خدا را! ’’پاکستانی قوم اورسیاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز غور فرمائیں کہ (خاکم بدہن) مکمل ملکی بربادی تک پہنچے معاشی بحران سے نکلنے کی کتنی راہیں رہ گئی ہیں؟ حکومت، مقابل اصلی اور حقیقی اپوزیشن، جملہ ریاستی ادارے، یونیورسٹیاں، جتنے جیسے بھی ہیں علمی فکری فورمز، تھنک ٹینکس اور پاکستانی سول سوسائٹی کے پاس اس سوال کا جو جواب ہے وہ مکمل دلائل و منطق کے ساتھ قوم کے سامنے لائے، اس پر (اب تو) چند روزہ فیڈ بیک اور قومی ڈائیلاگ کو منظم طریقے سے قوم کے سامنے لایا جائے۔ جب تک حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جوبھی مذاکرات جاری ہیں ان کا رُخ انہی ممکنات کی تلاش پر لگایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ جلد انتخاب کب اور کیسے ہوسکتے ہیں؟ ایسا اہتمام کرنے کے لئے پورا زور لگا دیا جائے۔ اس سے پہلے اور دوران اس کے لئے بھی پروپیگنڈہ سٹائل سیاسی جماعتی پولیٹیکل کمیونیکیشن اور بلیم گیم (جو اسی سیاسی ابلاغ پر غالب ہے) کو قابو کیا جائے جو ہمیں خطرناک معاشی بحران کے بالکل قریب لائی ہے اور ہم آخری انجام چھونے کو ہیں، جو (میرے منہ میں خاک)ہو گیا تو ہمارا پروپیگنڈہ، بلیم گیم، جھوٹے سچے تجزیے اور رائے سازوں کی آراءسب بربادی کی بڑی وجہ بن کر انجام میں گم ہو جائیں گی۔
راقم کے اس نوٹ سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ’’ممکنہ حد تک جلد اور شفاف انتخابات‘‘ کو ہی مجوزہ قومی مشاورت اور مکالمے کا واحد نکتہ کیوں بتایا گیا ہے؟ جو بذات خود حکومتی اصل اور بڑی حلیف سیاسی جماعت کا مطالبہ ہے۔ اس ضمن میں راقم کا پیشگی جواب یہ ہے کہ ایک تو داخلی سیاست جھمیلوں سے خود کو اپنےتئیں مکمل دیانت داری اور اپنی ہی سیاسی فہم سے خاکسار اس مطالبے کو (اتفاقاً) مہلک معاشی بحران سے نکلنے کی واحد راہ سمجھتا ہے، دوسرا اس میں قومی سیاست کے تمام متعلقین اور پوری قوم کو دعوتِ عام دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے کہ جو اس سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کے نزدیک کوئی اور راہ یا تجویز ہے تو وہ دلائل کے ساتھ اسے عام کریں۔ اس پر روایتی سیاسی سود و سودے اور مکر و فن سے بچتے ہوئے قومی سوچ کے ساتھ ایک دیانت دارانہ قومی مشاورت کی شکل بنائی جائے۔ ایسا اہتمام ہوگیا تو یہ ممکن ہے کہ زیر بحث واحد اور فوری مجوزہ حل میں کوئی تبدیلی ہو سکے یا کوئی اچھوتا حل اتنے دلائل اور منطق کے ساتھ سامنے آ جائے کہ قوم اس کی طرف مائل ہواور اس سے اتفاق کر لے۔حالاتِ حاضرہ کے موضوعات پر فوری آراء کا معاملہ تو مختلف ہے لیکن سائنٹفک تجربے، تبصرے ماضی بعید و قریب اور مسلسل ہونے والے تجربات کے حوالوں کو نظر انداز کیا ہی نہیں جاسکتا، کیا جائے گا تو تجزیے درست ہو ہی نہیں سکتے، البتہ غلبہ موجود اور ظہور پذیر قومی ضرورتوں اور عملی اقدامات اور موجود سوچ، اپروچ اور عمومی رویوں کے امکانی نتائج کے ممکنہ محتاط اندازوں کا ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ ہو تو ہماری اس قومی سنجیدگی اور علمی و عملی کاوش کے نتائج یقیناً برآمد ہوں گے لیکن محدود وقت کے لازمے کا پابند ہونا ضروری ہے، جو ہمیں کتنی ہی مہلت دے چکا اور اب بالکل دیتا نظر نہیں آ رہا۔ آٹھ ماہ سے روایتی داخلی سیاست کے دائرے میں چار منتخب حکومتوں کے اقتدار مدت پوری کرنے کے بعد پانچویں کے دوران جاری ارتقائی سیاسی عمل سے سیاسی عدم استحکام کی تیزی سے بڑھتی صورت نے بڑے بڑے سیاسی و معاشی جھٹکے کھاتے پاکستان کوسنبھالنے اور اسے مہلک بحران سے نکالنے کی ہر طرف اور طرح کی سعی نے مجموعی قومی سیاست کے کھوکھلے پن بلکہ خطرناک ہونے کو مکمل طور پربے نقاب کر دیا ہے۔
اب اگر زیر بحث تجویز کسی توجہ کی مستحق ہے تویہ ضرور سمجھا جائے کہ ہماری 75 سالہ تاریخ کے واقعات و تجربات ہمیں موجود بحرا ن کو سمجھنے اور اس سے باہر نکلنے میں کوئی مدد دیتے ہیں؟ بہت دیتے ہیں! پہلے ہی عشرے کا پہلا سبق ہی آنکھیں کھول دینے والا تھا کہ آئین سازی میں تاخیر، پھر اس کے متفقہ بننے پر اس کےتحت ہونے والے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد ایوان ہائے اقتدار و سیاست کی محلاتی سازشیں اور گٹھ جوڑنے حکمرانوں اوربڑے پیمانے پر سیاسی طبقے میں موجود ماحول کو بہانہ بنا کر اور تیار حل اور اختیار کرنے کے اعلان 1956ء کے متفقہ دستور کے مطابق انتخاب کے اعلان کے بعد بھی الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹ بننے کی ٹھان لی تو سازشی ماحول کے غلبے میں مارشل لا لگا۔ سیاسی انتشار ختم ہونے اور فوجی ڈسپلن کی طاقت سے عوامی ریلیف کے فوری اقدامات سے مبارک سلامت اور عوامی اطمینان کا ماحول سازگار بنا، مارشل لاء عوام میں بخوبی ہضم ہوا تو اچھے بھلے سیاست دانوں اور کارکنوں کی ایک کھیپ فوجی حکمرانوں کو مل گئی۔ طویل عرصے کا سیاسی استحکام قائم ہو،ترقی بھی خوب ہو رہی تھی لیکن متوازی حکومت کی بڑھتی آمرانہ سوچ اور اقدامات سے ملکی یکجہتی و سلامتی کو خطرات اورگراس روٹ لیول کی محرومیوں کے دھماکہ خیز دور رَس مہلک نتائج کا لاوا بھی تیار ہوتا رہا۔ ’’عشرہ ترقی‘‘ مکمل ہونے پر آمریت کے گھڑے آئین کے تحت جو انتخابات (1964) ہوئے اس میں متحدہ اپوزیشن کی بھرپور شرکت اور اتنی ہی عوامی تائید حاصل ہونے پر گھبرائی حکومت نے جس طرح اور جتنی دھاندلی کی اس پر مشرقی پاکستان، اربن سندھ اور دوسرے صوبے بھی سراپا احتجاج بنے تو نفاذ مارشل لاء پر ہونے والا امن، ترقی ، استحکام سب کچھ ریورس ہونے لگا۔ ایوب خان کے دست راست ذوالفقار علی بھٹو نے پولیٹیکل سائنٹسٹ کے طورپر صورتِ حال بھانپ لی۔ انہوں نے جنگ ستمبر کا آپریشن کرنے میں مبہم کردار ادا کیا۔ عوامی تحریک چلی تو متحدہ اپوزیشن ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی (DAC) نے حکومت، اپوزیشن مذاکرات (جن کا بھٹو اور مشرقی پاکستان سے مولانا بھاشانی نے بائیکاٹ) کے نتیجے میں ایوب خان سے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرانے میں کامیاب ہوئی ۔ 1962 کے آمرانہ آئین کی تنسیخ اور اپنے مطالبات پر پارلیمانی نظام کی بنیاد پر انتخاب کا انعقاد بھی منوا لیا۔لیکن بھٹو، بھاشانی بائیکاٹ لیڈز ٹو ہائی ڈگری ایجی ٹیشن کے ماحول نے یحییٰ والا مارشل لا لگوادیا۔ ساڑھے تین سال بعد عام انتخاب ہوئے تو مشرقی پاکستانی اکثریتی جماعت کو اقتدار دینے سے انکار کرکے اصل نتائج سبوتاژ کرکے مشرقی پاکستان میں من مانے انتخاب سے من مانی حکومت بنائی گئی۔ شاخسانہ ملٹری آپریشن اور سقوطِ ڈھاکہ۔
بھٹو صاحب نے پہلے ہی انتخاب میں متحدہ آپریشن سے گھبرا کر ملک گیر دھاندلی کا منصوبہ بنایا، ہوئی اور پی این اے کے مطالبے کو ٹالتے ٹالتے مذاکرات تب ہوئے جب فوج کو اقتدار سنبھالنے پر پی این اے میں نجات اور پیپل ایٹ لارج میں قبولیت کا یقین ہوگیا۔ مارشل لاء لگا تو ضیاء الحق نے وعدے کے مطابق 90دنوں میں تو نہیں ایک سال بعد انتخابات کروانے کا اعلان کیا، مہم شروع ہوئی تو پی این اے کے بڑے دھڑے نے پہلے ’’احتساب پھر انتخاب‘‘ کا نتیجہ خیز مطالبہ کیا، مارشل لاء کو دوام ملا۔ ضیائی دور کو افغان جہاد کے باعث مکمل امریکی قبولیت اور بڑی سول سپورٹ ملی تو سب کچھ قبول ہوتا گیا۔ ایم آر ڈی کے مقابل ن لیگ عوام میں اس قدر مقبول ہوئی کہ پہلی دو تہائی اکثریت والی حکومت بنی۔ میاں صاحب کا دل نہ بھرا، شریعت بل کے ذریعے امیر المومنین بننا چاہا۔ ایک آرمی چیف کو ایک تجویز دینے پر ہٹا دیا پھر ’’اصلی طاقت‘‘ سے دوسرا پنگا لیا، انجام واضح۔ یہ تاریخ شفاف انتخاب کے انعقاد اور ملکی استحکام کے رشتے کو کتنا واضح کرتی ہے؟ ذرا سوچئے!