ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھامے پیارے بچے اور بچیاں اس قدر خوش نظر آ تے ہیں، بعض اپنے پیارے گالوں پر قومی پرچم پینٹ کروا کر ایسی محبت کا ثبوت دیتے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی، بڑے جذبے اور جنون سے یوم پاکستان کی ریلیوں میں شریک ہوتے ہیں، ملی نغمے پڑھتے ہیں تو دل دل پاکستان گاتے ہوئے ان کا دل بھی جھوم اٹھتا ہے۔
اس وقت بھی بازاروں میں ان معصوم بچوں کا رش دکھائی دے گا جو والدین سے جھنڈے ،پرچم، ربن، باجے خریدنے کی فرمائش کر رہے ہوں گے، یہی جذبہ زندہ قوم کی علامت ہے، ان کے اندر وطن کی محبت کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ایک آزاد وطن کے شہری ہیں ،انھیں یہ خوف نہیں کہ سیکورٹی فورسز کا کوئی فرد ان کے گھر کا دروازہ پیٹے گا اور انکے بھائی یا باپ کو اٹھا کر لے جائے گا، انھیں بازار جانے کی آزادی ہے کسی کرفیو کا سامنا نہیں، انھیں یہ بھی خوف نہیں کہ کوئی بزور طاقت انھیں مسجد میں جانے سے روک دے گا، انکا گھر اس لئے مسمار کر دے گا کہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہے ۔
یوم آزادی کو یہ بچے اور بچیاں عید کی طرح مناتے ہیں گھر میں چراغاں کرتے ،جھنڈیاں لگاتے ہیں ،انکی اس سرگرمی پر ان کے والدین بھی خوش ہوتے ہیں، تعلیمی اداروں میں اس دن کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، معصوم بچے اور بچیاں جب ملی نغمے پڑھتے ہیں تو پورا ہال جھوم اٹھتا ہے، اس موضوع پر تقاریری مقابلہ جات ان میں نئی روح پھونک دیتے ہیں، وہ پینٹنگ سے جھنڈے بناتے ان میں رنگ بھرتے ہیں، روایتی لباس زیب تن کرتے ہیں، اس سے وہ تمام صوبہ جات کے عوام کی عکاسی کرتے ہوئے ایک قوم کا تصور پیش کرتے ہیں، قومی سطح پر بھی پرچم لہرانے کی تقریب منعقد ہوتی ہے، ارباب اختیار نئے عزم اور ولولہ سے مملکت خدادا کو دنیا کی صف اول کی ریاست بنانے کا عہد کرتے ہیں، عوام سے بھی قومی ترقی میں شریک ہونے کا عہد لیا جاتا ہے، ایسی تقریبات دنیا بھر کے سفارت خانو ں میں بھی منائی جاتی ہیں تاکہ تارکین وطن کو بھی اس قومی خوشی میں شریک کیا جائے، نسل نو یہ پیغام دیا جائے کہ آپ کا دل بھی اس وطن کی محبت سے سرشا ر رہے، کسی بھی پریشانی میں ہمہ قسم کی قربانی میں آپ بھی پیچھے نہ رہیں۔
ایسے مواقع پر بتایا جاتا ہے کہ عالمی برادری میں ہمارا کیا مقام ہے ،ہماری جغرافیائی اہمیت کیا ہے، ہمیں کون کون سی نعمتیں عطا ہوئی ہیں، ہمارا معاشی ترقی کا ہدف کیا ہے، معدنیات، زراعت، تجارت، صنعت و حرفت میں ہم کس مقام پر کھڑے ہیں،ان تقریبات کی وساطت سے ہماری نسل نو کو معلوم ہوتا ہے کہ کون ہمارا دوست اور کون دشمن ہے کس ملک نے مشکلات میں ہماری مدد کی، کس سے طوطا چشمی کا مظاہرہ کیا تھا۔
یوم آزادی پر خوشیاں منانے والے ان بچوں کا تعلق کسان، مزورر،صنعت کار، دوکان دار،تاجر، اساتذہ کرام ،بیوروکریٹ، عدلیہ کے منتظم، سیاسی قائدین،وکلائ، سرکاری افسران سے ہوتا ہے،ایک لمحہ کے لئے سوچئے جب سبز ہلالی پرچم ہاتھ میں تھامے ،خوشی سے جھومتے بچے ہماری گود میں گرتے ہیں تو زمینی حقائق دیکھ کر ہم سب کا ضمیر ملامت نہیں کرتا ؟ ہم کیسا پاکستان ان کو دے رہے ہیں، ان بچے اور بچیوں کو
