دنیاء کی اقوام میں ھم نے بھی کیا نرالی قسمت پائی ہے ؟ ایسے ایسے لطیفے بلکہ عجوبے جو یہاں " سرزد" ہوتے ہیں شاید ہی اس کرہ ارض پر کہیں دیکھنے کو ملتے ہوں ___ ¡
تازہ ترین لطیفہ یہ ہوا کہ ملک عزیز کے پولیس بینڈ کا ایک ڈھولچی سات سال تک پولیس لائن لاہور میں محرر رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی _ تفصیلات کیمطابق کانسٹیبل طارق محمود عرصہ دراز سے پولیس بینڈ میں ڈھول بجایا کرتا تھا مگر جعل سازی (کسی چمک یا بینڈ کی دھمک) سے سات سال تک پولیس لائنز میں محرر تعینات رہا جس کو اب عہدے سے ہٹاکر سیکورٹی ڈویژن میں بھیجا گیا __ اسکی تعیناتی کیسے ہوئی‛ انکوائری شروع کردی گئی ہے .
ہمیں قوی امید ہے کہ اس انکوائری کے نتائج کبھی سامنے نہیں آئیں گے اور اس راز سے بھی پردہ کبھی نہیں اٹھے گا کہ ایک ڈھولچی آخر پورے سات سال تک کس طرح اپنے بینڈ _ تھانے _ انچارج _ ڈی ایس پی _ ایس پی _ سی سی پی او _ محکمہ اور پورے نظام کا ڈھول بجاتا رہا مگر کسی ایک کے کان پر بھی اس آواز کی جوں تک نہ رینگی ...
اگر سنجیدگی سے مذکورہ کیس کو دیکھا جائے تو سچی بات ہے اس طرح کی معمولی باتوں کو اتنا سنجیدہ لینا بھی یقیناً پرلے درجے کی بیوقوفی ہوگی کیونکہ اس طرح کی انکوائریاں اگر سچ مچ شروع کردی جائیں اور ڈھول بجانے والے گامے شاموں کو واقعی کیفرکردار تک بھی پہنچایا جانے لگے تو کیا خیال ہے آپ کا یہ بات کیا یہی تک محدود رہے گی ؟ ___ یوں بھی اس طرح کے چونچلے کافر ملکوں میں " افورڈ" کئے جاسکتے ہیں اللہ کے فضل وکرم سے ھم مسلمانوں کو پردہ پوشی کا اتنی بار درس دیا گیا ہے کہ یہ تو ایک ڈھولچی کی معمولی سی ہیرا پھیری ہے _ اس ملک کا ڈھول بجا دینے والوں کے سب کئیے کرائے پر بھی پردہ ڈال کر ھم نے پورے قومی اعزازات کیساتھ قبروں میں اتارا ہے __ عدالتوں کا تیاپانچہ کرنے _ جمہوریت کے بخیئے ادھیڑ دینے __ اور پورے پاکستان کو پتلی تماشہ میں تبدیل کردینے والوں کی کم از کم پردہ کشائی کیلئے ہی اگر قومی سطح پر کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی تو میرا خیال ہے اس قوم کیساتھ یہ مذاق تو کبھی نہ ہوتا کہ ہمارا ایک ایسا " غیرملکی " وزیراعظم بھی گزرا ہے جس کا شناختی کارڈ وزارت اعظمیٰ سنبھالنے کے بعد ارجنٹ تیار ہوا __ اور پاکستانی قوم کی دریا دلی تو دیکھئے کہ بیس بائیس کروڑ کی آبادی کی حامل غیور اور اس زندہ قوم کی غیرت کو آنچ تک نہ آئی ؟
ایک کہاوت ہے کہ عوام بادشاہوں کے نقش قدم پر چلتی ہے( مفہوم) _ ظاہر ہے جس طرح کے جمہوری اور غیرجمہوری بادشاہ ہمارے نصیب میں اب تک آئے ہیں اس قوم نے انہی کی پیروی کرنی ہے ____ اتنے بڑے قومی بلنڈرز کے مقابلے میں بیچارے طارق محمود جیسے کانسٹیبل نے اگر ڈھول بجانے کی بجائے پولیس کا ڈھول بجا دیا تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑا ؟
ہمارے ہردل عزیز وزیراعظم جناب عمران خان کو بھی قوم کے سامنے یہ انکشاف کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کہ باہر سے کچھ نظر آتا ہے جبکہ حکومت کے اندر جاکر اڑھائی سال تک تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا نظر آرہا ہے ؟ اس کا مطلب ہے اس ملک میں کوئی بھی اپنے مقام پر نہیں __ یعنی کہیں ہم نہیں اور کہیں تم نہیں _ ایسے حالات میں یہ فطری سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کی باگ ڈور آخر کس کے ہاتھ میں ھے ؟ یہ بڑا نازک اور حساس سوال ہے __ جس پر کچھ لکھتے ہوئے قلم کے پر جلنے لگتے ہیں مگر گلوبل ویلج ( عالمی گاؤں) کا تصور انٹرنیٹ وغیرہ کی صورت میں حقیقت کے مراحل جس تیزی کیساتھ طے کررہا ہے ___ ہرایک پردہ بھی اٹھ رہا ہے _ اس سے پہلے کہ ہم اس دنیا کے سامنے الف ننگے ہوجائیں یا خدانخواستہ ( میرے منہ میں خاک) ایکدوسرے کے خلاف باقاعدہ نبرد آزمائی شروع کردیں _ ہمیں وقت اور زمانے کا ہمقدم ہوکر اپنے اپنے مقام اور محاذ پر ذمہ داریاں سنبھال کر آگے بڑھنا چاہئیے __ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک زندہ اور حقیقی معنوں میں آزاد قوم کی حیثیت سے اقوام عالم میں سراٹھاکر چلنا چاہئیے۔
456