کبھی کبھی انسان کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب کائنات میں اس سے منسلک تمام لہریں منفی سمت میں بہہ رہی ہوتی ہیں۔جب ہوائیں بھی مخالف سمت میں چل رہی ہوتی ہیں۔ کوئی کتنا بھی بڑا آئیڈیا ہو۔کتنی بھی راہ ہموار نظر آئے۔انسان کتنی ہی جستجو اور محنت کرلے۔وقت ساتھ نہیں دیتا۔حالات مطابقت نہیں رکھتے۔میں نے بڑے بڑے ہیروں کو اس وقت کی چکی میں پستے دیکھا ہے۔دنیا میں ماہرفلکیات ،اور بڑے بڑے ریاضی دان بھی اس وقت کی کڑی کو انسان کی ہر صلاحیت سے بالاتر سمجھتے ہیں۔آپ کے ہاتھ میں سونے کا چمچہ بھی چاندی جتنی وقعت نہیں رکھتا ۔ہیرے بھی پتھر کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔یہ وقت کا مومینٹم ہوتا ہے۔جس میں آپ کی ہر محنت ،ہر آئیڈیا،ہر ارادہ اور ہر سوچ کا رزلٹ منفی نکلتا ہے۔اس وقت کی گرفت اور اتار چڑھاﺅ کی ایک خاص منطق ہوتی ہے۔بہت سے لوگ اس کو سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔جس طرح موسم بدلتے ہیں۔وقت کی گردش بھی کئی سمتیں بدلتی ہے۔اس میں خزاں بھی آتی ہے اور بہار بھی۔یہ حالات کو گرم بھی کرتا ہے اور سرد بھی۔یہ وقت کی ستم گری ہے۔بہت سے لوگ اس میں ٹوٹ جاتے ہیں۔حالات کے منفی بہاﺅ میں بہہ جاتے ہیں۔زندگی کو انہی حالات اور مشکلات کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔اس وقت میں آپ پر مایوسی بھی طاری ہوتی ہے ۔ناامیدی گھر کر لیتی ہے۔اس وقت میں بے وفا ئیاں بھی ہوتی ہیں۔بے چینی اور اکتاہٹ بھی مسکن بنتی ہیں ۔اور بہت سے لوگ ایسے وقت میں راہ بھٹک جاتے ہیں۔اس وقت میں آپ کی چوٹی کی محنت بھی رنگ نہیں لاتی۔ کچھ لوگ اپنی پوری زندگی کو انہی بھول بھلیوں میںکھویا ہوا پاتے ہیں۔یہ وقت فرد واحد سے لے کر من حیث القوم پر بھی آتا ہے۔جس میں قومیں بدحال ہوتی ہیں۔بڑی بڑی ریاستوں پر زوال آتا ہے۔بڑے کاروبار بھی مشکل میں آجاتے ہیں۔یہ وقت دنیا کے ہر انسان ،ہر قوم پر آتا ہے۔کہ جس میں مایوسی کے سائے گردش کرنے لگتے ہیں۔مگر جو باشعور لوگ وقت کی اس چال کو سمجھتے ہیں وہ اس کو آزمائش کا وقت قرار دیتے ہیں۔اور بلاشبہ یہ آزمائش ہی ہوتی ہے۔جو انبیاءپر بھی آئیں تھی۔جو صحابہ اکرام سے لے کر اولیا تک بھی آئیں تھی۔جو بادشاہوں اور شہزادوں کی زندگی میں بھی درپیش رہی تھی۔
یہ وقت کی گردش ہوتی ہے جو کہ باشعور لوگوں کی نظر میں انسان اور قوموں کا امتحان ہوتی ہے۔ایسی صورت میں قطاً مایوسی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔یقین مانیئے اس وقت میں کی گئی آپ کی ذرا سی بھی محنت قطاً رائیگاں نہیں جاتی۔یہ کہیں نہ کہیں سٹور ہورہی ہوتی ہے۔یہ آپ کے توکل کا امتحان ہوتا ہے۔ظہیرالدین بابر کو سلطنت ہند کا بادشاہ بننے سے پہلے دربدر بھٹکنا پڑا تھا۔جنگل میں اژدھے سے لڑنا پڑا تھا۔جنگ میں زخموں سے چور ہونا پڑا تھا۔وہ وقت اس کی بادشاہی کا نہیں تھا۔مگر وہ اپنے ارادے کو تقویت دیتا گیا اور پھر وہ وقت آیا جب اس نے برصغیر کی سلطنت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔بادشاہوں کا بادشاہ کہلوایا۔سب سے بڑی مثال نبی اکرمﷺ کی نبوت کے آغاز کی ہے کہ جس وقت میں ان پر پتھر برسائے گئے۔کوڑا کرکٹ تک پھینکا گیا۔جادوگر کے نام سے پکارا گیا۔اسلام کے ظہور کے آغاز میں مسلمانوں کو چھپ کر رہنا پڑا ۔چھپ کر نماز پڑھنا پڑی ۔مگر پھر ایسا وقت آیا کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی اسلام تیزی سے پھیلتا ہوا پورے عرب میں چھا گیا۔جس مکہ سے ان کو ساتھیوں سمیت جلاوطن ہونا پڑا پھر اسی شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔وقت کی گردش کبھی رکتی نہیں ۔اور پھر آپ سلطنت عثمانیہ کا دور دیکھیں۔خیمہ بستیوں میں رہنے والا قبیلہ کس طرح ترکی کی سلطنت کو سنبھالتا ہے اور اسلام کی خلافت چلاتا ہے۔ایسی سلطنت کہ جس میں تین بر اعظم ماتحت ہوئے۔اس دور میںعلم اور اسلام کی اشاعت و تدیس میں حد درجہ ترقی ہوئی۔آپ اس کے علاوہ دنیا کے امیر ترین ،مشہور ترین اور کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ بھی کریں وہ بھی وقت کی اسی چکی سے پس کر آگے بڑھے ہیں۔وقت کی ستم ظریفی تھی کہ بل گیٹس اپنے کالج کا امتحان پاس نہ کرسکا ۔مگر پھر جب وقت کی سوئی گھوم کر اوپر آئی تو اسی شخص نے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کی بنیاد رکھی اور وہی پاس ہونے والے طلباءنے اس کی کمپنی میں ملازمین کی حیثیت سے کام کیا۔وقت کی سب سے اچھی اور بری بات ایک ہی ہے کہ وہ بدلتا ضرور ہے۔
مگر اس سارے عمل میں انسان کا اپنے ارادے سے جڑے رہنا معنی رکھتا ہے۔مشکل وقت میں جب ہر طرف مایوسی ہوتی ہے ۔انسان کا چپ رہنا قابل قبول ہے۔مگر ہار جانا ۔خود اعتمادی کو کھو دینا ۔ہرگز اس دنیا کے سسٹم میں قابل قبول نہیں۔وقت کی اس چال کو سمجھنے والے اس کے مومینٹم کے مطابق چلتے ہیں۔جس طرح کاروباری حضرات ایسے وقت میں انویسٹمنٹ نہیں کرتے۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کاروبار ہی بند کردیں۔سٹاک ایکسچینج کی مثال ہمارے دور جدیدکی بہترین مثال ہے کہ جس میں حالات اور وقت کا تعین اور بغور مشاہدہ کرکے پیسے لگائے جاتے ہیں۔مشکل حالات میں جہاں آپ کی دال نہیں گلتی وہاں وقت سازگار ہونے کے بعد پتھر بھی گلنے لگتے ہیں۔بس وقت کے اس مومینٹم کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وقت کا مومینٹم آپ کو روکتا بھی ہے اور چلاتا بھی ہے بس سنوکر کے ٹیبل پر پڑی گیندوں کی طرح اندر رہنا ضروری ہے کبھی نہ کبھی جب مومینٹم بدلتا ہے تو ٹیبل کے کونے میں پڑی گیند کو بھی پاکٹ میں جانا ہی ہوتا ہے۔مٹی بھی سونا بننے لگتی ہے۔مگر وقت کے مومینٹم کی طرح حرکت میں رہنا ضروری ہے۔بہتری کی آس اور امید رکھنا ضروری ہے۔فزکس کا یہ اصول انسانوں کی زندگی پر کس طرح کارآمد ہے آپ شعور کی حس پیدا کر کے دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔عروج ،زوال،پیسہ غربت،گمنامی شہرت،اقتدار سزا،طاقت کمزوری،غرض کے کوئی بھی چیز وقت کے مومینٹم کے مطابق حرکت کرتی ہے۔یہ سب وقت کی دین ہوتا ہے۔کبھی بھی کوئی جگہ ،کوئی رتبہ ،کوئی شخص ،کوئی حالت مستقل نہیں رہتی۔وہ بدلتی ضرور ہے۔بس وقت کے مومینٹم کے مدار میں رہنا ضروری ہے۔
یہ وقت کی گردش ہوتی ہے جو کہ باشعور لوگوں کی نظر میں انسان اور قوموں کا امتحان ہوتی ہے۔ایسی صورت میں قطاً مایوسی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔یقین مانیئے اس وقت میں کی گئی آپ کی ذرا سی بھی محنت قطاً رائیگاں نہیں جاتی۔یہ کہیں نہ کہیں سٹور ہورہی ہوتی ہے۔یہ آپ کے توکل کا امتحان ہوتا ہے۔ظہیرالدین بابر کو سلطنت ہند کا بادشاہ بننے سے پہلے دربدر بھٹکنا پڑا تھا۔جنگل میں اژدھے سے لڑنا پڑا تھا۔جنگ میں زخموں سے چور ہونا پڑا تھا۔