کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں 230

کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

طارق جہانگیری صاحب جج تھے، اب نہیں رہے۔ انہیں سابق یا ریٹائرڈ جسٹس بھی نہیں لکھا جا سکتا کہ جعلسازی سے ڈگری حاصل کرنے کا الزام سچ ثابت ہو گیا۔ انہوں نے چابکدستی دکھانے کی کوشش کی لیکن ذرا دیر سے، یعنی کچھ دن اور مقدمے کا فیصلہ نہ ہوتا تو وہ ریٹائرمنٹ کے اہل ہو جانے تھے، انہوں نے ریٹائرمنٹ لینے کا خط بھی لکھ لیا تھا لیکن حوالہ ڈاک کرنے میں جانے کیوں تاخیر کر دی اور خط حوالہ ڈاک ہونے سے پہلے ہی مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ 
سندھ ہائیکورٹ کے ان جج صاحبان کو بھی پتہ تھا کہ ڈگری جعلی ہے لیکن پھر بھی پیٹی بھائی کو بچانے کیلئے سال بھر سے  سٹے آرڈر دئیے رکھا ورنہ جہانگیری صاحب کب کے فارغ ہو چکے ہوتے۔ 
پاکستان میں پہلی با ر، ایک ہی مہینے میں پہلے ایک جرنیل کو سزا ملی پھر جج کو، اس طرح ’’سیاسی فزکس‘‘ کا یہ ناقابل تغیر، اٹل قانون جزوی طور پر ٹوٹا کہ جج اور جرنیل کو سزا نہیں مل سکتی۔ روایتی طور پر مشہور ہے کہ جج، جرنیل، جاگیردار اور ملّا کو پاکستان میں قانون سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن اب تو ملّا والی بات بھی متاثر ہو گئی۔ دو ملّا بھائیوں کی جماعت کا بھرم قرار پائی، دونوں ملّا بھائی تب سے مفرور ہیں، تیسرے ملاّ کو سابق چیف جسٹس کے قتل کی اپیل کرنے پر 10 سال قید بھی اسی مہینے میں سنا دی گئی۔ ’’متھ‘‘ ٹوٹی نہ سہی، اس پر خراشیں ضرور آ گئی ہیں۔ 
____
جعلساز جج کو سزا کا اعلان ہوا تو
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں۔
 بہت پرانی کہانیاں نہیں ہیں، چند برس پہلے ہی کی بات ہے جب یہ باب لکھا گیا جس کا ایک ’’صفحہ‘‘ یہ برطرف کئے جانے والے جج بھی تھے۔ موصوف کا تعلق ججوں کی اس منڈلی سے تھا جسے عدل و انصاف سے تعلق واسطہ تو کم تھا بلکہ شاید تھا ہی نہیں، اس کے بجائے وہ خود کو ’’حکمران‘‘ مانتے تھے۔ وٹس ایپ پر آنے والے احکامات کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ انہیں ’’مکتب فکر‘‘ کے بجائے مکتب بڑھک کا نام دیا جانا زیادہ ٹھیک لگتا ہے۔ اب تو ان میں سے اکثر ریٹائر ہو چکے ، کچھ نے استعفیٰ دے دیا۔ بس ’’سہانی یادیں‘‘ باقی رہ گئیں۔ 
ایک صاحب تھے، بوٹا سا قد سے بھی قدرے چھوٹا قد، سراپا فتنہ ساماں۔ کبھی کسی کے کچن میں گھس جاتے اور برتن اٹھا اٹھا کر پھینکنے کی ’’وڈیو‘‘ بنواتے، کبھی کسی ماتحت جج کے چیمبر میں گھس جاتے اور اس کا موبائل فون اٹھا پھینکتے، کبھی کسی لال حویلی کے چندولال کی انتخابی مہم چلانے نکل کھڑے ہوتے۔ سادگی کے قائل تھے۔ اپنی صاحبزادی کی شادی بھی سادگی سے کی، محض چار پانچ ارب روپے میں ساری تقریب بھگتا دی
پیدا کہاں ہیں ایسے اب ’’سادہ طبع‘‘ لوگ۔ ڈیم بنانے کے بڑے شوقین تھے، سنا ہے لندن میں کوئی شاندار ڈیم بنایا ہے، آل اولاد کو وہیں لے گئے۔ 
وزیر اعظم ہٹانے کا شوق بھی پورا کیا۔ مدت ہوئی اس بوٹے سے قد سے بھی کمتر قامت والے فتنہ سامان کی یاد آتی ہے۔ 
