وقت اس کائنات کا سب سے بڑا معمہ ہے۔ وقت دراصل کیا ہے۔؟ کسی جگہ ظہور پذیر ہونے والے دو واقعات کے بیچ جو ہے اسے وقت کہا جاتا ہے۔یعنی سورج طلوع ہو رہا ہے ،اور سورج غروب ہو رہا ہے اس کے درمیاں کا عرصہ وقت ہے۔ آپ ابھی جواں ہیں، کچھ عرصے میں بوڑھے ہو جائیں گے۔ آپکی جوانی اور بڑھاپے کے بیچ جو ہے وہ دراصل وقت ہے۔کائنات ابھی بگ بینگ سے وجود میں آئیں اور اب یہاں کئی کہکشائیں ، ستارے، سیارے، زمین اور زندگی ہے، ان سب واقعات کے بیچ جو گزرا وہ وقت ہے۔
سائنس کے مطابق وقت بگ بینگ سے شروع ہوا۔ اُس سے پہلے وقت نہیں تھا کیونکہ کائنات بھی نہیں تھی۔ ایک نظر وقت کی مختلف کیفیات پر ڈالتے ہیں ۔۔۔
اگر آپ نے اسٹیفن ہاکنگ کا "مطالعہ" کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ پیدائشی ملحد نہیں تھا۔سٹیفن ہاکنگ 86 کتابوں کے مصنف ہیں، اس نے اسٹرونومی میں بہت کام کیا ہے، پھر وہ اللہ کے وجود کا انکار کرنے لگے، اس نے ایسا کیوں کیا؟ چونکہ سائنس کا کہنا ہے کہ وقت اور کائنات بگ بینگ کے بعد وجود میں آئے بلکہ وہ اپنی تحقیق کے دوران Atheist ہو گیا, سٹیفن ہاکنگ کو صرف ایک چیز نے ملحد بنادیا تھا اور وہ تھا وقت۔ اس پہلے کوئی وقت نہیں تھا،۔۔
اب وقت کائنات میں مختلف ہے ،بلیک ہولز پر مختلف جبکہ زمین پر وقت مختلف رفتار سے گزرے گا، چاند پر مختلف، مشتری پر مختلف اور سورج پر مختلف۔
اس کائنات کی ابتداء یعنی بگ بینگ Big bang جو کہ ابھی تک سب سے مضبوط تھیوری ہے۔ کہ مطابق 13.8 سے 15 ارب light years کا وقت گزر چکا ہے جبکہ اس کائنات کا پھیلاو یا سنائیں 93 بلین لائیٹ ائیر ہے۔۔ مطلب اگر آپ ماضی میں سفر کریں تو اس کائنات سے نکلنے کے لئے آپ کو روشنی کی رفتار سے سفر کرنے پر 14 ارب سال جبکہ کہیں اور سے یا اپنے موجودہ زمانے میں اس کائنات سے نکلنے میں 93 ارب روشنی کے سال ( نوری سال) درکار ہوں گے۔
مندرجہ بالا وقت کے مختلف مراحل اور ان کے ساتھ ہونے والے انسنانی تعلق کو ظاہر کرنے کا۔مقصد یہ ہے کہ جدید دنیا میں وقت کو سمجھنے اور اس کی گھتی کو سلجھانے کے لئے ہمیں ان جدید اصطلاحات کا سہارا لینا پڑے گا جو آج کی تعلیم یافتہ دنیا میں رائج ہیں۔ اب ہم اپنے مضمون کا رخ اسلام کی طرف موڑتے ہیں ۔ تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ اسلام وقت پر اظہار خیال کس طرح کرتا ہے۔۔
اسلام کا سب سے بڑا ماخذ قرآن مجید ہے۔جس کی تفہیم نبی کریمﷺکے افعال و اقوال سے ہوتی ہے۔۔ جنہیں ہم سنت یا احادیث کہتے ہیں۔۔ ہر نبی کو اللہ کریم نے معجزات عطا کئے جو ان کی زندگیوں میں ختم ہوئے یا ان کی رحلت کے بعد وہ۔معجزات نہیں رہے۔ لیکن نبی آخر الزماں، امام الانبیاء کا معجزہ قرآن مجید تا قیامت دنیاوی علوم کے لئے نئی راہیں ہموار کرتا رہے گا۔ لیکن اس کی شرط اجتہاد ہے۔یعنی عصری علوم کی روشنی میں قرآن مجید کا فہم۔۔
جب نبی کریمﷺ نےمعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کیا تو اس وقت آپ کریمﷺ خود حیات تھے۔ اور شام کی زبان عربی تھی ۔ اور زمانے کا تغیر بھی نہ تھا قرآن نازل ہو رہا تھا ایسا نہیں تھا کہ قران نازل ہوئے زمانے بیت گئے ہوں۔۔ لیکن پھر بھی آقاﷺنے حضرت معاذ کو اجتہاد کا حکم دیا۔ اجتہاد سے مراد کیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لئے قرآن مجید کی ایک آیت سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔
سورہ انفال کی آیت 60 ہے کہ
"اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا"
یہاں اگر قرآن کا لفظی معنی لئے جائیں تو اس بھی گھوڑے رکھنے ہوں گے۔ جو کہ اگر کروڑ بھی ہوں تو ایک بم سے ختم ہو جائیں گے۔۔ لہذا اس کا اجتہادی مطلب یوں ہے کہ ہر زمانے کے لحاظ سے بہترین فوجی قوت مہیا رکھئے جائے۔ جو کہ آج کل ایٹم بم یا بیالوجیکل ہتھیار ہین۔۔ جیسے ابھی کرونا وائرس۔۔
لہذا قرآن فہمی کے لئے جدید علم اور اصطلاحات بہت معاون ہیں۔۔
قرآن کا نظریہ وقت بہت وسیع ہے وہ اسٹیفن ہاکنگ کی طرح بگ بینگ پر رک نہیں جاتا۔۔ قرآن وقت کی ابتداء کو اللہ کی مرضی سے تخلیق کے ساتھ جوڑتا ہے بلکہ تخلیق اور فنا دونوں ہی وقت کے دو سرے ہیں۔۔۔
بگ بینگ big bang : وہ کائنات کی ابتداء کا دھماکہ جو پلانک سیکنڈ میں ہوا۔۔ اور اس سے بقول اسٹیفن ہاکنگ وقت کی ابتداء ہوئی اور اسٹیفن ہاکنگ کا پیمانہ چھلک گیا۔۔
جو ذرا سی پی کر بہک گیا
اسے میکدے سے نکال دو
دراصل اس بگ بینگ کے ہونے کا بھی وقت آگیا تھا لہذا یہ ہو گیا۔۔ وقت اس کائنات کا جو کہ سب سے کم ترین ہے شروع ہوا۔۔ یہ ایک مقررہ وقت پر ہوا۔۔ قرآن اس کائنات کو جو مادے سے بنی ہے ایک آیت سے تشریح فرماتا ہے۔۔
ترجمہ: اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیطانوں کو مارنے کے لیے آلہ بنا دیا ہے اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (الملک)
یعنی کائنات جسے ہم زمین سے دیکھتے ہیں یہ اسمان دنیا ہے جس پر جلتے ہوئے ستارے اور روشنیاں منعکس کرتے سیاروں کو چراغوں سے تشبیہ دی ۔ اور شیطانوں کے مارنے کا حوالہ اس لئے دیا کہ شیاطین اس کائنات کے کناروں سے چھٹے آسمان پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں شہاب ثاقب سے مار پڑتی ہے۔ اس آیت سے قبل کی آیت میں اللہ کریم نے سات آسمان بنانے کا ذکر فرمایا
ترجمہ: جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔ ( الملک 3)
اور ان سات آسمانوں کی تخلیق کے بعد" آسمان دنیا " فرمایا ۔دنیا نیچے کی چیز کو یا قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے۔۔ یعنی یہ آخری اور قریب ہے جس طرح آپ کسی علاقے کی جانب سفر کریں تو قریب ترین منزل جو اس سفر میں آئے اسی طرح سے آسمانوں کے سفر میں آسمان دنیا قریب کا آسمان یا نیچے کا آسمان کہلاتا ہے۔۔
ہم مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کائناتی ٹائم لائیں ہو یا انبیاء کرام کی ٹائم لائیں عیسائی مذہب سے مستعار لی ہے ۔۔ جس کے مطابق آدم علیہ السلام 8 ہزار سے 10 ہزار سال قبل تھے۔۔ ناجانے پھر 12 ہزار سال قبل زراعت کا انقلاب لانے والے کون تھے۔۔ خیر یہ ہمارا موضوع نہیں۔۔
اسلام آسمانوں کی تخلیق میں آسمان دنیا پر تبصرہ کرتے ہوئے یوں کہتا ہے۔
ترجمہ: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مسجد الحرام میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی آیت افضل ہے، جو آپ پر نازل ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیۃ الکرسی ہے۔“ (اللہ تعالیٰ کی اس وسیع) کرسی کے مقابلے میں سات آسمان اس طرح ہیں، جیسے بیابان زمین میں کوئی چھلا پڑا ہو اور پھر کرسی کے مقابلے میں (اللہ تعالیٰ کے) عرش کی ضخامت اس طرح ہے جیسے اس چھلے کے مقابلے میں بیابان کا وجود ہے۔“ (سلسلہ صحیحہ )
اسی طرح سورہ الملک کی دوسری آیت میں اللہ کریم موت اور حیات تخلیق کو آزمائش فرماتے ہیں ۔۔موت دراصل expiry ہے اور حیات manufacturing date.
