گھر جاتے ہوئے ہم دونوں خاموش تھے۔ چپ چاپ گمُ سُم۔ کیا کریں؟ صبح شام کام کیسے کریں گے۔ ساتھ میں حمل۔ نئی نئی شادی۔ رہنے کے لیے تیسری منزل پہ بنا ایک کمرہ۔ لیکن تنخواہ دس ہزار، رہائش اور بلز فری۔ کتنی جلدی پیسے جمع ہو جائیں گے۔ کیا کریں؟ کیا کریں؟ امی سے پوچھیں کہ ابا سے؟ یا پھر آپا سے؟
اور کام؟ گائنی میں محض چھ ماہ ہاؤس جاب کیا ہے۔ گائنی کا ابتدائی کام وہ بھی کسی کی نگرانی میں۔ اور اب اکیلے یہ سب کچھ؟ چلو نارمل ڈلیوری تو کروا لیں گے چھوٹے آپریشن کے ساتھ، بچے دانی کی صفائی بھی اگر بچہ ضائع ہو جائے تو۔ مریضوں کا معائنہ اور ابتدائی تشخیص۔ لیکن اگر کہیں اس سے آگے بات چلی گئی تو؟ ریفر کر دینا بھئی۔ کیا مالکان ریفر کرنے دیں گے ہمیں؟ لیکن ہم نے انٹرویو میں تو بتا دیا ہے کہ کسی ایسے مریض کو نہیں دیکھیں گے جس کے متعلق ہمیں شک ہو کہ بساط سے باہر ہے۔
لاہور گنگا رام ہسپتال میں ہاؤس جاب کرتے ہوئے ہم بے شمار ایسے مریض دیکھ چکے تھے جنہیں مضافات میں بنے پرائیویٹ ہسپتال موت کی دہلیز پر پہنچا کر بڑے ہسپتال کو ریفر کرتے۔ ان میں سے کچھ بے چاریاں ہسپتال کے دروازے پر دم توڑتیں اور بہت سی آپریشن تھیٹر کی میز پر لیٹ کر زندگی کی بازی ہار جاتیں۔ مسئلہ ایک ہی تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال بزنس کے اصولوں پر چلتا ہے، خدمت کے نہیں۔
مریض کی جیب سے پیسہ نکلے گا تو ہسپتال کے بجلی، پانی، اور گیس کے بل دیے جائیں گے، سٹاف کی تنخواہیں نکالی جائیں گی، بلڈنگ کا کرایہ جائے گا۔ سو اس سب میں وہ ہسپتال ہسپتال نہیں رہتا ایسی مارکیٹ بن جاتا ہے جہاں کا مالک نہیں چاہتا کہ آیا ہوا گاہک کہیں اور جائے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مارکیٹ اور ہسپتال میں کیا فرق ہے؟ ارے بھائی اگر ہر صورت میں گاہک گھیرنا ہے تو سبزی بیچ لو، کپڑے کی دکان ڈال لو، گوشت کا کاروبار کر لو مگر انسانی جان کا کھیل مت کھیلو۔ جو کام نہیں آتا، اسے پیسے کے لالچ میں کر کے لوگوں کو قتل مت کرو۔ پھر کیا کریں؟ کیا کریں؟ کیا ہم ایسی ہی کسی مارکیٹ کا حصہ بنے جا رہے تھے۔
صاحب سوچ رہے تھے۔ مشکل نوکری ہے بھئی۔ اور رہائش تو بہت ہی تھرڈ کلاس ہے۔ کیسے ملیں گے اپنے ساتھ والوں سے؟ اور اگر کبھی کمانڈنگ افسر کو بلانا پڑ گیا تو؟ کہاں بٹھائیں گے؟ کیسے تیسری منزل تک لے جائیں گے؟ میں صبح صبح کپتان کا یونی فارم پہن کر یہاں سے کیسے جاؤں گا؟ لیکن تنخواہ بہت پرکشش ہے۔
گھر جا کر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ساتھ کہا۔ کیا سوچا؟ کیا سوچا؟ دیکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں۔ ہمیں علم تھا کہ پوچھنے پہ ابا کاجواب ہو گا۔ جیسے تمہاری مرضی۔ امی کہیں گی۔ بھئی مجھے کیا پتہ نوکری چاکری کا بس اپنی طبیعت دیکھ لو۔ آپا کہیں گی۔ ابھی ہاتھ کے ہاتھ گاڑی لینے کا کوئی اور طریقہ نہیں۔
کیا کریں؟ کیا کریں؟ چلو کسی اور سے پوچھتے ہوں جو پوری تصویر دیکھ کر مشورہ دے سکے۔ ہماری قریبی سہیلی کی امی جہلم رہتی تھیں۔ پہنچ گئے ہم مشورہ لینے۔ جہاں دیدہ عورت تھیں۔ پوری بات سن کر کچھ دیر چپ رہیں۔ پھر کہنے لگیں۔ بیٹی پہلی بات یہ کہ ابھی تک تم نے گرہستی کا آغاز نہیں کیا۔ تمہارے اور شوہر کے درمیان ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو کُھلا نہیں اور جب کُھلے گا تب پیچیدگی سمجھ آئے گی اور حل کیا جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ پھر تم ماں بننے والی ہو۔ اس حالت میں اتنی بڑی ذمے داری؟ صبح شام رات کام۔ تیسری بات یہ کہ یہ جو دونوں فریقین میں کم یا زیادہ پیسے کے معاملات ہوتے ہیں نا یہ بڑے گنجلک ہوتے ہیں۔ تمہاری تنخواہ۔ شوہر کی تنخواہ۔ ابھی سے اپنے آپ کو اس میں مت اُلجھاؤ۔
ہم نے سنا اور ایک بلند قہقہے کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اُڑا دیا۔ ارے خالہ جی۔ فارغ رہنے کی کہاں عادت ہے ہمیں؟ پڑھائی، کام، پڑھائی، کام۔ اور جیسے باقی سب کام کیے ہیں ویسے حمل بھی چلا ہی لیں گے چلتے پھرتے۔
دیکھیں نا گاڑی لینی ہے مجھے۔ بچے کے ساتھ ٹیکسی ویگن میں سفر کرنا کتنا مشکل ہو گا؟ کتنے ماہ کی تنخواہ کافی ہو گی؟ آٹھ ماہ؟ اسی ہزار روپے۔ رہائش مفت میں دے رہے ہیں۔ بجلی پانی کا خرچ بھی نہیں۔ کتنے مہینے کی تنخواہ جوڑنی ہو گی۔ نومبر، دسمبر، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، مئی۔ یہ ہوئے سات مہینے، مئی سے پہلے گاڑی لینی چاہیے، ڈلیوری مئی میں ہے نا۔ لیکن سات مہینوں کی تنخواہ بنے گی ستر ہزار۔ چلو ستر ہزار والی لے لیں گے، بھلے کچھ زیادہ پرانی ہو۔ چلے گی تو سہی۔ چلتی کا نام گاڑی۔ رہی تنخواہ؟ تو کوئی مسئلہ نہیں ایک اکاؤنٹ میں جمع کریں گے اور گھر کا خرچہ بھی اسی میں سے کریں گے۔ جب ستر اسی ہزار ہو گئے تو نکلوا کر گاڑی لے لیں گے۔ سات آٹھ ماہ کی تو بات ہے بس۔
(یاد رہے کہ سونا ساڑھے تین ہزار روپے تولہ تھا اور ڈاکٹر کی سرکاری تنخواہ اٹھائیس سو روپے تھی)
اور وہ جو آپ نے کہا نا کہ بہت کچھ کھلا نہیں۔ کھلنا تو ہے ہی پنڈورا باکس جلد یا بدیر۔ جب بھی کھلے بھگتنا تو ہو گا۔ انہوں نے ایک نظر ہماری طرف دیکھا اور کہا۔ تم کہاں مانو گی جب تک خود آزما نہ لو؟ ہم ہنس دیے۔
ہم ستر اسی فیصد راضی ہو چکے تھے اب صاحب سے بات کرنا تھی۔ مجھے اجازت لینی پڑے گی منگلا کینٹ سے باہر رہنے کی۔ لے لیجیے گا۔ افسران بالا کو کیا اعتراض ہو گا بھلا؟ ہمارا جواب۔ صبح دفتر کیسے جاؤں گا؟ دفتر کا پک اینڈ ڈراپ۔ بیٹ مین میرا یونی فارم کہاں تیار کرے گا اور جو بکسے سوٹ کیس وغیرہ ہیں وہ کہاں رکھیں گے؟ میں ان سے پوچھ چکی ہوں۔ بغل میں ایک چھوٹا سا سٹور نما کمرہ ہے۔ وہ ہمیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ مہمان آئے تو کہاں بٹھائیں گے؟ دیکھیں ہم اپنے کمرے کو سٹوڈیو اپارٹمنٹ کی طرح سجائیں گے۔ ایک کونے میں بیڈ، دوسرے کونے میں صوفہ وغیرہ۔ ٹی وی کہاں رکھیں گے؟ سولہ انچ کا تو ہے۔ کسی کونے میں رکھ لیں گے۔ کھانا کہاں کھائیں گے؟ اپنے سٹوڈیو اپارٹمنٹ میں۔ کپڑے کہاں دھلیں گے؟ آپ کے دھوبی کے پاس۔ میں کر لوں گی کوئی انتظام اپنے لیے۔ ساتھ کے کمرے میں نرسیں رہتی ہیں، کچھ عجیب سا لگے گا؟ کیوں لگے گا عجیب؟ ہمارے جیسی انسان ہیں۔ ہم کسی کلاس سسٹم پہ یقین نہیں کرتے۔ باہر کچھ دیہاتی سا علاقہ ہے۔ پھر ویگنوں کا اڈہ۔ کیسے نکلو گی باہر؟ جیسے ابھی نکلتے ہیں اور ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کسی بھی علاقے سے۔ ہمارے اور آپ کے اماں ابا بھی دیہات سے ہی تھے۔
ہماری ایڈوینچرس طبیعت جوش میں آ چکی تھی اور ہم میڈیکل کالج کی کلاس سے دیہی علاقے کی کلاس میں کودنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ نئی نئی شادی، حمل، منگلا کینٹ کا بنگلہ، ڈنر پارٹیاں۔ ہم سب کو طاق پہ رکھ چکے تھے۔
چلو چلو دینہ چلو!
( اس وقت کا شافی ہسپتال اب فیملی ہسپتال بن چکا ہے۔ شافی ہسپتال کی بلڈنگ نئی بن چکی ہے۔ ہم نے پرانی بلڈنگ میں کام شروع کیا تھا )