گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کی ٹیم کے علاوہ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمن نے جنیوا میں ایک کامیاب ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ڈونرز ایجنسیوں اور 40ممالک نے پاکستان کے سیلاب بحالی منصوبوں کیلئے تقریباً 10 ارب ڈالرز کے قرضے اور امداد کا اعلان کیا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ دنیا نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی جو دنیا میں تیزی سے رونما ہورہی ہے، اس سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے جس کا اندازہ پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں ہمیں 30ارب ڈالرکے نقصانات کے علاوہ سینکڑوں افراد کا جانی نقصان ہوا۔ پاکستان نے اپنا کیس گزشتہ سال 6نومبر کو ماحولیاتی تبدیلی پرشرم الشیخ مصر میں اٹھایا تھا اور عالمی برادری کو بتایا تھا کہ پاکستان میں کاربن کا اخراج بمشکل ایک فیصد ہے جبکہ دنیا میں آلودگی میں اضافہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہے جس کا نقصان ہمیںاٹھانا پڑرہا ہے لہٰذ ااس سنگین مسئلے کو عالمی سطح پر حل کرنا ہوگا۔ دنیا نے ہمارے موقف کو مانتے ہوئے کانفرنس کے اختتام پر اس کیلئے ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ عالمی سطح پر اس سے نمٹا جاسکے۔اس دوران پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے مالی امداد مانگی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اپنی رپورٹ میں پاکستان میں سیلاب اور اس کے بعد ہونے والے نقصانات کا اعتراف کیا تھا۔
حکومت پاکستان کے تخمینے کے مطابق سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت کو کم از کم 16.3ارب ڈالر درکار ہوں گے ،جس میں حکومت پاکستان 50 فیصد یعنی 8.2ارب ڈالر اپنے وسائل سے ادا کرے گی، جس میں سے 1.5ارب ڈالر اس مد میں پہلے ہی خرچ کئے جاچکے ہیں جبکہ باقی رقم کیلئے جنوری 2023ء میں جنیوا میں ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ،جس میں پاکستان کیلئے 9.7ارب ڈالرکی امداد کا اعلان کیا گیا۔پاکستان کو 8.7ارب ڈالر اسلامک ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشیاء انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے قرضوں کی شکل میں 3 سال میں دیئے جائیں گے جبکہ باقی 1.8ارب ڈالر مختلف ممالک اور یو ایس ایڈ کی گرانٹس ہیں۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ڈونرز کانفرنس میں پاکستان کو 8ارب ڈالرز کے بجائے 9.7ارب ڈالرز کی امداد ملی جس میں 80فیصد قرضے اور 20فیصد گرانٹس شامل ہیں جبکہ پاکستان کا ملٹی لیٹرل ڈونرز سے ایک فیصد شرح سود پر3 ارب ڈالرکا 40 سال میں ادائیگی کا نرم شرائط پر قرضکا معاملہ بھی آخری مرحلے میں ہے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے حالیہ دورہ کے موقع پر سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی سپورٹ کیلئے اپنے 3ارب ڈالر کے سافٹ ڈپازٹ کو رول اوور کرنے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ اور ایک ارب ڈالرکے تیل کی موخر ادائیگیوں کی سہولتیں دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے 2ارب ڈالر کے سافٹ ڈپازٹ رول اوور کرنے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ دیئے ہیں ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ فنڈز رواں مالی سال میں مل جائیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر، جو فروری 2014ء سے 4.3 ارب ڈالر کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں، کو سپورٹ ملے۔ اس موقع پر ڈونرز کا مطالبہ ہے کہ یہ امداد شفافیت، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اور موثر طریقے سے بحالی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے جس کی آن لائن پروگریس دستیاب ہو۔ ڈونرز نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان اتنا بڑا نقصان اکیلے برداشت نہیں کرسکتا جس کیلئے عالمی برادری مدد کو آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے مستقبل میں ایک جامع حکمت عملی کے تحت ان کے نقصانات کو روکنا ہوگا جس کیلئے ہمیں فرنس آئل اور ایل این جی کے بجائے 60فیصد متبادل توانائی جس میں ہوا، سورج، ہائیڈرو اور نیوکلیئر انرجی شامل ہیں، سے بجلی پیدا کرنا ہوگی۔ ملک میں 30فیصد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بجلی پر منتقل کرنا ہوگا، کوئلے کی امپورٹ پر پابندی لگانا ہوگی، سیلاب کے پانی کے ذخائر کیلئے چھوٹے ڈیم بنانے ہوں گے اور ملک میں شجر کاری مہم کو وسیع کرنا ہوگا، یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عملدرآمد کرکے ہم مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی آزادی کے 75سال ہونے کے باوجود ہم اپنے قومی ذخائر اتنے بھی نہیں کرسکے کہ اپنی امپورٹ اور مالی ادائیگیوں کو پورا کرسکیں جبکہ خطے میں ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک کے زرمبادلہ کےذخائر کئی سو ارب ڈالر ہیں جس کی وجہ سے ہمیں بار بار عالمی فورمز میں امداد کیلئے جانا پڑتا ہے جو خود دار قوموں کو زیب نہیں دیتا اور دشمن ممالک پروپیگنڈہ کرکے ہماری اور آنے والی نسلوں کی خود داری کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موجودہ حالات سے سبق سیکھیں، اپنے اخراجات کم کرکے زراعت کے شعبے کو خود کفیل بنائیں تاکہ کھانے پینے کی اشیاء ہمیں امپورٹ نہ کرنی پڑیں جبکہ توانائی کے شعبے میں ہمیں متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کرکے فرنس آئل اور ایل این جی کی امپورٹ پر خرچ ہونے والے ناقابل برداشت زرمبادلہ کو بچانا ہوگا ورنہ کشکول ہمارا مقدر رہے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)