ترجمہ : جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔ ( الملک)
اللہ کریم نے ارشاد فرمایا کہ ہر چیز جوڑے میں پیدا کی گئی سوائے رب کی ذات کے لہذا ہر تخلیق کا جوڑا اس کی تباہی یا موت ہے۔
حدیث نور میں رب تعالی بالکل ابتدائی ہستیوں کے بننے کا ذکر فرماتے ہیں ۔۔ جس میں لوح قلم کرسی اور عرش کی تخلیق ہے ۔۔ عرش کی تخلیق کے بعد زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
ترجمہ: کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟ ( الانبیاء )
اور پھر آسمانوں کے بننے کے ساتھ ساتھ ان کے جوڑے زمین بنتی گئیں ۔۔ حتکہ آسمان دنیا اور اس کی زمینیں بن گئیں۔۔ اور آسمان دنیا کا بننا بگ بینگ کے مرہون منت ہے۔
وقت کی تخلیق کا اندازہ ایسی سینکڑوں باتوں ،احادیث اور آیات سے لگایا جا سکتا جن میں موت اور زندگی ،اور تخلیق کا ذکر ہے۔ مثلا
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اسے فرمایا: لکھو ۔ چنانچہ قلم اسی وقت وہ سب کچھ لکھنے لگ گیا جو قیامت تک ہونا ہے“۔ اسی سے ثابت ہوا جب زندگی تخلیق ہوئی تو پھر اس کا اختتام چاہے انسان ہو ،کوئی جنس ہو یا زمین آسمان ہر ایک وقت کے پابند اللہ کریم نے خود فرمائے۔ یہ وقت اللہ کی مخلوق ہے ناکہ Big bang کے بعد پیدا ہوا اور اگر وقت خدا کی مخلوق ہے تو پھر اس کی موت بھی ہو گی۔۔ اور اس کی حدیث میں سند موجود ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : جب دوزخی دوزخ کو (اور جنتی جنت کو) جا چکیں گے تو موت کو لا کر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : اے اہل جنت (آئندہ) موت نہیں اور اے دوزخ والو ‘ آئندہ موت نہیں ‘ اس وقت جنت والوں کی مسرّت بالائے مسرت ہوگی اور دوزخیوں کا رنج بالائے رنج۔
یہاں کے بعد وقت ختم ہو جائے گا اب زندگی کی ابتداء اگر ہم مان لیں کہ قلم سے شروع ہوئی تو روشنی بھی زندہ ہوئی، اندھیرا بھی زندہ ہوا۔ آنکھوں کا دیکھنا زبان کا بولنا بھی ان کی زندگی ہے اور آنکھوں کا بے نور ہو جانا موت ،زبان کا کسی بندے کے زندگی میں رک جانا اس کی موت ہے۔ لہذا یہ کروڑوں اربوں اور لامتناہی زمانے سے شروع ہوئی اور نامعلوم اگلے لمحے،یا کروڑوں سال بعد قیامت کے آنے، یوم حشر کے 50 ہزار سال کے ایک دن ہونے کے بعد مینڈھے کی شکل میں وقت یا اختتام کا اختتام ہو جائے گا ،یاد رہے لمحہ ،سیکنڈ گھنٹہ ،دن سال ہرار سال ارب سال سب ہی وقت ہے۔۔۔۔ اور پھر نہ شروع ہو گا نہ اختتام ۔۔ لہذا وقت ختم ہو جائے گا ۔۔ وقت کا بچھڑے کی طرح جاندار ہو کر موت پانا ۔۔ ایک نہائت عجیب واقعہ ہے۔۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت خدا کی ایک مخلوق ہے اور رحمت العالمین کے زیر تسلط عالموں میں سے ایک عالم ہے۔ وقت اسی طرح رحمت کا طلبگار ہے اور اطیعو اللہ و اطیعو رسول کا پابند ،جیسے تمام عالمین ۔۔
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں