم بھی نہ کرنا پڑتیں اور کورونا ویکسین کی طرح جو والدین اپنے بچوں کو IPVپولیو ویکسین ٹیکے نہ لگواتے تو انہیں سخت سے سخت سزاد ی جاتی۔ لیکن ہمارے ملک اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں OPVویکسین کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیونکہ پولیو کے قطرے بار بار پلانے کیلئے پولیو مہم پر کروڑوں اربوں روپے کا فنڈ ملتا ہے۔ جس میںکافی حد تک خرد بردہونے کے انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ 

لیکن آئیں اصل بات کی طرف ۔ کوئی اور شرمندہ ہو یا نہ ہومیں خان بہادر سے ذاتی طورپر شرمندہ بھی ہوں اور نادم بھی ہوں۔وہ اس لئے کہ میں نے گزشتہ سال ایک پولیو این جی اوز کی ورکشاپ نتھیاگلی میں اٹنڈ کی تھی جس میں بہادر خان جیسے واقعے کو ذاتی دشمنی کا رنگ دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔اس ورکشاپ میںمجھ سمیت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع ٹانک ، ضلع جنوبی وزیرستان کے ٹوٹل 40کے قریب صحافی شامل تھے۔جس میں ہم جیسے صحافیوں کو ایک دن کی ورکشاپ کے ہزاروں روپے بھی اصل حقائق چھپانے کیلئے دیئے جاتے ہیں اور صحافیوں کاکھلے عام اس بات پر ذہن بنایا جاتا ہے کہ آپ کی خبر،تحریرکہ ''پولیو ٹیم پر '' ،''پولیو مہم سیکیورٹی پر ''دہشتگردوں کا حملہ ، ایسی خبروں کی اشاعت سے پولیو مہم متاثر ہو جاتی ہے۔ نتھیاگلی کی ورکشاپ میں کئی محکمہ صحت کے ذمہ داروں نے یہ کہا کہ پہلے تو آپ اس قسم کے واقعے کی خبر نشر ہی نہ کریں اگر بہت ضروری سمجھیں تو پھر کسی بھی اہلکار کی شہادت کا ذکر نہ کریں بلکہ ذاتی عداوت کی بناء پر قتل کی واردات ظاہر کریں۔ مجھے بھی نتھیاگلی ورکشاپ میں 39800روپے دیئے گئے۔کیا پولیو مہم متاثر ہونا کسی کی جان سے زیادہ اہم ہے ؟ اس سوال کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اور نہ ہی کسی اور پاس ہو گا۔

عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا

فرش کے سارے خدائوں سے الجھ بیٹھا ہوں

اس لئے مجھے آج کے واقعے پر شرمندگی اور ندامت ہو رہی ہے۔ پولیس کے کتنے جوان شہید ہو گئے۔ کتنے بچے یتیم ہو گئے۔ کتنی حوا کی بیٹیوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ یہ اب مجھے لکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حقائق لکھنا ایک صحافی کی ذمہ داری ہے۔ آج خان بہادر شہید کے چھ بیٹے یتیم ہوئے ایک عورت بیوہ ہو گئی ۔ دو بیٹیوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ خان بہادر کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ خان بہادر سکنہ وانڈہ ظفری گمبیلا ، ضلع لکی مروت کا رہائشی تھااور بچوں کو رزق حلال کماکر کھلانے کیلئے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا اور یہیں پر اس نے دہشت گردوں کی گولیاں اپنے سینے پر سجا کر پولیو ڈیوٹی کرنیوالی محکمہ صحت کی ٹیموں کو بچا لیا۔میں سلام پیش کرتا ہوں خان بہادر کو ، میں سلام پیش کرتا ہوں ڈیرہ کی پولیس کو، جو پولیو ڈیوٹی کا اعزازیہ نہ ملنے کے باوجود بھی تن ، من دھن سے ڈیوٹی کرتے ہیں اور یہاں تک اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دیتے ہیں۔ یہاں پر ڈبلیو ایچ او ، یونیسیف اور محکمہ صحت کے پالیسی میکروں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ آئیں اورIPVپولیو ویکسین کے انجکشن لگانے کی مہم شروع کریں تاکہ بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔ انجکشن بار بار لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور انجکشن نہ لگوانے والدین کے خلاف کورونا ویکسین سے انکاری لوگوں کی طرح لائحہ عمل تیار کریں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنے بچوں کو پولیو انجکشن والی ویکسین لگوائیں اور OPVپولیو ویکسین والے قطروں سے جان چھٹ جائے گی ۔OPVویکسین صرف روٹین میں EPIسنٹر زپر دی جائے۔ دنیا کے بڑے اور ترقی پسند ممالک میں پولیو کا خاتمہIPVپولیو ویکسین والے ٹیکوں سے کیا گیا ۔ آج خان بہادر کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں حکومت وقت سے ایک سوال کر رہی ہیں کہ ہمارے بابا نے قوم کے بچوں کو معذوری سے بچا لیا لیکن ہمیں یتیمی سے کوئی نہ بچا سکا۔ اب وقت آگیا ہے کہ لکیر کے فقیر بننے سے کام آگے نکل گیا ہے ۔ پالیسی میکروںکو پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ جس سے جہاں قوم کے بچے معذوری سے بچا ئے جا سکیں گے وہیں پر یتیمی سے بھی بچانے کیلئے حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ (باقی سب خیریت ہے)

بشکریہ اردو کالمز