وہ وقت اس کی بادشاہی کا نہیں تھا۔مگر وہ اپنے ارادے کو تقویت دیتا گیا اور پھر وہ وقت آیا جب اس نے برصغیر کی سلطنت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔بادشاہوں کا بادشاہ کہلوایا۔سب سے بڑی مثال نبی اکرمﷺ کی نبوت کے آغاز کی ہے کہ جس وقت میں ان پر پتھر برسائے گئے۔کوڑا کرکٹ تک پھینکا گیا۔جادوگر کے نام سے پکارا گیا۔اسلام کے ظہور کے آغاز میں مسلمانوں کو چھپ کر رہنا پڑا ۔چھپ کر نماز پڑھنا پڑی ۔مگر پھر ایسا وقت آیا کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی اسلام تیزی سے پھیلتا ہوا پورے عرب میں چھا گیا۔جس مکہ سے ان کو ساتھیوں سمیت جلاوطن ہونا پڑا پھر اسی شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔وقت کی گردش کبھی رکتی نہیں ۔اور پھر آپ سلطنت عثمانیہ کا دور دیکھیں۔خیمہ بستیوں میں رہنے والا قبیلہ کس طرح ترکی کی سلطنت کو سنبھالتا ہے اور اسلام کی خلافت چلاتا ہے۔ایسی سلطنت کہ جس میں تین بر اعظم ماتحت ہوئے۔اس دور میںعلم اور اسلام کی اشاعت و تدیس میں حد درجہ ترقی ہوئی۔آپ اس کے علاوہ دنیا کے امیر ترین ،مشہور ترین اور کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ بھی کریں وہ بھی وقت کی اسی چکی سے پس کر آگے بڑھے ہیں۔وقت کی ستم ظریفی تھی کہ بل گیٹس اپنے کالج کا امتحان پاس نہ کرسکا ۔مگر پھر جب وقت کی سوئی گھوم کر اوپر آئی تو اسی شخص نے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کی بنیاد رکھی اور وہی پاس ہونے والے طلباءنے اس کی کمپنی میں ملازمین کی حیثیت سے کام کیا۔وقت کی سب سے اچھی اور بری بات ایک ہی ہے کہ وہ بدلتا ضرور ہے۔
مگر اس سارے عمل میں انسان کا اپنے ارادے سے جڑے رہنا معنی رکھتا ہے۔مشکل وقت میں جب ہر طرف مایوسی ہوتی ہے ۔انسان کا چپ رہنا قابل قبول ہے۔مگر ہار جانا ۔خود اعتمادی کو کھو دینا ۔ہرگز اس دنیا کے سسٹم میں قابل قبول نہیں۔وقت کی اس چال کو سمجھنے والے اس کے مومینٹم کے مطابق چلتے ہیں۔جس طرح کاروباری حضرات ایسے وقت میں انویسٹمنٹ نہیں کرتے۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کاروبار ہی بند کردیں۔سٹاک ایکسچینج کی مثال ہمارے دور جدیدکی بہترین مثال ہے کہ جس میں حالات اور وقت کا تعین اور بغور مشاہدہ کرکے پیسے لگائے جاتے ہیں۔مشکل حالات میں جہاں آپ کی دال نہیں گلتی وہاں وقت سازگار ہونے کے بعد پتھر بھی گلنے لگتے ہیں۔بس وقت کے اس مومینٹم کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وقت کا مومینٹم آپ کو روکتا بھی ہے اور چلاتا بھی ہے بس سنوکر کے ٹیبل پر پڑی گیندوں کی طرح اندر رہنا ضروری ہے کبھی نہ کبھی جب مومینٹم بدلتا ہے تو ٹیبل کے کونے میں پڑی گیند کو بھی پاکٹ میں جانا ہی ہوتا ہے۔مٹی بھی سونا بننے لگتی ہے۔مگر وقت کے مومینٹم کی طرح حرکت میں رہنا ضروری ہے۔بہتری کی آس اور امید رکھنا ضروری ہے۔فزکس کا یہ اصول انسانوں کی زندگی پر کس طرح کارآمد ہے آپ شعور کی حس پیدا کر کے دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔عروج ،زوال،پیسہ غربت،گمنامی شہرت،اقتدار سزا،طاقت کمزوری،غرض کے کوئی بھی چیز وقت کے مومینٹم کے مطابق حرکت کرتی ہے۔یہ سب وقت کی دین ہوتا ہے۔کبھی بھی کوئی جگہ ،کوئی رتبہ ،کوئی شخص ،کوئی حالت مستقل نہیں رہتی۔وہ بدلتی ضرور ہے۔بس وقت کے مومینٹم کے مدار میں رہنا ضروری ہے۔
وقت کا مومینٹم