ایک اور جج صاحب تھے، مقدمے کے قانونی نکات پر بات کرنے کے بجائے وزیر اعظم کو دھمکاتے تھے کہ اڈیالہ جیل میں وزیر اعظم کی جگہ خالی ہے۔ ان کی بات سو فیصد پوری ہوئی۔ جب بات کہی تو شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم تھے، جب بات پوری ہوئی تو ’’مرشد‘‘ کے گلے میں فٹ ہو گئی۔ 
ان میں سے کوئی کھڑے کھڑے افسروں کی ’’پیٹیاں‘‘ اتار دیتا تھا، نوکری سے معطل کر دیتا تھا۔ کوئی حکم جاری فرماتا کہ افسران حکومتی احکامات ماننے سے انکار کر دیں (صرف مرشد کا کہا مانیں)۔ کوئی ایسا تھا کہ چوری چکاری کے ملزم کو دیکھ کر گڈ ٹو سی کہتا اور سرکاری مرسیڈیز اس کی سواری کیلئے پیش کرتا۔ کوئی پراپرٹی ٹائیکون کو دیکھ کر سلیوٹ مارتا اور کہتا، حکم کریں، کیا فیصلہ لکھوں۔ کوئی رائو انوار جیسے سیریل کلر کیلئے عدالت کے اندرونی دروازے کھول دیتا۔ 
واللہ کیا دور تھا، سنہرا دور، ایک ایک ورق طلائی بیل بوٹوں سے سجا ہوا۔ افسوس سب کچھ قصہ ماضی بن گیا۔ رہے نام اللہ کا۔ 
____
سنہری باب لکھنا، البتہ، ہماری عدلیہ کی ایسی روایت ہے جو اب بھی جاری ہے۔ کسی شیطان صفت نے ایک خاتون سے جبری زیادتی کی۔ ماتحت عدالت نے اسے عمر قید سنا دی۔ اعلیٰ ترین نے اسے ’’رضامندی‘‘ کا معاملہ قرار دے کر، مظلوم خاتون کی ایسی ’’عزت افزائی‘‘ فرمائی اور ایسے ایسے بے حجاب تبصرے کئے کہ خدا کی پناہ۔ شاید اس نے خودکشی کا بھی ارادہ کر لیا ہو۔ ضیاء الحق کے حدود آرڈیننس کی یاد آ گئی۔ ایک نابینا عورت کو غنڈوں نے اغوا کر لیا اور اس سے جبر کیا۔ عدالت نے غنڈوں کو بری کر دیا ، عورت کو کوڑوں کی سزا سنا دی اور اس سزا پر عملدرآمد بھی ہو گیا۔ بہرحال، حالیہ کیس میں دو ججوں نے یہ ’’انصاف کیا، لیکن تیسرے جج نے اختلافی نوٹ لکھ کر عدل کے نام کا بھرم بچا لیا۔ 
ایسا ہی ایک تاریخی فیصلہ اور بھی ہوا، اس مہینے کی 6 تاریخ کو۔ ایک لڑکی نے کسی اوباش سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اوباش نے بے گناہ لڑکی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماتحت عدالت نے جرمانے کی سزا سنائی۔ لاہور والی اونچی عدالت نے قاتل کو بری کر دیا۔ 
ایسے سنہری باب آئے روز لکھے جاتے ہیں۔ لاہور میں ایک ڈی ایس پی نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا، گرفتار ہو گیا دیکھئے کب باعزت بری ہوتا ہے۔ 
____
دنیا کے سب سے بڑے کھرب پتی ایلان مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ عنقریب دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا اور سب لوگ مالدار ہو جائیں گے۔ اے آئی اور روبوٹکس کی مدد سے ترقی ہو گی اور یونیورسل ہائی انکم ہوا کرے گی۔ 
ایلان مسک استثنائی حاشیہ لکھنا بھول گئے کہ یہ سب کچھ پاکستان کو چھوڑ کر ہو گا۔ 
ساری دنیا امیر ہو جائے گی،
 ‘‘ پاکستانی مزید غریب ہو جائیں گے، یہاں غربت بڑھتی اور محض اشرافی پھلتی پھولتی رہے گی۔ سائنس سماجی ہو یا سیاسی، پاکستا ن پر لاگو نہیں ہوتی، یہ بھی سائنس ہی کا اصول ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت