پہلے احتساب۔۔۔۔پھرانتخاب 205

پہلے احتساب۔۔۔۔پھرانتخاب

گلے میں نیاپٹہ ڈالنے اورایک پریس کانفرنس کرنے سے سیاسی گناہ تومعاف ہوسکتے ہوں گے لیکن قومی گناہ نہیں۔2018میں بھی ایک شخص نے ہرچھوٹے بڑے سیاسی چوراورڈاکو کے گلے میں پٹہ ڈال کران کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے تھے۔پتہ ہے ان قومی گناہ گاروں کے صغیرہ اورکبیرہ گناہ معاف کرنے سے ملک وقوم پرپھرکیاگزری یااب کیاگزررہی ہے۔؟گلے میں رنگ برنگے پٹے ڈالنے والے توپٹے ڈالتے ہی ہرقسم کے گناہوں سے پاک ہوگئے لیکن ان پٹوں کی قیمت آج بھی قوم چکارہی ہے۔2018کے بعدیہ غریب جو ایک ایک وقت کی روٹی کے لئے تڑپ اورترس رہے ہیں۔آٹا،چینی،دال،چاول،بجلی اورگیس کی قیمتیں جومسلسل عوام کی دسترس سے باہرہوتی جارہی ہے یہ اصل میں انہی پٹوں و گناہوں کی قیمت توہے۔آپ کوکیالگتاہے کہ عوام کے ناتواں کندھوں پرمہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے یہ جوپہاڑلادے گئے ہیں کیایہ عوام کے کوئی اپنے گناہ ہے۔؟نہیں نہیں۔عوام کاواحدگناہ تواس ملک میں پیداہوکرآنکھیں کھولناہے اس کے علاوہ توان کاکوئی گناہ نہیں۔یہ بے چارے تو75سال سے ایک پریس کانفرنس اورنئے پٹے کے ذریعے فرشتے بننے والے ان سیاسی فرشتوں کے گناہوں کامفت میں بوجھ اٹھااور کفارہ اداکررہے ہیں۔کپتان کے اقتدار سے پہلے جن سیاسی فرشتوں نے نوازاورزرداری سمیت سابقہ ادوارمیں ملک کوخالہ جی کاگھرسمجھ کرلوٹا،کپتان نے اقتدارمیں آکران کے گلے میں وہ پٹے ڈالے جن سے نہ صرف ان کے سارے گناہ معاف ہوگئے بلکہ انہیں ایمانداری اوردیانت داری کے خصوصی سرٹیفکیٹ بھی جاری کئے گئے تاکہ یہ فرشتے ملک وقوم کی خدمت جاری رکھ سکیں اورپھردنیانے دیکھاکہ ان سرٹیفائیڈ ایمانداروں نے لوٹ ماراورکرپشن کے ذریعے ایمانداری اوردیانتداری کاایساحق اداکیاکہ معیشت کیا۔؟پوراملک ہی جھولنے لگا۔کپتان کی حکمرانی میں جن سیاسی چوروں اورڈاکوؤں نے لوٹ مارکے ذریعے ملک وقوم کابیڑہ غرق کیا اب ان کے گناہ بخشوانے کے لئے ان کے گلے میں نئے نئے پٹے ڈالے جارہے ہیں،ایک پریس کانفرنس کے ذریعے قومی مجرموں کا،،محرم،،بننے کاسلسلہ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ گلے میں نیاپٹہ ڈالنے یاایک پریس کانفرنس کرنے سے کیاقوم کے مجرم،،محرم،،بن سکتے ہیں۔؟ یہ توقوم کو لوٹنے اورملک تباہ کرنے کابڑاآسان طریقہ ہے کہ ایک حکومت میں خوب لوٹ مارکرکے نئی حکومت میں نئے پٹے اورنئی پریس کانفرنس کے ذریعے پھرسے شمولیت اختیارکرلیں توپچھلے گناہ آٹومیٹک معاف ہوجائیں گے۔کیادنیاکے ترقی یافتہ ممالک یامہذب معاشروں میں ایساہوتاہے۔؟ہمارے لیڈراورسیاستدان مثالیں امریکہ،برطانیہ اورچائنہ کی دیتے ہیں لیکن کام۔؟چوروں اورڈاکوؤں کی پیداواربڑھانے کی کرتے ہیں۔کیاامریکہ،چین یابرطانیہ میں سیاسی وابستگیوں پراگلے پچھلے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔؟یاسابقہ پارٹی اورلیڈرکاساتھ نہ چھوڑنے پرنت نئے مقدمات قائم اورناکردہ گناہ کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔؟آپ کویادہوگانوازاورزرداری دورکے اصل گنہگاروں نے پی ٹی آئی کے پٹے جب گلے میں ڈالے تو کپتان کے ہاتھوں پھرانہی گنہگاروں کوایمانداری اورامانت داری کے سرٹیفکیٹ جاری ہوئے۔ اب وہی گنہگارتحریک انصاف کے پٹے گلے سے اتارپھینک رہے ہیں تووہ پھرسے فرشتے اوربے گناہ ٹھہررہے ہیں۔کل کویہی گنہگاراورقومی مجرم کسی نئے لیڈرکوبھگوان اورقوم کامسیحاکہہ کرجب نئے پٹے گلے میں ڈالیں گے تو بھی یہ پھراسی طرح محترم ومقدم ٹھہریں گے۔سیاست کومنافقت میں تبدیل کرنے والے یہ لوٹے اورلٹیرے اگرواقعی محترم اورمقدم ہیں توپھراس ملک اورقوم کے اصل مجرم اورگنہگارکون ہیں۔؟اللہ گواہ ہے کہ قوم بے چاری تو 75سال سے ناکردہ گناہوں کی سزابھگت رہی ہے۔وہ جوگناہ اس قوم کے ہوتے بھی نہیں وہ بھی ان کے کھاتے اورگلے میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔ایک ایک سیاستدان گلے میں پی ٹی آئی،ن لیگ،پیپلزپارٹی یاکسی اورپارٹی کے پٹے ڈال کرآتاہے اورپھرمسلسل چارپانچ سال تک اس ملک وقوم کودیمک کی طرح چاٹتے اورکاٹتے رہتا ہے۔ اقتدارکاسورج غروب ہونے کے بعدیہ سارے سیاستدان تونئے پٹے کی تلاش میں غائب ہوجاتے ہیں لیکن پیچھے ان کے ان چارپانچ سالہ جرائم اورگناہوں کی قیمت پھرقوم کوچکانی پڑتی ہے۔ یہ قوم آخر کب تک ناکردہ گناہوں کابوجھ اٹھاکرمہنگائی،غربت اوربیروزگاری کی صورت میں کفاروں پرکفارے اداکرے گی۔۔؟آج قوم معیشت کی لاش کندھوں پراٹھائے اس میں پھرسے جان پڑنے کے لئے مہنگائی،غربت،بیروزگاری،بھوک،افلاس اورفاقے برداشت کرنے کے ساتھ یہ جودعاؤں پردعائیں اورمنتیں مانگ رہی ہیں آپ کیاسمجھتے ہیں کہ معیشت کی یہ حالت ملک یاقوم کی وجہ سے ہوئی۔؟نہیں جناب نہیں۔انہی مفادپرست اورموقع پرست سیاستدانوں نے معیشت کایہ حال کیا۔ان ظالموں کواگرروکانہ گیاتویہ ملک اورقوم کابھی یہی حال کردیں گے جوحال انہوں نے ملک کی ترقی اورمعیشت کاکیاہے۔اس قوم اورملک کے ساتھ ظلم اورڈرامے بہت ہوئے اب یہ سلسلہ بندہوناچاہئیے۔جن جن لوگوں نے ہردورمیں پٹوں پرپٹے ڈالے، پریس کانفرنسز کئے یااپنے کالے گناہ چھپانے کے لئے کسی اورطریقے سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کیں ان کے انتخابات لڑنے اورسیاست کرنے پر پابندی لگاکران کاکڑاسے کڑااحتساب کیاجائے۔نہ صرف ایسے سیاستدانوں بلکہ ان کے پورے خاندان والوں کے نام بلیک لسٹ میں ڈال کران سے اگلے پچھلے سارے گناہوں کاکفارہ وصول کیاجائے۔جب تک ایسے قومی مجرموں اورلٹیروں کااحتساب نہیں ہوتاتب تک انتخابات انتخابات کھیلنے کاملک اورقوم کوکوئی فائدہ نہیں۔ترقی،خوشحالی اورمعیشت کاجنازہ یہ ظالم نکالیں۔قل،چالیسویں اوردعاؤں کااہتمام وانتظام پھرغریب عوام کریں۔مگر کیوں۔؟اب کی بارقل اورچالیسویں کابوجھ عوام پرڈالنے کے بجائے ان ظالموں کاجنازہ ہی نکالناہوگاتاکہ روزروزکے ان ماتموں سے عوام کی جان چھوٹ جائے

بشکریہ اردو کالمز