پاسباں مل گئے کعبے کو ........ ¡¡ 1724

پاسباں مل گئے کعبے کو ........ ¡¡



میانوالی کے نئے ڈپٹی کمشنر خرم شہزاد __ مسلمان نہیں ہیں مگر چارج سنبھالتے ہی انہوں نے ھم مسلمانوں کو شرمندہ کرنا شروع کردیا ہے _ اِس سے بڑی شرمندگی بھلا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اِن سے پہلے سرکار کے سابقہ " ضلعی بادشاہوں " کے گھریلو اخراجات کیلئے اسباب وذرائع عالمِ غائب سے " من و سلوٰی " کی صورت میں کچھ اِس انداز میں کہیں عالمِ بالا سے نازل ہوتے رہے ہیں کہ اللہ کے فضل وکرم سے کسی کو کان و کان خبر تک نہیں ہوپاتی تھی _ یعنی کھانے اور کِھلانے والے دونوں اتنے معصوم و فرشتہ صفت لوگ تھے کہ بیچاری پارسائی اور ایمانداری بھی شرم سے پانی پانی ہوکر کسی پتلی گلی سے بھاگ ( بہہ) نکلتی تھی __ اور جب یہ ضلعی ناخدا دامن نچوڑتے تو فرشتے وضو کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردیا کرتے تھے __

یاد آیا کہ آٹھ دس سال پہلے میرے پاس ایک کرسچئین لڑکا کام کرنے کی غرض سے آیا تو میرے بہت سارے تبلیغی اور ایسے ہی معصوم و فرشتہ صفت دوستوں کی دینی حمیت وغیرت ایک تو اچانک اور پھر سونے پہ سہاگہ کے مصداق ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بھڑک اٹھی ___ ایک دن تو مجھے جنت میں بنے بنائے محل کی چابی کی باقاعدہ پیشکش بھی ہوئی _ بس شرط صِرف اتنی سی تھی کہ کسی طور اپنے ماتحت اِس ورکر کو مشرف بہ اسلام کیا جائے _ مگر افسوس ‛ میں نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا اور پھر جب اس عیسائی بچے کی اپنے کام سے لگن اور " ایمانداری" دیکھی تو مذکورہ جنتی محل کی کنجی پیش کرنیوالے دوست سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ " اِس بچے کے قول وفعل میں یکسانیت اور حق حلال کی محنت و مزدوری اپنی آنکھوں سے بقائمی ہوش وحواس دیکھتا ہوں _ اور اس کے مقابل جب اپنی" مسلمانی " پر نگاہ ڈالتا ہوں تو سچی بات ہے دل چاہتا ہے کہ میں بھی یسوع مسیح کی بھیڑوں میں ....... .. "

جنت کے مذکورہ " پراپرٹی ڈیلر" دوست نے باآواز بلند استغراللہ _ استغفراللہ کہتے ہوئے میری بات مکمل نہ ہونے دی اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ ایک غیرمسلم کو مسلمان بنانے کا اتنا سنہری موقع ضائع کرتے ہوئے اگر تم جنت میں نہیں جانا چاہتے تو تمہاری مرضی _ میں نے بہرحال بحیثیتِ مسلمان اور ایک سچے دوست کے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔
جنابِ خرم شہزاد نے جب سے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ سنبھالا ہے __ میرا دل جنت الفردوس میں جانے کیلئے سچ مچ تڑپنے لگا ہے _ مگر یہ جنت وہ نہیں جو مرنے کے بعد ملتی ہے _
میرے پاکستان کی طرح __ میرا میانوالی بھی کسی جیتی جاگتی جنت سے کم نہیں مگر ہمارے اپنے اعمال کے نتیجے میں جس طرح کے چھوٹے بڑے بادشاہوں کے ہتھے ہم چڑھ گئے ہیں _ محض باتوں کی حد تک نہیں ‛ کبھی کبھار تو واقعتاً یہی لگتا ہے کہ کسی دوزخ کے گڑھے میں گِر گئے ہیں _ دنیا کی اِس خوبصورت ترین سرزمین کو دوزخ بنانیوالے کوئی اور نہیں درحقیقت یہی وہ " بادشاہ لوگ " ہیں جِن کے دسترخوانوں پر عالمِ غیب سے وہ مَن و سلوٰی اترتے ہیں کہ کسی دوسرے کو کیا _ ان کو خود بھی خبر نہیں ہوپاتی کہ اللہ تعالیٰ ایک انہی پر اتنا کیوں راضی ہے؟
سنا ھے نئے پاکستان کےحکمران نے اپنے لباس میں سِرے سے کبھی جیب کی ضرورت ہی محسوس نہیں __ واللہ عالم بالصواب ؟ تاہم یہ پاکستانی قوم کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ بندہ ایماندار ہے _
میانوالی کے نئے ڈپٹی کمشنر نے جس طرح اپنے گھریلو اخراجات _ اپنی جیب سے ادا کرنا شروع کردئیے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ اِس " بغاوت " کے نتیجے میں وہ یہاں کیا __ کہیں بھی زیادہ دیر ٹِک پائیں گے ؟ کیونکہ انہوں نے محض اپنے دسترخوان کو نہیں بلکہ پورے نظام کو چیلنج کیا ہے اور بھی الاماشاءاللہ __ نظریہء اسلام کی بنیاد پر قائم ہونیوالے مسلمانوں کے ایک ایسے ملک میں _ جس میں ہرکسی کے اندر ایمان اتنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ اس طرح کے " بے ایمانوں " کی گنجائش بہت کم نکلتی ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز