ہمیں نہیں معلوم کہ ا یران ،سعودیہ معاہدہ جو چین کی وساطت سے ہوا ،اس کے بعد اس والدہ کو قرار آگیا یانہیں جس کا اکلوتا لخت جگر مسلکی لڑائی کی بھینٹ چڑھ گیا تھا،چار بہنوں کے بھائی کا جرم یہ تھا کہ ان دنوں اس کا مسلک زیر عتاب تھا،راقم کے دوست کا کزن انتہائی تعلیم یافتہ اور اس حد تک محتاط کہ مجلس میں شرکت نہ کرتا مبادا نشانہ بن جائوں ،جاب کے علاوہ کم باہر جاتا کہ کسی اندھی گولی کا نشانہ نہ بن جائے،اس کے باوجود سر بازار مار دیا گیا کہ وہ مخالف فرقہ کا فرد تھا، اسکی موت کے لئے یہی ایک معیا رکافی تھا ۔
تصور میں لائیں کہ اسکی ماں اور بہنوں دیگر عزیزو ں پر اس دن کیا گزری ہوگی،ہمیں یاد ہے کہ ایک مجلس میں اندھا دھند فائرنگ ہوئی ، ایک سیاسی شخصیت جب انکی تعزیت کے آئی تو متاثرین کے دکھ سن کر کلیجہ منہ کو آتا تھا مرنے والوں میں شیر خوار بچے بھی تھے،کئی بہنوں کے اکلوتے بھائی فائرنگ کی زد میں آگئے ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنا مذہبی تہوار منا رہے تھے، شدید پہرے کے باوجود یہ سانحہ ہو گیا۔
آپ اس باپ کے جذبات کا اندازہ کر سکتے ہیں جس کے تینوں جواں بیٹے نماز فجر ادا کرنے مسجد میں گئے چند لمحوں بعد ہی کہرام مچ گیا کہ مسجد میں مخالف فرقہ نے برسٹ پھینکا اور نمازیوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل بن گئی،مسجد سے وضو کا پانی بہنے کی بجائے خون بہنے لگا۔
ذرا چشم تصور میں وہ عہد لائیں جب ہماری سرزمین پر دو برادر اسلامی ممالک کی جنگ لڑی گئی،اس کی نذ ر ہونے والے کتنے قیمتی انسان اِس وقت ابدی نیند سو رہے ہیں جب یہ ممالک ایک سپر پاور کی ثالثی میں معاہدہ کرنے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے جار ہے ہیں، مرنے والوں میں دو معروف فرقوں کے متعلقین تھے،ان کے لواحقین کس حال میں ہیں، یتیم ہونے والو ں کا کون پرسان حال ہے؟ بیوگان کا دکھ کون اٹھا رہا ہے، پہاڑ جیسی زندگی جیون ساتھی کے بغیر کیسے گذر رہی ہے، حالیہ معاہدہ کی شرائط میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔
یہ طرفہ تماشہ نہیں کہ صدیوں سے ساتھ رہنے ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک والوں کو مناظروں اور مباہلوں کے ذریعہ بتا جارہا تھا کہ ان میں سے ایک مومن نہیں رہا،کیا مذہبی اختلاف کوئی نئی بات تھی، کیا ہماری تاریخ ہمہ قسم کے اختلافی مسائل سے خالی چلی آرہی ہے۔ایسے مواقع پر اہل دانش کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ،اسکی کوئی ہدایت موجود نہیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
1979کاسال فرقہ واریت کے اعتبار سے بدترین دور تھا،ملکی اور غیر ملکی واقعات نے ریاستی پالیسی ہی تبدیل کر کے رکھ دی،وہ ملک جس کو امت کا امام سمجھا جاتا ہے وہ ہمسایہ ملک میں ا بھرتے انقلاب کی تاب نہ لاسکا ،اس کے بادشاہ کو اپنے پائوں سے اقتدار کا قالین ہٹتا محسوس ہوا تو اس نے ایک آمر کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی جس کے زد میں سادہ لوح عوام تھے،اس کو ''اسلامائیزیشن پالیسی'' کا نام دیا گیا، کتنی مائوں کی گود اس تحریک نے اجاڑ دی،کتنے معصوم نوجوان اس کا ایندھن بنے، دونوں فرقے قانون سے بالا تر ہو کر اپنی طاقت آزماتے رہے،سیاسی مفادات کے لئے سرکار کو بلیک میل کرتے رہے،یہ سرکار سے بات کرتے تو ان کا رویہ کچھ اور ہوتا مگر منبر رسولۖ پر اپنا اپنا بیانیہ بدل لیتے۔
ُاُس دور کے اعدادو شماربتاتے ہیں کہ ریاست دہشت گرودں کے رحم و کرم پر تھی، بیرونی سرمایہ کاری تھم گئی ، سیاحت رک گئی تھی ، نیا سورج
کسی نہ کسی کی موت کا پیغام لے کر طلوع ہوتا تھا،کراچی کے ساحل سے لے کر پاراچنار تک امام بارگاہیں اور مساجد،محافل سب نشا نے پر
