پاک افغان سرحد پر کشیدگی، وجوہات اور حل 124

پاک افغان سرحد پر کشیدگی، وجوہات اور حل

    افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستانی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی عوام یہ سمجھنے لگے کہ شاید اب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آ جائے گی ۔ افغان طالبان کو چونکہ پاکستان دوست سمجھا جاتا تھا اور عوام یہ سمجھتے تھے کہ افغان طالبان پاکستان کے دوست ہیں اور پاکستانی طالبان پاکستان کے دشمن ہیں ۔ اس لیے یہ سمجھا جاتا تھا کہ شاید افغان طالبان سے برسر اقتدار آئیں گے تو عوام کی مشکلات کم ہو جائیں گی اور افغان طالبان پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ مل کر بہتری کے لیے کام کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہو جائیں گے اور پاکستان کی مغربی سرحد جو افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے وہ محفوظ ہوجائے گی وہاں سے دہشتگردوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بند ہوجائے گا ۔
     مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا جب افغان طالبان برسراقتدار آئے تو انہیں بہت سے مشکلات اور مسائل کا سامنا تھا۔ افغان طالبان برسراقتدار آئے تو افغانستان کے حالات نہایت دگرگوں تھے۔ افغانستان میں سیکورٹی کے حالات نہایت ابتر تھے اور اسی طرح معاشی حالت بھی بہت زیادہ خراب تھی جس کی وجہ سے افغان طالبان دیگر کسی مسئلے کی طرف توجہ نہیں دے سکے اور سب سے پہلے سکیورٹی کے حالات بہتر کرنے کی کوشش کی اور افغانستان سے دہشت گردوں اور دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔ افغانستان صنعتی ملک بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہاں پر کوئی ایسی خاص پیداوار ہے جو افغانستانوں کی کمائی کا ذریعہ بن سکے اس کے لئے ضروری تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارت ہو لیکن دنیا کے کسی ملک نے بھی افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ ابھی تک کسی ملک کے ساتھ نہ کھل کرتجارت کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان ابھی تک افغانستان کے معاشی حالات پر قابو نہیں پا سکے۔ انہوں نے اگرچہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کیں اور کافی حد تک دہشت گردی کا خاتمہ بھی کر دیا لیکن شاید انہوںنے تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گردوں کی لسٹ میں ڈالا ہی نہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ان کے خلاف کاروائی نہیں کی۔ تحریک طالبان پاکستان کئی حوالوںسے افغان طالبان کے دست و بازو بھی رہے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دیتے رہے یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان ان کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ نتیجتاً انہیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جس کی وجہ سے پاکستان حکومت بھی ان کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتی اور وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ۔
    پاکستانی حکومت نے کئی بار افغان حکومت سے رابطہ بھی کیا کہ وہ ان نام نہاد طالبان کے خلاف کارروائی کرے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرے اور بارڈر پر ان کی آمد و رفت کو اپنے بند کرے لیکن افغان طالبان نے کیونکہ دہشت گردوں کی فہرست میں انہیں شامل ہی نہیں کیا اس لیے انہوں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر اور وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستان کے اندرونی حالات بھی ان ہی کی وجہ سے انتہائی خراب ہیں ۔ اس کے علاوہ پاک افغان سرحد پر بھی افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے ، افغان فورسز وہاں سے بلا اشتعال فائرنگ کر رہی ہے جس سے پاکستان کے کئی شہری شہید ہوچکے ہیں اور کئی زخمی ہیں ، پاکستان کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔ 
    اب افغان سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے روکے لیکن شاید وہ اس کو سنجیدنہیں لے رہے جس کی وجہ سے حملوں کا یہ سلسلہ نہیں رہا۔ پاکستانی حکومت نے ان سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انہوںنے (بقول پاکستانی وزراء کے) معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا لیکن چند روز میں وہی واقعہ دوبارہ پیش آ جاتا ہے ۔ اب یا تو طالبان خود اس کو روکنا نہیں چاہ رہے ہیں یا اسے روکنا ان کے بس میں نہیں ہے ۔ دوسری بات کی تو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ انہیں روکنا ان کے بس میں نہیں ہے کیونکہ جب انہوں نے ملک کے اندر سے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کاوائیاں کر کے ان کی کمر توڑ ڈالی ہے تو پھر بارڈر پر کون سی ایسی طاقتیں ہیں جو ان پر حاوی ہیں ۔ پھر پہلی بات ہی درست ہو سکتی ہے کہ افغان طالبان پاکستان سے ناراضی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں کیوں کہ پاکستان نے طالبان کی حکومت کو گرانے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا وہ اس طرح کی امریکہ کو پاکستان سے راستہ فراہم کیا تھا جس کے ذریعے امریکہ افغانستان تک پہنچا اور افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کی حکومت کو ختم کر دیا اور یہ ناراضی تو افغان طالبان کی ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے افغان عوام بھی پاکستان سے ناراضی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ پاکستان میں آتے ہیں ، یہاں کھاتے پیتے ہیں ، رہتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی بھی کرتے ہیں اس کے باوجود پاکستان سے ناراض بھی رہتے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان نے اس کے بعد افغانستان کی بہت مدد بھی کی ، بالخصوص طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے ان کے لیے اجلاس بھی بلائے ان کے حق میں دنیا میں آواز بھی بلند کی اس کے باوجود وہ پاکستان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ۔ اگر وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے اور تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں جس کا مرکزی کردار تھا تو پاکستان نے تو اس کے مقابلے میں کچھ کیا ہی نہیں تو پھر پاکستان کے ساتھ ایسا سوتیلا پن کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ 
    مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے اپنے بھی اس کے اپنے نہیں ہیں اسے چاروں طرف سے مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اس کی کوئی سرحد محفوظ نہیں ہے ، ایک طرف بھارت ہے جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے جہاں سے تو خیر کی کوئی توقع ہی نہیں لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو دونوں اسلامی ممالک ہیں افغانستان اور ایران لیکن ان دونوں کی طرف سے بھی پاکستان کو کبھی کوئی خیر کی خبر نہیں ملی ۔ افغانستان سے بھی ہمیشہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے اور اور ایران کی طرف سے بھی دہشت گردوں کی آمدورفت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ، جسے ایران حکومت نے روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ اب یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ '' امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے '' کا نعرہ ترک کر کے سرحد پار سے کیے جانے والے تمام حملوں کا مؤثر جواب دے۔ اگر افغانستان کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں تو ان کا بھی موثر جواب دینا چاہئے بلکہ ان کے علاقے میں بھی جانا پڑے تو جا کر وہاں سے ان دہشت گردوں کو اکھاڑنے کی کوشش کرنی چاہیے افغان فورسز ہوں یا دہشت گرد جو پاکستان پر حملہ کر رہے ہیں انہیں کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہیے ۔ 
    زیادہ بہتر یہ ہے کہ پاکستانی اور افغان حکام کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ کسی طرح معاملہ افہام و تفہیم سے رفع دفع ہو جائے اور افغانستان طالبان کے دلوں میں اگر پاکستان کے بارے میں کوئی غبار ہے بھی تو اسے مل بیٹھ کر صاف کر لینا چاہیے تاکہ ان دونوں اسلامی ممالک کے درمیان کسی قسم کی جنگ کی صورتحال پیدا نہ ہو کیونکہ دونوں طرف مسلمان ہیں ۔ اس لئے آپس میں جنگ سے احتراز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ انہیںآپس میں مل بیٹھ کر تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے اور سرحد سے دہشت گردی کی بلااشتعال کوششوں کو ناکام بنانے اور ان کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے ۔ اگر اس کے بعد بھی افغانستان کی طرف سے بلااشتعال دہشتگردی ہوتی ہے تو پھر اس کا موثر جواب دینے کے لیے پاکستان کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور اس کا جواب بھی دینا چاہیے تاکہ کوئی اس سے ہماری کمزوری نہ سمجھے۔    ضیاء الرحمن ضیاء     www.ziarehman.com
 

بشکریہ اردو کالمز