شنید یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی درگت بننے کے بعد مسلم لیگ ن کیلئے میدان مارنے کے مواقع زیادہ روشن ہیں۔ مسلم لیگ میاں نواز شریف، مریم نواز اور پرویز رشیدکے بیانیے کے بعد ایک نظریاتی جماعت کہلائی جانے لگی ہے، سخت وقت میں اس جماعت میں شامل اکابر سیاستدانوں کا جمے رہنا اس جماعت کے نظریاتی وژن کو مزید سامنے لاتا ہے۔ پھر ایسی جماعت اگر خود پر اعتماد کی بجائے ماضی کی طرح لوٹوں اور الیکٹبلز ہی کو اپنی جماعت میں شامل کرنا ناگزیر گردانتی ہے، تو ہو سکتا ہے، یہ لوٹے نشستیں بھی حاصل کر لیں اور یوں وہ معتبر بھی ٹھہریں مگر سوال یہ ہےکہ کیا اس سے ایسی حقیقی انقلابی تبدیلی جو نئی حکومت کاخاصہ ہونا چاہئے، یعنی نئی حکومت کا دکھی ومہنگائی کے مارے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا اور پاکستان کو اپنا باجگزار رکھنے والے عالمی مالیاتی استعماری اداروں سے رہائی دلاناہی دراصل ہدف ہونا چاہئے، لیکن یہ ہدف لوٹوں یا لوٹوں پر مشتمل جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے کیونکر حاصل کیا جا سکے گا؟ کیونکہ یہ لوٹے جہاں سے آنے کے وقت جو کچھ کرتے رہے تھے کیا وہ یہی سب کچھ اپنی ناگزیریت کے باوصف نئی حکومت میں نہیں کرینگے، کیا وہ فی سبیل اللہ اس جماعت میں شامل ہونگے یا مستقبل میں بھی وہی کچھ کرنے کیلئے شامل ہونگے جو پہلے کرتے رہے۔ قابل افسوس امر یہ ہےکہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا کہ پرویز خٹک کی پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہئے، ن لیگ کو جہاں ممکن ہو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی چاہئے، اُن کا ارشاد تھا کہ شہزاد اکبر اور شہباز گل پارٹی اور معیشت تباہ کر کے باہر بیٹھے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر شہزاد اکبر اور شہباز گل وغیرہ معیشت تباہ کر گئےہیں تو کیا پرویز خٹک نے ان کیخلاف ایسے وقت میں عَلم جہاد بلند کیا تھا کہ ان کی جماعت سے ایڈجسٹمنٹ ن لیگ کیلئے قابل فخر ٹھہرے۔ اس پروگرام میں شریک رکن پی ٹی آئی کور کمیٹی شعیب شاہین نے کہا کہ پی ٹی آئی میں جو لوگ ڈیپوٹیشن پر آئے تھے واپس چلے گئے۔ گویا پرویز خٹک اینڈ کمپنی کواب ن لیگ ڈیپوٹیشن دیگی، بنابریں تو کیا پھر یہ عناصر فرشتے بن جائیں گے یا اپنی عادت کے مطابق ہی ن لیگ کے ساتھ چلیں گے۔ عطا تارڑ کا یہ کہنا کہ پچھلے چار سال ن لیگی قیادت کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس دوران پرویز خٹک نے اپنی جماعت کا ہاتھ روکناتو درکنار کیا اس انتقام کیخلاف کوئی آواز اُٹھائی؟ بھارت ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا وہاں جمہوریت اس لئے مستحکم ہے اور اسی مستحکم جمہوریت ہی کی وجہ سے وہاں کسی کو ایک دن کیلئے بھی مارشل لا لگانے کی جرات نہ ہو سکی، کہ آزادی کے بعد کی وہاں کی سیاست میں لوٹوں کی اصطلاح کا تصور ہی نہ نہیں آ سکا۔ حالانکہ لوٹوں کی اصطلاح متحدہ ہندوستان کی پیداوار ہے۔ ویسے تو لوٹوں کی اصطلاح ہارس ٹریڈنگ کی پرانی اصطلاح سے مستعار ہے، لیکن کہا جاتا ہے یہ اعزاز متحدہ ہندوستان میں سب پہلے ایک مسلم کو جاتا ہے ،1930ءمیں ایک مسلم ڈاکٹر محمد عالم مسلم لیگ چھوڑ کر اتحاد المسلمین میں شامل ہو گئے، اس کے بعد کانگریس میں گئے اور پھر مسلم لیگ سے آ ملے، کم مدت میں اتنی جماعتیں بدلنے پر مولانا ظفر علی خان نے انہیں لوٹے کا تاریخی خطاب دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر دور میں ”لوٹے“ ہی معتبر ٹھہریں گے تو پھر تبدیلی کا نعرہ کیونکر عملی تعبیر پا سکے گا! ایسی پارٹیاں جو ملک میں فعال تنظیمی نیٹ ورک رکھتی ہیں اور اہل اور ہم رکاب ساتھیوں کی کثیر تعداد بھی جن کی قیادت کے پہلو میں ہے۔ سیاسی فضا ان کے حق میں ہے، ملکی و بین الاقوامی ادارے ان کی راہ میں کانٹے بچھانےسے گریزاں ہیں۔ اتنے سازگار حالات اور عوامی مقبولیت کے باوجود اگر ایسی جماعتیں معروضی حالات کو موقع غنیمت جان کر اسکندر مرزا کے دور سے دراز ”لوٹوں“ کی اس سیاسی بدعت پر کاری ضرب لگانا مناسب خیال نہیں کرینگی، تو پھر جمہوریت کیونکر مستحکم ہو پائے گی؟ میاں صاحب، مریم نواز، پرویز رشید اور دیگر وژنری اکابر لیگیوں کو تو چاہئے کہ وہ ابن الوقتوں پر اپنی جماعت کے دروازے بند کر دیں، انتخابات میں ایسے عناصر کو اسمبلی سے باہر کھڑا کر کے یہ باور کرائیں کہ اشیر باد سے ایستادہ جماعتوں کا انجام ہمیشہ بخیر نہیں ہوتا۔ لیکن عطا تارڑ کے موجودہ طرز عمل سے ایسے ابن الوقتوں کی اس سوچ کو تقویت ملے گی کہ وہ ہر دور کی ضرورت ہیں۔ ملک و جمہوریت کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ جب بھی سیاستدانوں کو سیاست سے آلائشیں پاک کرنے کا موقع ہاتھ آیا، وہ انہوں نے وقتی مصلحت کی خاطر گنوا دیا۔