چوہدری اصغرعلی گجر نے میدان مار لیا  189

چوہدری اصغرعلی گجر نے میدان مار لیا 

کیا یہ لیول پلینگ فیلڈ ہے کہ پولیس کی گاڑیاں ایک پر امن جلسہ کے شرکا کو گرفتار کرنے،وردی کے خوف میں مبتلا کرنے پہنچ گئیں،کیا کسی دوسری جماعت کے ساتھ یہ فسطائی ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں،تھانہ پیر جگی کی ایک جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر بھی سامنے آگئی،مجھے جسٹس آف پیس لیہ ڈسٹرکٹ سیشن جج لیہ سے یہ کہنا ہے کہ ن لیگ،پیپلز پارٹی حتیٰ کہ تمام پارٹیوں کو کہیں بھی جلسہ کرنے کی کھلی چھوٹ ہے،مگر پی ٹی آئی کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہا ہے ماضی میں یہ کبھی نہیں ہوا،انسانیت کے ناطے کم از کم انصاف کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان تحریک انصاف جسے عوام میں 70فیصد پذیرائی حاصل ہے،اور اس وقت اگر کوئی وفاق کی پارٹی ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف ہے پھر ایک بنیادی حق سے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے ورکرز کو محروم کیوں کیا جارہا ہے لگتا تھا موسم سرما کا پہلا سرد دن ہے،جب سردی اچانک پوری شدت کے ساتھ آئی، اندازہ نہیں تھا کہ موسم اچانک اتنا سخت ہو سکتا ہے، جیکٹ اور کپڑے سردی کی شدت کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے تھے، جلسے کے شرکا ٹھٹھر رہے تھے، لیکن یہ منظر بھی دیکھاکہ ان کا جذبہ دیدنی تھا،سوموار  کی گھر سے روانہ ہوا تو راستہ میں کئی مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ٹولیوں کی صورت میں جمع ہوتے دیکھا،لدھانہ شہر کے مین شاہراہ پر، لاوڈ سپیکر پر ترانے چل رہے تھے، یعنی اس جلسے کے حوالے سے شہر میں سیاسی کارکن متحرک ہوچکے تھے، یہ چوہدری اصغر علی گجر کا کمال تھا مگر جب ان کی ویڈیو دیکھی تو اس میں انہوں نے بتایا کہ تین اضلاع کی پولیس لدھانہ میں جمع ہو چکی ہے،تاہم ان کا یہ مصمم ارادہ تھا کہ جلسہ ضرور ہوگا جہاں دفتر بننا تھا وہاں، رونق لگی ہوئی تھی،وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ایک عدد تقریر جھاڑی تھی کہ جو بھی جلسہ کرے اس کو کھلی اجازت ہے مگر لدھانہ کا یہ جلسہ ان کے اس دعوے پر مٹی ڈال رہا تھا،پولیس کی بسیں،گاڑیا ں شاید ورکروں کو خوف دلانے کیلئے آئی تھیں مگر آج تمام پی ٹی آئی کے ورکر زشاید خوف کے بت توڑ کر نکلے تھے چوہدری اصغر علی گجر نے پہلے جلسہ میں بھی ورکروں کے حوصلے بلند کئے تھے، جلسے کی اہمیت شرکا کی حسابی تعداد اور اچھے کو عظیم یا حیرت انگیز قرار دینے کی خوش بیانی سے کہیں آگے ہے۔لدھانہ میں ایک ماہ  میں ماضی میں کیے جانے والوں لیہ کے کامیاب جلسوں کا نقطہ عروج لدھانہ کا جلسہ تھا،لیہ کی انتظامیہ نے عوامی جوش کو سرد کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی۔ پولیس کی بھاری نفری سے لوگوں کو جمع ہونے سے خوف زدہ کیاگیا،تاہم ورکروں کے جوش کو گرمانے اور خوف کے بٹ توڑتے ہوئے چوہدری اصغر علی گجر نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پیغام جاری کرکے ورکروں کے جوش کو سرد موسم میں گرما دیا،
