”مِٹّی پاؤ“ 465

”مِٹّی پاؤ“

جس سیلاب نے بالائی پنجاب کے خوش حال ترین شمار ہوئے علاقوں میں قیامت خیز تباہی پھیلائی ہے اس کے اسباب کا پیمرا کے لائسنس سے چلائی ٹی وی سکرینوں پر سنجیدگی سے ذکر نہیں ہو رہا۔ حق و صداقت کے علمبردار یوٹیوبر البتہ ”ذمہ داروں کی نشاندہی“ سے اپنی ہٹی چلا رہے ہیں۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ جن افراد یا اداروں کو حالیہ سیلاب کا حتمی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا وہ کبھی جوابدہی کے لئے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے یا نہیں۔ جان کی امان پاتے ہوئے اصرار کرتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ بطور قوم ہم بھول جانے کے عادی ہیں۔ ”مٹی پاؤ“ ہماری سرشت کا بنیادی وصف ہے۔

اتوار کی صبح گھر آئے اخبارات میں سے ایک انگریزی اخبار کا ہفتہ وار ضمیمہ دیکھا تو اس کے اندرونی صفحات پر ایک مضمون چھپا تھا۔ اس کے مطابق محمود غزنوی نے جب سلطنت چھینی تو پرانے بادشاہ کی لائبریری کے علاوہ ان لوگوں کو بھی ”اپنا“ لیا جو سابقہ بادشاہ کے لئے ”علمی“ کام کرتے تھے۔ جس تناظر کا بیان ہوا اسے ذہن میں رکھیں تو شاید پرانے دربار سے وابستہ حکماء یا ستارہ شناسوں کی نئے بادشاہوں کو بھی ضرورت تھی۔ محمود غزنوی نے مگر دربار کے سابق ”ملک الشعراء“ سمیت پرانے دربار کے تمام قصیدہ گوہ بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔ بادشاہت قصیدہ گو کے لکھے اشعار کے بغیر بے رونق رہتی ہے۔ پرانے بادشاہ کے سرکاری قصیدہ نویسوں نے محمود غزنوی کی شان میں طبع آزمائی شروع کردی ہوگی۔ محمود کی ”فیاضی“ کے قصے سن کر شاہ نامہ لکھنے والے فردوسی بھی ایران چھوڑ کر اس کے غزنی میں آ گئے۔ ان کو مگر مناسب ”ریٹ (Rate)“ نہ ملنے کا شکوہ رہا۔ شنید ہے کہ محمود کی ”کنجوسی“ سے اْکتا کر بھیس بدل کر اس کی سلطنت سے باہر نکل گئے تھے۔ چند راوی اگرچہ مصر ہیں کہ موصوف کو شاہی مخبروں نے سرحد پار کرنے سے روک دیا تھا۔

میں جس مضمون کا ذکر کر رہا ہوں اس میں البتہ پہلی بار جدید سائنسی آلات کے بغیر زمین کا قطر اپنے پوٹھوہار کی نندھنا پہاڑی پر بیٹھ کر ماپنے والے البیرونی کا ذکر بھی تھا۔ موصوف کا تعلق آج کے ازبکستان سے تھا۔ محمود غزنوی کے دربار سے وابستہ ہونا پسند نہ کیا۔ وہاں سے کھسک لئے تو شاہی مخبروں نے سراغ لگا لیا۔ جو مضمون پڑھا وہ یہ بتانے سے قاصر تھا کہ البیرونی نے زمین کا قطر محمود غزنوی کی غلامی میں ماپا تھا یا مذکورہ تاریخی واقعہ ان کی گمشدگی کے دوران ہوا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ محمود غزنوی کے چارج لینے سے قبل ہی اپنے پوٹھوہار کی پہاڑی تک (جو آج کے چوہا سیدن شاہ کے نہایت نزدیک ہے ) قطر ماپنے کی غرض سے براجمان ہوچکے ہوں۔ ان کی عدم حاضری مگر بادشاہ نے دانستہ عدم موجودگی تصور کی ہو۔

تاریخ کی بھول بھلیوں میں الجھ جانے کے بجائے جھٹ سے یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں کہ دورِ حاضر کی حکومتیں بھی نئے قصیدہ نویس ڈھونڈنے کے بجائے ”شرطیہ میٹھے“ قسم کے منشیوں پر اکتفا کو ترجیح دیتی ہیں۔ مجھ جاہل کی بدقسمتی رہی کہ اخبار نویسی کو اس صنف کے لئے استعمال کرنے کے ہنر سے محروم رہا۔ 1975ء سے عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے تک مسلسل قلم گھسیٹا اور ٹائپ رائٹر پر انگلیاں گھمائی ہیں۔ اس کے باوجود آج تک کسی بھی حکومت سے کوئی ایسا تمغہ نصیب نہیں ہو پایا جسے گلے میں لٹکا کر ”شاہ کا مصاحب“ ہونے کے گماں میں اِتراتا پھروں۔ دائمی بے ہنری نے ہمیشہ دربار سے دور رکھا۔ اس دوری کے باوجود ٹھوس مشاہدہ کی بدولت یہ بڑھک لگا سکتا ہوں کہ ”احتساب“ نام کی شے اس ملک کے نصیب میں نہیں۔

