لیہ جیسے آبادی والے اس شہر کو، ڈسٹرکٹ ہسپتال اور تھل ہسپتال میں علاج معالجے کی جو سہولتیں حاصل ہیں وہ انتہائی کم اور ناکافی ہیں۔ اگرچہ شہر میں نجی ہسپتالوں کا بھی جال بچھا ہوا ہے، تاہم یہاں صرف صاحب ِ ثروت لوگ ہی بڑی بڑی رقوم خرچ کر کے اپنا علاج کرا سکتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں وہی آتا ہے جو مڈل کلاس یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔
شہر میں مذکورہ دو بڑے سرکاری ہسپتال ہیں۔ اس ساری کشمکش اور معاملے میں جو سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ بیچارا مریض ہے۔ پیرا میڈیکل سٹاف کا رویہ بھی مریضوں اور اْن کے لواحقین کے ساتھ انتہائی شرم ناک حد تک گرا ہوا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بھی پیرا میڈیکل سٹاف سے خوفزدہ اور اْن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ کسی شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔غور وفکر کا مقام ہے کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں شہر کے نوے فیصد لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ انہیں کن قباحتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ہسپتالوں کی حالت ِ زار ایسی ہی ہے۔ جو فنڈز کی عدم فراہمی یا قلت کے باعث ویسے ہی خراب ہے تاہم جب معاشی حالات نسبتاً بہتر تھے تب بھی اِن دونوں ہسپتالوں کو”لاحق کئی مرض“ ایسے تھے جن کا علاج تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔اِس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ان دونوں سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اِن کا انتظام سنبھالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔بڑھتی آبادی کے مطابق ہسپتالوں کی تعمیر ہوئی اور نہ ہی ضلع کے چھوٹے شہروں میں صحت کی مطلوبہ سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکی جس کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تھل ہسپتال پر بوجھ بڑھتا چلا گیا اور اب حالت یہ ہے کہ ہر دوسرے دن ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے،ایک مسئلے کا حل نکلتا ہے تو چار مزید مسائل حل طلب ہوتے ہیں۔ اِن ہسپتالوں میں وسائل کی کمی، سہولیات کے فقدان اور مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کا رونا ایک عرصے سے رویا جا رہا ہے۔
باوسیلہ افراد تو ہر چھوٹی بڑی بیماری کا علاج کرانے کے لئے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں یا پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو بیماریوں اور ہسپتالوں کے چکروں سے محفوظ رکھے لیکن جن لوگوں کا سرکاری ہسپتالوں سے واسطہ پڑا ہے ان کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ اگر آپ کسی مریض کی عیادت یا مریض کو کسی قسم کی طبی سہولت کی فراہمی کے لئے ہسپتال جاتے ہیں اور آپ نے پینٹ شرٹ یا پھر بیش قیمت صاف ستھرا‘ کلف زدہ لباس زیب تن کر رکھا ہے‘ چہرے سے سنجیدگی یا پھر کسی حد تک رعونت عیاں ہے اور گفتگو میں انگریزی الفاظ کی آمیزش ہے تو ہسپتال کے گیٹ پر تعینات چوکیدار یہ پوچھے بغیر کہ آپ ہسپتال میں کیوں داخل ہورہے ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں آپ کے لئے گیٹ کھول کر آپ کو خوشی خوشی اندر جانے دے گا جبکہ بعد ازاں ہسپتال کے مختلف شعبوں میں نہ صرف آپ کی آمدورفت آسان ہو گی بلکہ طبی عملے اور ڈاکٹرز کا رویہ بھی آپ کے ساتھ ان کے عہدوں کی مناسبت سے مودبانہ‘ نرم یا کم از کم قابل برداشت ہو گا۔ اس کے برعکس اگر آپ عام سادہ سے کپڑوں میں ملبوس ہیں۔ شیو بھی بڑھی ہوئی ہے یا پھر داڑھی کی تراش خراش کا خیال نہیں رکھا ہوا‘ چہرے پر عاجزی اور انکساری کے آثار ہیں اور گفتگو بھی سادہ ہے تو پہلے تو آپ کو ہسپتال کے اندر داخل ہونے کے لئے چوکیدارکی منت سماجت کرنی پڑے گی اور پھر ہسپتال کے مختلف شعبوں میں مختلف امور کی انجام دہی کے دوران طبی عملے کی ناگواری‘ بے زاری اور ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ سے واسطہ پڑے گا۔ علاوہ ازیں او پی ڈی میں معائنے سے لیکر ایکسرے اور لیبارٹریز وغیرہ سے واسطہ پڑ نے اور اگر خدانخواستہ ہسپتال میں داخل ہونا پڑ گیا تو پہلے وارڈ میں مناسب جگہ پر یعنی صاف ستھرے حصے میں باتھ روم سے دور‘ اے سی یا کم از کم پنکھے کے قریب یاپھر سائیڈ روم میں بستر کے حصول تک ’جو’معاشی اور سماجی تفریق“ مریض کے آڑے آتی ہے اس کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں،ایکسرے کی مشینیں خراب پڑی ہیں،لیہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی عملے کی غفلت، لاپروائی اور فرض ناشناسی ایک انتہائی تکلیف دہ مسئلہ بن چکی ہے جس کے نتیجے میں آئے روز کسی نہ کسی مریض کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں،،بعض اوقات عملہ مریضوں کے لواحقین سے بھی ناروا سلوک کا مظاہرہ کرتاہے،ڈاکٹر و پیرا میڈیکل اسٹاف مریضوں کی کراہتی آوازیں سننے کے باوجود موبائل ہاتھ میں لے کر ایس ایم ایس میں مصروف یا ٹولیوں کی صورت میں گپیں ہانکنے میں مصروف ہوتے ہیں چیک اپ کا کیا فائدہ ہے جب معمولی سے معمولی ادویات بھی بازار سے خریدینی پڑتی ہیں۔ ہسپتال کی فارمیسی میں ادویات‘ موجود نہیں نہ کھانسی کی ادویات مل رہی ہیں سرکاری دوا تو ملتی نہیں اور ہسپتال کی فارمیسی میں بھی نہیں پتہ نہیں ادویات کہاں غائب ہو جاتی ہیں، انسانیت کی جو تذلیل کی جاتی ہے اسے دیکھتے ہوئے انسانیت کو خود شرم آنے لگ جاتی ہے ڈاکٹر اپنا فرض منصبی بھلائے بیٹھے ہیں بلکہ وہ وقت گزاری کے لئے اور انجوائے کرنے کے لئے وارڈوں میں آکر مریضوں کو خوار کرتے ہیں یہ ان کا مشغلہ بن چکا ہے حالانکہ وہی ڈاکٹر شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر مریض پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں کیونکہ وہاں ان کو فیسیں مل رہی ہوتی ہیں افسوس کہ کسی بھی نوعیت کے مراعاتی پیکج کے تحت ڈاکٹرز اور طبی عملے کی اکثریت کو مریضوں کے ساتھ بلا تفریق حسن اخلاق‘ خندہ پیشانی اور خلوص کے ساتھ پیش آنے اور مریضوں کے جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں اور روحوں پر لگے زخموں کی بھی مرہم پٹی پر آمادنہ کیا جا سکے کیونکہ انسانیت کے دکھ اور تکلیف کی حقیقت کو سمجھنے‘ محسوس کرنے اور اس دکھ اور تکلیف کے ازالے کے لئے کردار ادا کرنے کا جذبہ‘ تنخواہیں اور مراعات بڑھا کر نہیں ابھارا جا سکتا۔ اس جذبے کو جگانے کی کوشش مسیحاؤں کے سینوں میں دھڑکنے والے دلوں‘ ان کے ضمیر اور ان کے احساسات و جذبات کو جھنجھوڑ کر اورانہیں وہ عہد یاد دلا کر کی جا سکتی ہے جو انہوں نے اس مقدس پیشے سے وابستگی کے وقت کیا ہوتا ہے۔ ”دکھی انسانیت کی خدمت“ کا وہ وعدہ جس پر مال و زر کی حرص اور مادی مفادات کے حصول کی تگ و دو دبیز تہوں کی شکل میں جم چکی ہے‘ دلوں اور ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے نہ صرف اخبارات و جرائد اور ٹی وی چینلز پر باقاعدگی سے تحریروں‘ تصویروں اور مباحثوں کا اہتمام ہونا چاہئے بلکہ سرکاری ہسپتالوں میں مجبور‘ لاچار اور بے بس مریضوں کے جسمانی اور روحانی علاج کے حقیقی تقاضوں پر مبنی احساس اور شعور کو اجاگر کرنے کے لئے غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کو ایک جامع پروگرام کے تحت باقاعدہ مہم چلانی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ درد دل رکھنے والے مسیحا خود کو مثال کے طور پر پیش کر کے اپنے ساتھیوں اور ماتحت عملے کو مریضوں کی حالت زار کی پیشہ ورانہ بنیادوں پر نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر بہتری کے حوالے سے قائل کرنے کی کوششیں بھی کر سکتے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں طبی عملے کی غفلت سے مریضوں کی ہلاکت اور ہسپتالوں میں لاچار مریضوں کی کسمپرسی کے واقعات کا تدارک ممکن ہے یہ امر افسوسناک بھی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تمام تر سہولتوں کی فراہمی کے باوجود ایسی کارکردگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے جس سے اس پیشے کا تقدس بھی مجروح ہوتاہے۔ فرض سے غفلت برتنے والے افراد کا احتساب ہونا چاہئے۔
223