دن کی روشنی میں دھوکہ دے رہے ہیں،اپنی دھن میں مگن ان بچوں کو کیا علم کہ عالمی اداروں کے ہم کتنے مقروض ہیں،اس کی بدولت انھیں وہ سہولیات میسر نہیں جو ان کا حق ہے، اس ریاست میں امیر اور غریب کے لئے انصاف کے پیمانے الگ الگ ہیں، یہاں سرکاری شفا خانو ں میں دوائیں میسر نہیں لیکن عوامی نمائیدگان کو بیرون ملک علاج معالجہ کی سہولت مفت دستیاب ہے،بدعنوانی نے اس ریاست کا روشن چہرہ داغ دار کر دیا ہے۔پروٹول کلچر نے سماجی تقسیم اور گہرا کر دیا ہے۔
ریاست ہمہ قسم کے مافیاز کی یہ بڑی آماجگاہ ہے ،یہاں انسان کی اہمیت اسکی مالی حیثیت سے ہے،قانون کی پامالی معمول کی بات ہے،سرکاری اداروں میں رشوت کا چلن عام ہے،نجانے کتنی بار آئین کو تختہ مشق بنایا گیا، قومی اداروں کا اپنی آئینی حدود سے تجاوز جگ ہنسائی کا باعث ہے،،ارباب اختیار کے قول وفعل کے تضاد نے نسل نو کو مایوس کیا ہے، یہی بچے جب شعوری طور پر جوانی کی دہلیز پے قدم رکھتے ہیں تو بوجھل دل کے ساتھ اپنے اچھے مستقبل کے لئے ملک چھوڑنے جانے کو ترجیع دیتے جسکی محبت میں انھوں نے بچپن میں نغمے گائے تھے۔
کتابوں ،نصابوں میں پڑھنے والی اصول پسندی ،سچائی،رواداری، اخوت محبت انھیں کہیں دکھائی نہیں دیتی نہ ہی اتحاد، نظم و ضبط، تنظیم اس سماج میں ملتی ہے، شعور بیدار ہونے پر انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قوم کے فرد نہیں بلکہ ایک ہجوم کا حصہ ہیں سچ جانیں ان کے دل پر گہری چوٹ لگتی ہے،دھوکہ،دہی، فریب،ملاوٹ، ناانصافی،جبر ظلم،بربریت،فراڈ جیسی غیر اخلاقی اقدار ان کے خواب چکنا چور کر دیتی ہیں،ماضی کے یہ بچے بدلتی دنیا میں جوان ہو کر قدم رکھتے ہوئے خود کلامی کرتے ہیں ہمارا معاشرہ اسی ڈگر پر چلے گا؟ہم یونہی14اگست پر جھنڈے تھامے فریب کی دنیا میں قدم رکھیں گے ۔یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔
تلخ حقیقت ہے کہ بچوںکوبانی پاکستان کے فرمودات کے مطابق ہم وہ مملکت نہیں دے سکے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ہم سب اس کے مجرم ہیں ، ہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم سے بہت سی غلطیاں سر زد ہوئی ہیں، ہم،اخلاقی معیار اور معاشی دوڑ میں بہت ممالک سے پیچھے رہ گئے ۔
ہمارا وہم ہے کہ اگر معصوم بچوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ تمام تر خرافات کے فروغ میں انکے والدین بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق شریک رہے ہیں تو وہ بھی ان سے منہ موڑ لیں، ہماری اخلاقی ذمہ داری تھی حب الوطنی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ہم بچوں کوقوم کا ذمہ دار شہری بناتے ہر جرم سے نفرت کرنا سکھلاتے ،قانون کی پاسداری کا درس دیتے تو پھر یوم آزدی پر انکی خوشیوں میں دل سے شریک ہوتے۔
کم از کم اِس یوم آزادی پر ہی عہد کرلیں کہ ملک اور بچوں کے بہترین مستقبل کے لئے ہم میں سے ہر فرد ریاست کی خدمت، وفاداری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا، قانون اور آئین کی حکمرانی کے آگے اپنے مفادات کو سرنڈر کرے گا، کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں شریک نہ ہوگا، ہر یوم آزادی پر ہاتھ میں پرچم تھامے بچے جب خوشی میں ہم سے لپکیں تو ہم خود کو مجرم نہ سمجھیں۔
184