1980ء کی دہائی کے وسط سے لوڈشیڈنگ کے گھنٹے شروع ہوئے تھے۔ جب وہ شروع ہوئے تو اسلام آباد میں ”اندر کی خبر“ رکھنے کے دعوے دار یا اس حوالے سے مشہور افراد سرگوشیوں میں مجھے بتاتے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں شام کے اوقات میں بجلی اس شہر میں مقیم سفارت کاروں کو یہ پیغام دینے کے لئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بند کردی جاتی ہے کہ دنیا کو پیغام ملے کہ ایٹمی توانائی کے بغیر ہم بجلی پیدا نہیں کر پائیں گے۔ میرا جھکی ذہن اس دعویٰ کو جھٹلانے کے لئے کالا باغ ڈیم پر ہونے والے مباحث کا حوالہ دیتا تو طنزیہ مسکراہٹ سے بتایا جاتا کہ یہ مباحث ”سائیڈ شو“ ہیں۔ ایٹمی توانائی کا حصول ہی اصل ہدف ہے۔

1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت آئی تو آئی پی پی کا غلغلہ مچا۔ وہ قائم ہو گئے تو محترمہ کی حکومت آئینی مدت مکمل کیے بغیر ”فاروق بھائی“ کے ہاتھوں برطرف ہو گئی۔ نواز شریف صاحب دوسری بار وزیر اعظم ہاؤس لوٹے تو ان کے احتساب الرحمن نے بجلی پیدا کرنے والوں کو بلا استثنا کرپٹ قرار دے کر انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ 1998ء میں ربّ کریم کے فضل سے ہم نے دنیا کو ایٹمی قوت ہونا بھی ثابت کر دیا۔ نواز حکومت کی دوسری اور تیسری حکومت اس کے باوجود نجی سرمایہ کاری سے بجلی بنانے والوں کی حوصلہ افزائی میں مصروف رہی۔ بجلی کے حوالے سے ہماری اجتماعی ضروریات ابھی تک 25 ہزار میگا واٹس سے مزید نہیں بڑھیں۔ ہم مگر 40 ہزار سے زیادہ میگا واٹس پیدا کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سرمایہ داری کا کلیدی کلیہ طلب اور رسد کا رشتہ ہے۔ ہم مگر خود کو نامطلوب بجلی کی قیمت بھی معاہدوں کے اعتبار سے ادا کرنے کے پابند ہیں۔ سوال اٹھتے ہیں کہ طلب و رسد کے کلیدی اصول کو پامال کرنے والے یہ معاہدے کس نے کیے۔ ان کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ان کی شرائط پر ریگولر اور سوشل میڈیا میں کبھی تفصیل سے بحث ہوئی؟ میری دانست میں قومی اسمبلی اور سینٹ کی کمیٹیوں میں بھی اس موضوع پر تفصیلی مباحث نہیں ہوئے۔ افسران بالا نے بجلی پیدا کرنے والوں کے ساتھ بلاخوف و خطر معاہدوں پر دستخط کر دیے۔ ان کی وجہ سے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لئے ہم مہنگے داموں بجلی خریدنے کو مجبور کیے چلے جا رہے ہیں۔

اس غرض سے شمسی توانائی کا استعمال غالباً کچھ عرصے بعد ہمارے ہاں ”منشیات فروشی“ جیسا جرم قرار پا سکتا ہے۔ حکومت کا دْکھ ہے کہ ”نیشنل گرڈ“ سے بجلی خرید کر استعمال کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی واقعہ ہو رہی ہے۔ اس لئے شمسی توانائی جیسے منصوبوں کی سرکاری حوصلہ شکنی درکار ہے۔ ہمیں بطور قوم لہٰذا پتھر کے زمانے میں زندہ رہنے کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ سیلاب کے حوالے سے فقط لاہور کے تناظر میں عمران حکومت یا موجودہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ چند افراد کے نام لے کر انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کرنا اس امر کی ہرگز ضمانت نہیں دیتا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے موجودہ دور میں اگلا مون سون سیزن اس تباہی کا باعث نہیں ہو گا جو اب کی بار دیکھنے کو ملی ہے۔ حالیہ سیلاب کا سنجیدہ مطالعہ ہی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کن سیلابوں سے بچا سکتا ہے۔ سنجیدہ مطالعہ مگر قاری، سامع اور ناظر کو آپ کا لکھا یا پوسٹ کیا پیغام دوسروں سے شیئر کرنے کو نہیں اْکساتا۔ یوں آپ ”مشہوری“ سے محروم رہتے ہیں۔ ”مشہوری“ جبکہ دور حاضر کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس کے حصول کی خاطر ”بی بی سی“ چینل بنتا ہے جو ”بھائی بہن چینل“ کا مخفف ہے۔ اس کی دلیر اینکر نے کشتی میں کھڑے ہو کر حفاظتی جیکٹ پہن کر جس طرح سیلاب کو رپورٹ کیا ہے وہ دورِ حاضر کے صحافیوں کے لئے نصاب شمار ہونا چاہیے۔

بشکریہ ہم سب