نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ تو لاپتہ افراد کے تذکرے کو ملک کے خلاف سازش خیال کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں اب محض لوگ ہی لاپتہ نہیں ہوتے، اخبار میں شائع ہونے والے کالم، سوشل میڈیا پر کئے گئے تبصرے اور یہاں تک پارلیمنٹ سے منظور کئے گئے بل تک کھو جاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ جناب عرفان صدیقی صاحب نے اپنے کالم میں ’’بحیرہ انصاف‘‘ کی ’’برمودہ تکون‘‘ کاشکوہ تو کیا لیکن اس پراسرار مثلث کا ذکر کرنا شاید بھول گئے جہاں فوجداری قانون میں ترمیم کا بل گم ہو گیا۔
آپ کو یاد ہو گا سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں 26جولائی 2019ء کو عرفان صدیقی صاحب کو کرایہ داری کے ایک بوگس مقدمے میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں قید کر دیا گیا تھا۔ دراصل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی طرف سے کرایہ داری کے حوالے سے دفعہ 144کا اجرا کیا گیا تھا جس کی خلاف ورزی پر جناب عرفان صدیقی کو یوں حراست میں لیا گیا جیسے کسی خطرناک دہشتگرد کو تحویل میں لیا جا رہا ہو۔ بہر حال جناب عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگا کر اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا۔ وکلاء کے بھرپور دلائل کے باوجود یہ مقدمہ خارج کرنے یا ضمانت پر رہا کرنے کے بجائے خاتون اسسٹنٹ کمشنر نے 14دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔ انگریزوں کے دور میں بنائے ہوئے فوجداری قوانین کے تحت ڈپٹی کمشنر نے بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرایہ داری کا ضابطہ اخلاق جاری کیا جبکہ سکے ماتحت افسر یعنی اسسٹنٹ کمشنر نے بطور جوڈیشل مجسٹریٹ اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر فرمایا۔ چنانچہ اس ابتلا و آزمائش سے گزرنے کے بعد جناب عرفان صدیقی کو احساس ہوا کہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات ودیعت کرکے دراصل بندر کے ہاتھ ماچس تھما دی گئی ہے۔
دستور ِپاکستان کی دفعہ 175(3)میں واضح کیا گیا تھا کہ آئین نافذ ہونے کے بعد 3سال کے عرصہ میں عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کر دیا جائے گا۔ یہ کام نہ ہو سکا تو مہلت 3سال سے بڑھا کر 14برس کر دی گئی۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں 1987ء میں یہ توسیع شدہ مہلت بھی ختم ہو گئی تواعلیٰ عدلیہ کے حاضر سروس جج صاحبان کو وفاقی سیکریٹری قانون بنانے کی روایت ختم کرنا پڑی۔ بعد ازاں چاروں صوبوں میں انتظامیہ کو عدلیہ سے الگ کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی گئی اور ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کو حاصل عدالتی اختیارات واپس لے لئے گئے۔ مگر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صورتحال جوں کی توں رہی۔ آج بھی طاقتور ترین افسر شاہی کے نمائندے انتظامی اختیارات کے ساتھ ساتھ عدالتی اختیارات پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جب عرفان صدیقی صاحب ایوان بالا کے رُکن منتخب ہوئے تو انہوں نے سینیٹر رضا ربانی، فاروق نائیک، اعظم نذیر تارڑ اور دیگر ساتھیوں سے مشاورت کی اور عوامی مفاد میں ضابطہ فوجداری کو تبدیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جنوری 2022ء میں انہوں نے پرائیویٹ ممبر کے طور پر سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس کا عنوان تھا ’’The Code of Criminal procedure (amendment) Act 2022‘‘۔ اس ترمیمی بل میں انتظامیہ کو حاصل عدالتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔ وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کو اس بل پر کوئی اعتراض نہیں تاہم بہتر ہو گا کہ مزید غور کرنے کیلئے یہ مسودہ قانون متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ چیئرمین سینیٹ نے یہ بل امور داخلہ سے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز اس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ کمیٹی نے توثیق کر دی اور 23مئی 2022ء کو یہ بل سینیٹ سے منظور ہو گیا۔ 8جون کو یہ بل قومی اسمبلی سے بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ یوں تو آئین کی رو سے اس بل کو ایوان صدر بھجوانا اسپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وزیراعظم دفتر کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا مگر روایت یہ ہے کہ جس ایوان سے بل منظور ہو، وہاں سے وزیراعظم کے ذریعے ایوان صدر بھجوایا جاتا ہے۔ چنانچہ 21جون 2022ء کو یہ بل صدر مملکت کے پاس توثیق کے لئے بھجوا دیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ یہ ایک معمہ ہے۔ اگست 2022ء میں ایوان صدر کی طرف سے واضح کیا گیا کہ اس طرح کا کوئی مسودہ قانون موصول نہیں ہوا۔یہ کوئی عام چٹھی نہیں تھی ،ملک کے سب سے معتبر و مقدس ایوان کی طرف سے منظور کیا گیا مسودہ قانون تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی یا وزیر اعظم چاہتے تو دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے اس ترمیمی بل کی نقل ازسر نو ایوان صدر بھجوا دی جاتی لیکن لاپتہ افراد کی طرح اس گمشدہ بل پر بھی تجاہل اور تغافل کا رویہ اختیار کیا گیا۔ قومی اسمبلی تحلیل ہونے لگی تو سینیٹر عرفان صدیقی نے ایک بار پھر دہائی دی اور اسپیکر کو خط لکھ کر 14ماہ سے لاپتہ اس بل کا سراغ لگانے کا مطالبہ کیا۔ یادش بخیر، اسی ایوان نے جاتے جاتے توہین پارلیمنٹ کا قانون منظور کیا۔ کیا پارلیمنٹ کی اس سے بڑی توہین ہو سکتی ہے کہ افسر شاہی کے طاقتور ترین کارندے مجلس قانون ساز سے منظور کئے گئے مسودہ قانون کو ہی لاپتہ کر دیں؟ جہاں پارلیمنٹ کی میراث کھو جائے اور منتخب عوامی نمائندے گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کے بجائے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے خاموش ہوجائیں وہاں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کس قدربے معنی اور کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