میرے دَرد کا کوئی دَرماں نہ ملا ؟ 421

میرے دَرد کا کوئی دَرماں نہ ملا ؟

کبھی کبھار اِیک خوبصورت خواب کی تعبیر اِس سرزمیں پر مسلط فرسودہ و غلیظ نظام اور بے حِس و بے فیض حکمرانوں کا طرزِ عمل دیکھ کر اتنی مایوسی اور کوفت ہوتی ہے جِس کا اظہار الفاظ میں کرنا مشکل ہوجاتا ہے __ اللہ نہ کرے آپ کو کبھی تھانہ کچہری اور ہسپتال سے واسطہ پڑے اور کوئی ریفرنس نہ ہو تو آپ کو چند لمحوں میں اپنی اوقات کا خوب پتہ چل جائیگا _ اِس کو بھی رہنے دیں _ کسی دن آپ کی گلی کا گٹر بند ہوگیا __ ذرا متعلقہ اتھارٹی کے دفتر تو جاکر دیکھیں ایک سے بڑھ کر ایک فرعون آپ کو کرسی پر براجمان دکھائی دے گا __ بجلی ‛ فون ‛ ٹیکس __ کسی بھی سرکاری دفتر حتیٰ کہ یوٹیلٹی اسٹور پر بھی آپ کی اہمیت کسی بِھکاری اور کیڑے مکوڑے سے زیادہ ہرگز نہیں __ مگر میرے اِس دعوٰی کی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ آپ کے اندر اپنی عزتِ نفس کا احساس زندہ ہونا چاہئیے مگر سب سے دلچسپ امر یہی ہے کہ ہمارا یہ سارا نظام اور ہر حکمران نے ہمیشہ پہلے ہماری اِسی عزتِ نفس کو کچلنے کا پورا بندوبست کیا اور آج حالت یہ ہے کہ پاکستانی قوم _ غیرت وحمیت سے بے نیاز محض ریوڑھ بن کررہ گئی ہے .
کبھی آپ نے سوچا ھے کہ جِن حکمرانوں کی بعیت ( ووٹ) کرتے ہوئے مسندِ اقتدار پر بیٹھاتے ہیں وہ جب آپ ہی کے خون پسینہ( ٹیکسز) کی کمائی میں سے آپ کو " جھونگے " کے طور پر گٹر و سلیب عطاء کرتے ہیں تو خوشامد میں ہمیں اپنے ناک کو کتنی مرتبہ رگڑنا پڑتا ہے ؟
یہ محض ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ آپ کو زندہ و سلامت رہنے کیلئے اِس ملک میں ہر طرح کا انتظام و بندوبست خود ہی کرنا پڑتا ہے اور اُس " جگا ٹیکس" کے بدلے میں کبھی سوچا ہے کہ آخر ملتا کیا ہے جو ماچس کی ایک ایک تیلی پربھی بٹورا جاتا ہے ؟______ وہ جو ہم سنتے یا کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے تو قیامِ پاکستان اور قائداعظم کی رحلت کے فوراً بعد ___ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ھم سب یتیم ہوگئے ہیں اور کچھ " سوتیلے " لوگ زور زبردستی ہی ہماری ماں کا محض کردار ادا کرنے کی ادکاری کرتے چلے آرہے ہیں ___ سب سے بڑھ کر ظلم کی انتہا تو دیکھیں کہ نظریہ اسلام کی بنیاد پر قائم ہونے والے اِس ملک میں اسلام کے نام پر جتنی بار بیوقوف بنایا گیا اور پھر تقسیم کیا گیا _ اِس کی مثال دنیا میں اگر کہیں آپ کو ملے تو مطلع فرمائیے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے ..... تاہم الاماشاءاللہ " ریاستِ مدینہ " کے دعوٰیدار حالیہ حکمرانوں نے تو اپنے قول وفعل کے بھیانک تضاد کے نتیجہ میں اِس ضمن میں جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ بھی پوری کردی ہے اور وہ جو ہماری عظیم تاریخ میں ریاستِ مدینہ کا ایک خوبصورت و سحرانگیز تصور تھا _ اس کے بخئیے تک اُدھیڑ کر رکھ دئیے ہیں .
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ملک ایسے چلتے ہیں جس طرح یہ ریاست مدینہ والے چلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ؟ اس اونٹ کی کوئی ایک کَل بھی اگر آپ کو سیدھی نظر آئے تو راہنمائی کیجئے گا کیونکہ ایک خوبصورت خواب کی تعبیر اِس سرزمیں پر مسلط فرسودہ و غلیظ نظام اور بے حس و بے فیض حکمرانوں کا طرزِ عمل دیکھ کر اتنی مایوسی و کوفت ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ میں کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز