قارئین کرام! صحافت ایسا پیشہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر مسلسل نظر رکھ کر اسے رپورٹ (خبر نگاری) کرتا ہے، پھر اداریہ و کالم نویسی، ٹاک شوز، انٹرویوز، فیچر اور فوٹیج، فوٹو کی مدد سے خبروں کی بال کی کھال اتارتے اسے ایک ابلاغی دھارا (فالو اپ) بناتا ہے۔ کسی بھی خبرکی ویلیو (اہمیت) کو اس کے فالو اپ سے ہی ماپا جاسکتا ہے۔ فالو اپ کے نام پر مختلف خبروں سے نکلے دھارے متذکرہ صحافتی اصناف سے بنتے، جو ہمہ گیر کمیونیکیشن فلو تشکیل دیتے ہیں، یہ مجموعی ابلاغی دھارا ہی صحافت کی عملی شکل ہے، جو ہر دم جاری و ساری (SUSTAINABLE) رہتا ہے، یہی پیشہ صحافت کا بڑا امتیاز و اعتبار ہے۔ تسلسل میںمخل اور دخل صحافت کو تباہی اور موت کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ آزادی و ذمے داری کا توازن اسے ارتقا و دوام بخشتا ہے، صحافت کا کردار یہاں ختم نہیں ہو جاتا وہ جو کچھ پبلک ایٹ لارج کو ڈیلیو ر کرتا اور مسلسل کرتا ہے، وہاں سے رائے عامہ کی تشکیل کا عمل شروع ہو تاہے، جو پیشہ صحافت کی سب سے طاقت ور پروڈکٹ ہے، اس کا گہرا تعلق ہے ،جس پر حکومت وسیاست گہری نظر رکھتی ہے۔
اسی لئے صحافت قومی زندگی کے جملہ شعبوں کی رپورٹنگ اور فالو اپ میں اولین ترجیح کاروبارِ حکومت و سیاست کو دینے پر مجبور ہوتی ہے۔ رائے عامہ عجب طاقت ہے جو ہر دم پارے کی طرح ڈگمگاتی رہتی ہے اور اس کے چڑھنے اور گرنے کا امکان لمحہ بہ لمحہ رہتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بھی اسے بڑھانے اور گرانے کی دھن میں رہتی ہیں، جب بس چلتا ہے تو دُھن کو دھونس میںتبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم دائم رہی ہے کہ ہر دو ر کےحکمرانوں اور سیاست دانوں کو اپنے کاروبار، دھندے کیلئے میڈیا پر انحصار کرناپڑتا ہے۔ظہور صحافت سے اب تک یہ ہی صورت بنی رہی۔ حکومتی ،سیاسی دھونس کے مقابل صحافتی مزاحمت کی ایک الگ کہانی ہے جو میڈیا، گورنمنٹ ریلیشنز سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ میں موجود 14جماعتی حکومت پلس نگران نے اب فوجی آمرانہ ادوار سے بڑھ کر آئین شکنی کا جو فسطائی روپ دھارا اس کا سنگھار اپنی ہی طرز کاہے، جس میں ’’بااختیار نگرانی‘‘ کا تڑکا، اتحادیوں کی جوتیوں میں بٹتی دال میں متبادل کےطوراپنا فسطائی رنگ دکھا رہا ہے۔
یہ سب کچھ دانشوروں، ماہرین آئین و قانون، سیاسی گروئوں اور بڑے بڑے گھاگ صحافیوں کی سمجھ سےباہر ہے کہ جس میں لنگڑی لولی ،طرح طرح کے داغ دامن پر لگائے پارلیمان سپریم کورٹ کے برابر کیسے آن کھڑی ہوئی؟ لشکر کشی اور اسے للکار ہی نہیں رہی، اتنے اہم اور حساس آئینی ادارے کی تقسیم اور توڑپھوڑ کی حکومتی تگ و دو کی کوئی نظیر تو افریقہ سمیت دنیا میں کہیںبھی نہیںملتی۔یہ سب کچھ تب ہو رہا ہے جبکہ ملکی گھمبیر سیاسی و معاشی بحران کے ماتم کی صدا دنیا میں دور دور تک سنائی دے رہی ہے۔ لیکن غبارے کی طرح پھولے مودی کے دورہ امریکہ کے دوران فائربندی کی معنی خیز خلاف ورزی سے ہماری طرف کے کشمیر کے دو کسانوں کی شہادت کی وارننگ کے باوجود آئین شکنی اور پاکستان کے رہےسہے بھرم سے حکومتی فسطائی جھگڑا جاری ہے۔
قارئین کرام! ’’آئین نو‘‘ بعنوان ’’دلی،واشنگٹن ہنی مون اور پاکستان‘‘ سے ادھار کرتے آج کے زیر نظر آئین نو کا رات گئے نزول ہوا، دو سیاسی وارداتوں کے باعث لکھنے کا محرک بن گیا۔ ملاحظہ ہو:شاہدنسیم لاہور کے گورنمنٹ کالج گلبرگ میں صدر شعبہ سیاسیات ہیں ،پروفیسر صاحب میرے پرانےاہل محلہ (کرشن نگری) بھی ہیں،سو ہر دو نسبتوں سے ہماری یاری ہے۔ افتاد زمانہ کہہ لیں یا دنیا داری والی ترقی و ارتقا جانیے، اب نئی بستیوں کے شہری علاقے جنوبی لاہور کے باسی ہیں۔ شاہد غم روزگار سے نپٹتے سیدھے گھر نہیں لوٹتے، یاران شہر میں کسی نہ کسی سے یاری نبھاتے ہی واپسی ہوتی ہے۔ غریب خانہ راہ میں ہے تو خاکسار بھی پروفیسرکیلئے اعزاز و رونق کا حصہ دار ہے۔ دو تین ماہ سے میری کالونی کے بغل میں ججوں کی بستی جوڈیشل کالونی میں تن تنہا مقیم ایک پیرِ علم و عمل کا غائبانہ تعارف کرانے کے بعد ملاقات کرانے اور میں کرنے کا متمنی ٹھہرا۔ یہ بزرگ تنہا بیش بہا سرسید کے سگڑ نواسے (نواسی کی بیٹی کے بیٹے) 82 سالہ سید محمود اسد اللہ ہیں لیکن یہ 82 سالہ اور فقط سرسید کے سگڑنواسے ہی نہیں۔ محمود صاحب سرسید کی سوچ و اپروچ ، ایکشن اس کے کمال ثمر آور سفر (فالو اپ) اور اس کے حاصل پاکستان میں ، اس سب کے خاندانی نہیں عملی اور حقیقی وارث ہیں، لاہور ہی کے نہیں پاکستان کے تمام دوست حلقے لاہور میں سرسید اسکول آف تھاٹ اور الطاف حسین حالی کے علمی مشن کے مطابق فروغ ِجدید علم اور تعلیم و تربیت (جسے ہم اب گرومنگ کہنے لگے ہیں )کے سرگرم مرکز ’’سرسید تعلیم و تہذیب و اخلاق فائونڈیشن‘‘ کے زیر اہتمام کامیابی سے چلنے والے علی گڑھ اسکول کے سرگرم ٹرسٹی ہیں۔ یہ اسکول سرسید کی ہی حکیمانہ سوچ و عمل کی پیروی میں پاکستان کے علمی مرکز لاہور اور ایک نواح کے دیہی علاقے مانگا منڈی میں قائم کیاگیا۔ پنجاب حکومت کے اعتراف و تعاون سے اسکول کے چلڈرن لائبریری کمپلیکس بھی لاہور، سرگودھا اور گوجرانوالہ میں قائم کئے گئے ہیں۔ محمود صاحب یوں پیشہ ور بینکر رہے،لیکن دورانِ تعلیم و ملازمت بھی اس کاز کیلئےسرگرم رہے جو فروغِ علم و تربیت کی دلچسپ کہانی ہے۔ جاری پریشان حالی اور بڑھتے ڈر میں محمود صاحب سے ملاقات کرکے بڑا حوصلہ ملا، انہوں نے حالات حاضرہ پر بات کی، حوصلہ شکنی کی، یوںبھی ٹی وی ،سوشل میڈیا اور اخبار سے بھی وہ دور رہتے ہیں،بقیہ زندگی کا فلسفہ اور اس پر عمل یہی ہے کہ’’ اپنے حصے کی شمع جلاتے رہو‘‘ پروفیسر شاہد نسیم نے پہلے غائبانہ تعارف میں درست ہی کہا تھا کہ آپ اپنے کالموں میں آج کل بڑھتے پھیلتے سیاسی اندھیروںمیں چراغ طور تک کی جلانے کی بات کررہے ہیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ آپ خود چراغ کے اندھیرے میں لکھ رہے ہیں ،جو لکھ رہے ہیں۔ دوسری علمی سیاسی واردات دو چکوالی دانشوروں کی تحریر سے نازل ہوئی ہے۔ کالم میں سطور والفاظ کی پابندی آج کے عنوان کو ’’آئین نو‘‘ کی دوسری قسط پر لے جارہی ہے۔ (جاری ہے)