تھے،اس مشق نے غیر جانبدار شخص کو مذہب سے باغی کر دیا تھا یہ کوئی اسلام کی جنگ نہیں تھی دو ممالک کی'' پراکسی وار'' تھی جو اس بدقسمت زمین پر لڑی گئی تھی۔
اس کے اثرات ہمسایہ ملک پر پڑے،پہلے لسانی بعد ازاں مسلکی جنگ مسلط رہی اس میںِخون کی ہولی کھیلی گئی ،انکل سام کو اب کوئی غرض نہیں کہ افغانستان میں بیوگان کی کثیر تعدادکے دلوں پر کیا گذر رہی ہے، طالبان اور مخالف اتحادی انکے شوہروں کو ابدی نیند سلانے کی ذمہ داری قبول کریں گے، کل کے جہادی بیک جنبش قلم شدت پسندی کے مقام پر آن کھڑے کئے گئے ۔
کتنے انسانوں کا خون اس ریاضت میں کام آیا کوئی عالمی ادارہ اخلاقی طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں،بلاکوں میں بٹی عالمی برادری صرف اپنا مفاد دیکھتی ہے یہی تلخ حقیقت ہے۔
تاریخ کا سبق ہے کہ اپنے اپنے مسلک کا جھنڈا اٹھانے اور مخالفین کو موت کے منہ دھکیلنے والوں میں بہت کم ایسے تھے جنہیں طبی موت نصیب ہوئی،ان سب کو پش پشت ڈال کر ماضی کے دونوں حریف اُس ملک کی کاوش پر میز کی مذاکرات پر بیٹھنے کو تیار ہیں جس کا سرے سے کوئی مذہب نہیں، وہ انھیں ترقی کا راستہ دکھا رہا ہے خطہ میںدنیا کی امامت کا سہرا چین کے سرہے، اس نے انھیں سمجھایا ہے کہ لوگوں کو مسلک ،مذہب ،عقیدہ کی بنیاد پر مارنے کی بجائے ان پر سرمایہ کاری کرو۔چین نے معاشی طور پر مضبوط ہو کراب ایک عالمی طاقت کا روپ اِختیار کر لیا ہے جو تنازعات کو ایک طرف رکھ کرخالصتاً معاشی بنیادوں پر خطے کے ممالک کو جوڑنا چاہتا ہے۔
آنے والا ہی بتائے گا کہ اس سے کس کس کو کتنا معاشی فائدہ ہوتا ہے، لیکن دونوں اسلامی مماک کے سربراہان یمن،افغانستان، عراق میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل کا کوئی جواز پیش کر سکتے ہیں جو جنگی حملوں، بھوک،بیماری کے سبب اِس دنیا سے چلے گئے، سعودی فرمانروا نے ہتھیاروں کی خریدداری کے لئے ٹرمپ سے 110ارب ڈالر کا معاہدہ کرتے ہوئے یہ کیوں نہ سوچا کہ اپنی ہی امت کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔آج وہ سب لوگ کس مقام پر کھڑے ہیں جنہوں نے مسلکی تنازعات کو ہوا دے کراسلامی ممالک اُجاڑ دئے۔
علماء کرام ،مسلکی ورکرزکے پاس انسانوں کو مارنے کا عذر کیا تھا؟معاہدہ میں جانے سے پہلے دونوں اسلامی ممالک نے ایک دفعہ بھی اس پرندامت کا اظہا ر کیا،متاثرین کیلئے ایک لفظ بھی ہمدردی کا بولا ،مرنے والے گوشت پوست کے انسان تھے، یہ مٹی کے بت نہیں ،یہ کسی خاندان کے سپوت،بیٹے، بھائی،اور والدتھے،کسی ریاست کو کندھا پیش کرنے اور کسی کا آلہ کار بننے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے سے پہلے یہ تو سوچنا چاہئے کہ ان حالات میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں، انھیں یاد نہیں کہ ایک صحابی نے ایک کافر کو قتل کردیا ،معاملہ نبی مہربان ۖ کی عدالت میں پہنچا کسی نے شکایت کی اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا اس کے باوجود قتل کر دیا گیا، مارنے والے نے جواز پیش کیا کہ اس نے خوف سے کلمہ پڑھا آپۖ نے سرزنش کرتے ہوئے کہ تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا، مسلکی جنگ میں مرنے والے تو کئی دہائیوں سے ایک شہر، محلہ کے مقیم تھے،ان کے شب روز انکی عبادات کا پتہ دیتے تھے۔
احتیاط ملحوظ خاطر رہے، معاہدہ کا جشن مناکر ان لوگوں کے جذبات سے نہ کھیلا جائے،جو ان ممالک کی دشمنی کی آگ میں جل گئے ۔
معاہدہ امت کے لئے نیک شگون اور ایک پیغام رکھتا ہے ،کہ عوام کی تنگ دستی کو خوش حالی میں بدلنے کا جو فریضہ چین انجام دینے چلا ہے ،کاش اس کا شعور مسلم حکمرانوں کو ہوتا تو ہماری سرزمین کبھی بھی'' پراکسی وار'' کے لئے استعمال نہ ہوتی۔