پیٹرولیم کمپنی کا پاکستان سے انخلا 197

پیٹرولیم کمپنی کا پاکستان سے انخلا

14 جون کو ہونے والی بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ میں شیل پاکستان نے اپنے تمام 77 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے خط نے سوشل میڈیا میں پاکستان میں شیل کے کاروبار کو بند کرنے کا تاثر دیا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث دنیا کی دوسری سب سے بڑی آئل کمپنی شیل، پاکستان میں اپنا 75 سالہ کاروبار بند کررہی ہے حالانکہ شیل پاکستان کے مطابق کمپنی صرف اپنے شیئرز نئے سرمایہ کاروں کو فروخت کرے گی جس سے موجودہ بزنس آپریشن متاثر نہیں ہوگا، پیٹرول پمپس بند نہیں ہوں گے اور جو نئی کمپنی شیئرز خریدے گی، وہ ریٹیل بزنس کو جاری رکھے گی لیکن یہ فیصلہ معاہدے میں طے پائے گا کہ پیٹرول پمپس شیئرز خریدنے والی کمپنی اپنے نام سے چلائے گی یا شیل کے نام سے جاری رکھے گی۔

شیل کمپنی کی جانب سے شیئرز فروخت کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے لوگ شیل پاکستان کے انخلا کو موجودہ معاشی حالات سے جوڑ رہے ہیں جس میں کوئی حقیقت نہیں۔ اس سلسلے میں، میں مختلف معاشی ماہرین سے گفتگو اور شیل پاکستان کا آفیشل بیان قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ شیل پیٹرولیم نے 6 جون 2023 کو یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے منافع میں کمی کے باعث برطانیہ، نیدرلینڈ اور جرمنی میں اپنے توانائی کے شعبے سے جڑے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شیل پیٹرولیم کے سی ای او Ben Van Beurden نے روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کی انرجی مارکیٹ سے شیل کے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، پیٹرول پمپس اور لبریکنٹ بزنس فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور روسی مارکیٹ سے مرحلہ وار نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ فیصلے کے چند روز بعد شیل انٹرنیشنل نے پاکستان میں بھی اپنے شیئرز فروخت کرنے کا اعلان کیا جس کا تعلق پاکستان کے معاشی حالات سے نہیں اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں محض پروپیگنڈہ ہیں۔ شیل پیٹرولیم اقوام متحدہ کے اہداف کے مطابق کاربن کے اخراج میں کمی کیلئے متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کررہی ہے جس کیلئے شیل نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی ریفائنریاں فروخت کی ہیں تاکہ ’’کلین انرجی‘‘ کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔ شیل نے 2021 میں نائیجریا کی انرجی مارکیٹ میں بھی اپنی سرمایہ ختم کی تھی جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملی تھی۔ شیل، پاکستان میں بھی اپنا کاروبار محدود کرکے دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جو اس کی پالیسی کا ایک حصہ ہے اور وہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں اس پر عملدرآمد کررہی ہے۔

قارئین! رائل ڈچ شیل برطانیہ کی سب سے بڑی آئل کمپنی BG گروپ کو 53 ارب ڈالر میں خریدنے کے بعد سعودی آرامکو کے بعد دنیا کی دوسری بڑی آئل کمپنی شمار کی جاتی ہے جبکہ Exxon اور Mobil کا شمار بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہوتا ہے۔ شیل انٹرنیشنل کی پوری دنیا میں 13 آئل کمپنیاں اور 70 ممالک میں 40,000 پیٹرول پمپس اور آئل تنصیبات ہیں جن سے 90,000 افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ برصغیر میں شیل 100 سال سے زائد اور پاکستان میں گزشتہ 75 سال سے اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ شیل، پاکستان میں پانچویں بڑی آئل کمپنی ہے جس کے ملک کے تقریباً تمام شہروں میں 641 پیٹرول پمپس موجود ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 1970 میں ہم شیل کو پاکستان برما شیل (PBS) کے نام سے جانتے تھے جو 2001میں شیل پاکستان بنا۔ شیل اپنے شیئرز اس وقت فروخت کررہی ہے جب پاکستان اسٹاک مارکیٹ دبائو کا شکار ہے اور شیل کا شیئر 96 روپے پر ٹریڈ ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شیل کی موجودہ ویلیو ایشن 40 ارب روپے ہے، جس کے حساب سے شیل کے شیئر کی ویلیو 186 روپے فی شیئر بنتی ہے۔ شیل کے پاک عرب پائپ لائن کمپنی میں بھی 26 فیصد شیئرز ہیں جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں آئل سپلائی کرتی ہے ۔ پاکستان میں شیل کا سالانہ ٹرن اوور 430 ارب روپے (1.5 ارب ڈالر) ہے لیکن 2023 کی پہلی سہ ماہی میں شیل نے گزشتہ سال 2 ارب روپے منافع حاصل کیا تھا جبکہ اس سال اِسی دورانئے میں4.6 ارب روپے کا خسارہ کیا ہے جس کی وجوہات روپے کی غیر معمولی ڈی ویلیو ایشن، ریکارڈ افراط زر اور بلند شرح سود ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ شیل پیٹرولیم لمیٹڈ (SPL) دنیا کی چھوٹی اور رسک والی مارکیٹوں سے نکل رہی ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے اور وہ تیل کی دریافت اور پیداوار کے شعبوں کو زیادہ فوکس کرنا چاہتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں مستقبل قریب میں یورپ سمیت 5 سے 10 ممالک میں اپنی کمپنیوں کے شیئرز فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان کی ایک اور آئل کمپنی حیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ (HASCOL) بھی فروخت کیلئے مارکیٹ میں موجود ہے لیکن اس کی فروخت کا سبب کمپنی کی مالی مشکلات ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں، بلند شرح سود، ریکارڈ افراط زر، متبادل توانائی کا فروغ، مستقبل قریب میں الیکٹرک گاڑیوں پر انحصار، جنگوں سے تیل اور گیس کی ترسیل میں پابندیوں اور مالی نقصانات نے دنیا بھر میں روایتی آئل مارکیٹوں کو بری طرح متاثر کیا ہے ،جس کے باعث بین الاقوامی آئل کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری متبادل منصوبوں میں منتقل کررہی ہیں اور شیل پاکستان کا انخلا بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کرم سے میں حج کی سعادت کیلئے اپنے بھائی اشتیاق بیگ کے ہمراہ سعودی عرب آیا ہوا ہوں اور ہم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے خصوصی طور پردعا گو ہیں۔

بشکریہ ہم سب