تحریک انصاف سے وابستگی کی پاداش میں امیدواروں کے ساتھ ساتھ ورکرز اور ووٹرز کو ریاستی فسطائیت کا نشانہ بنانے کا مقصد مقبول ترین جماعت کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھ کر اقتدار کی ڈور ایک قومی مجرم کے حوالے کرنا ہے. ریاستی سرپرستی میں متعارف کرائے جانے والے“لاڈلوں ”کا ہر پراجیکٹ ناکام ہوتا دیکھ کرمنصوبہ ساز شدید خوف و ہراس اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں.انتخابات کا اعلان ہوا تو  انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کی فراہمی سے انکارکیا گیا،جو کہ ایک غیر جمہوری عمل اور دستور اور الیکشن ایکٹ کی صریح خلاف ورزی تھی.ریاستی جبر، ظلم اور فسطائیت سے نہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کے حوصلے پست ہوں گے اور نہ ہی آئینی حقوق کی جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے.کیونکہ گزشتہ روز لدھانہ کے انتخابی جلسہ میں ورکرز اور عوام خوف کے بتوں کو توڑ کر جلسہ میں آئے 
۔عجیب جبر کا موسم چل رہا ہے، زبردستی پارٹی تبدیل کروانے، پریس کانفرنسز کروانے کے تماشے، 3 ایم پی او کے تحت سینکڑوں لوگوں بشمول عہدیداران و قائدین کو اذیت ناک انداز میں جیلوں میں ٹھونسنے، خواتین کو گرفتار کرکے بھونڈے انداز میں گھروں سے لے جانے، چادر و چار دیواری کا تقدس پائمال کرتے ہوئے بلا وارنٹ و خواتین پولیس کی عدم موجودگی میں گھروں پر پولیس چھاپے، گھروں میں مطلوبہ بندے کی عدم موجودگی میں گھر کے مہمانوں تک کو اٹھا لے جانے، گھروں میں موجود نقدی و قیمتی سامان کے اٹھا لے جانے کی بیسیوں فوٹیجز جبکہ سینکڑوں شکایات دیکھنے، سننے کو ملی ہیں۔ یہ جبر کا ایسا موسم ہے، جسے اس سے قبل نہ دیکھا گیا تھا، اکا دکا واقعات تو ہر دور میں ہوتے رہے ہیں، مگر اس طرح منظم انداز میں جبر کی مہم ایک ہی پارٹی اور اس کے ہمدردوں و عہدیداران کے خلاف پہلی بار دیکھا جا رہا ہے، اس وقت چونکہ پی ٹی آئی ایک طرف، جبکہ اسٹیبلشمنٹ، مقتدر قوتیں، حکمران اتحاد، میڈیا، اینکرز دوسری جانب واضح طور پر کھڑے دیکھے جا رہے ہیں تو یہ سب کچھ کسی اندھے کیلئے بھی واضح ہے کہ فقط ایک ہی پارٹی اور اس کی قیادت ہی سب تیروں کا نشانہ ہیں۔
ر مظفر رزمی کی زبانی یہ سبق بہت پہلے پڑھا تھا کہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
غیر مرئی، غیر منتخب، غیر دستوری قوتوں کو جتنی چھوٹ آپ نے آج دی ہے، یہ چند لمحے کی خوشی و مسرت کا ساماں کر دیں گے، مگر مستقبل کیلئے جتنا خطرناک اور شرمناک ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ مت بھولیں کہ یہ سیاہ تاریخ کے ابواب جو رقم کئے جا رہے ہیں، جو فسطائیت کے منظر دیکھے جا رہے ہیں، یہ زود گزر ہیں، تلخ ہیں مگر ایسے میں ہی مردوں کے جوہر کھلتے ہیں، وفاؤں کی داستانیں، جرات کی کہانیاں، استقامت کے کوہ گراں، ظلم کے مقابل چٹان بن کر کھڑے ہونے والے کردار بھی نکھرتے ہیں، ان کے چہروں پر پڑی گرد چھٹ جاتی ہے تو ان کی پہچان ہونے لگتی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز