عزت کی چادر۔ 421

   عزت کی چادر۔

 برطانیہ کی رائل آرمی میں فرائض منصبی انجام دینے والے راقم کے تایا صوبیدار چوہدری اسماعیل جٹ کوروٹانہ بڑے نفیس انسان تھے،وہ چائنہ کی بائیسکل پر شہر جاتے تو جناح کیپ اور اجلے کپڑے پہنتے، ہماری تائی اماں مرحوم ازراہ مزاح کہتی کہ دولھا اب پنشن لینے جارہا ہے،وہ بھی زیر لب مسکراتے ،وآپسی پر اپنی شاپنگ کر کے آتے،حالانکہ ان کے ایک بیٹے کا کاروباراور دوسرا بیرون ملک ملازمت کرتا تھا، لیکن اپنی پنشن کے استعمال کی روحانی خوشی دیدنی ہوتی ،تاج بر طانیہ نے پنشن اس لئے مقرر کی کہ اس کا کوئی ملازم بھیک مانگتا دکھائی نہ دے ،خود داری سے رہے۔
1881میں برطانوی رائل کمیشن نے پہلی مرتبہ سرکاری ملازمین کے لئے پنشن کے فوائد منظور کے تھے۔تادم تحریر برطانیہ اپنے ملازمین کو جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں فوجی خدمات انجام دی تھیں پنشن ادا کر رہا ہے، ارض وطن میں انکی تعداد دو سو کے لگ بھگ ہے، یہ پنشن انکی بیوگان کو دی جارہی ہے،کیونکہ ان کے شوہر وفات پا چکے ہیں،قیام پاکستان کے وقت جو پنشن چند سو روپئے تھی اب ہزاروں میں ہے، برطانیہ سرکار نے ایک ایگز یکٹو آڈر کے ذریعہ جن ممالک میں یہ افراد موجود ہیں اُس ملک کی پالیسی کے مطابق پنشن میں اضافہ کیا ہے، یہ پنشن ملٹری اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ کی وساطت سے ادا کی جارہی ہے۔
 سچ یہ ہے کہ یہ چند ہزار روپئے نہیں ملازمین اور انکے خاندانوں کے لئے عزت کی چادر ہے،غاصب سمجھے جانے والی اس مملکت نے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنے ملازمین کی قدر کی ہے، برطانیہ میں آج بھی چائلڈ کیر کی مد میںورکنگ والدین کو بچے کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں،یہی معاملہ فرانس، اٹلی اور ناورے کا ہے، ان ریاستوں میں اپنے ملازمین اور تارکین وطن کو بھی پنشن کی ادائیگی کا مربوط نظام موجود ہے، کہا جاتا ہے کہ ناورے سرکار نے اپنی ریاست کو فلاحی بنانے کے لئے خلیفہ دوئم حضرت  کی ریاستی پالیسی سے استعفادہ کیا اور عمرlaws کے نام سے مروجہ اصول مرتب کئے، اسلامی تاریخ میںنومولود بچے کا وظیفہ اور بزرگ شہریوں کے لئے مراعات کا آغاز ان کے سنہری عہد سے ہواتھا۔
اس وقت پنجاب میں ہزاروں سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، بقیہ صوبہ جات میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے وہ نئی مجوزہ پنشن پالیسی اور لیو ان کیشمنٹ کی بابت ہفتہ وار ہڑتال کر رہے ہیں،ان کا موقف ہے کہ انکی مالی مراعات میں خاطر خواہ کمی کی جارہی ہے یہ انکے حقوق پر ڈاکہ ہے، ایک ریٹائرڈ ملازم کی جمع پونجی پنشن ہی توہوتی ہے ،اسکی بدولت وہ بچوں کی شادیاں کرتا اور گھر بناتا ہے،اب یہ اتنی قلیل مقدار میں ملے گی، کہ زندگی اور روح کا تعلق برقرار رکھنا ہی مشکل ہوجائے گا،ضروریات زندگی پوری کرنا ایک خواب رہ جائے گا، پنشن کی یہ غیر منصفانہ پالیسی اس کے سر سے عزت کی چادر کھینچنے کے مترادف ہے۔ کوئی مہذب معاشرہ اسکی اجازت نہیں دیتا ہے۔
جن فلاحی ریاستوں کا تذکرہ ہوا ہے، وہ اپنے ملازمین کے علاوہ ان تارکین وطن کو بھی بعد از ملازمت پنشن ادا کرتے ہیں جن کی سروس کا عرصہ محض چند سال ہوتا ہے، یہاں عمر بھر ریاست کی خدمت کے بعد بھی مایوسی اور ناامیدی کا روگ پالا جاتا ہے،جو امتیازی وصف اُن
 ممالک کا مقدر ہے وہ معاشی عدل پر مبنی انصاف ہے، بدعنوانی سے پاک معاشرے ہیں، انھوں نے ٹیکس کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے کہ بیروزگا ری الاونس اورپنشن ،گھر کے لئے قرض کے باوجود انکی معیشت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، انشورنس پالیسی کے اطلاق نے انسانی فلاح کا راستہ آسان تر کر دیا ہے۔ 
 بد قسمتی ہے کہ بہترین اسلامی معاشی نظام کے باوجود ہماری ریاست کو عالمی اداروں کی غلامی کرنا پڑتی ہے، انکی پالیسیوں کا بوجھ سرکاری ملازمین کو اٹھانا پڑ رہا ہے باوجود اس کے بڑے روساء سے زیادہ ٹیکس سرکاری ملازمین دے رہے ہیں پھر بھی پنشن سے انھیں ہی محروم کیا جارہا ہے یہ کیسا عدل ہے؟ 
 سکیل 4کے ملازم کو ریٹائرڈمنٹ پر 18 لاکھ تک رقم ملتی ہے کوئی ماہر تعمیرات یہ بتا دے کہ کیا اس رقم میں وہ اپنا گھر تعمیرکرے یابچوں کی شادیاں۔ہر بجٹ سے پہلے پے اینڈ پنشن کمیٹی بنائی اورسفارشات بھی مرتب کی جاتی ہیں،، مگر تاحال ان پر عمل درآمد نداردہے وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین کے مابین ،تنخواہ، مراعات ،پنشن، پلاٹ ودیگر تفاوات بدعنوانی کو پروان چڑھانے میں مدد گار ہیں،سرکاری ملازمین کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کے افراد بھی اسی طرح کے ملتے جلتے مسائل سے دو چار ہیں، یہ ریاست ملازمین، تاجروں، کسانوں، مزدوروں ،بچوں اور بڑوں ،خواتین کے لئے ماں کا رجہ رکھتی ہے، وسائل پر سب کا حق یکساں ہے،لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بہت سے لوگ فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہیں،مگر محلات میں رہنے والوں کی بھی کمی نہیں، کچھ کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں بعض کے گھروں سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی اربوں میں برآمد ہورہی ہے۔یہی معاملہ ملازمین کا بھی ہے، کسی کو ریٹائرڈ منٹ کے بعد سر چھپانے کی جگہ نہیں بعض کو زرعی رقبے بھی مل جاتے ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کی بھی اپنی منطق ہے انھیں ملازمین کو ملنے والی پنشن تو خزانہ پر بوجھ دکھائی دیتی ہے مگر کئی ارب کی بدعنوانی نظر نہیں آتی،صوابدیدی فنڈز اور پر آسائش طرز حکومت پر سوال اٹھائے ہی نہیں جاتے، اب تو ہر سو یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پنشن کی بجائے  غیرمنصفانہ مراعات اور کرپشن ختم کی جائے۔
 اشرافیہ کو اتنی دولت تو میسر ہے کہ وہ بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلو ااورکاروبار کر سکتے ہیں ،مگر ایک ریٹائرڈ ملازم پنشن سے زندگی کی گاڑی کو  محض گھیسٹ سکتا ہے، اسکی آنے والی نسل بھی ایسا ہی طرز زندگی اپنانے پر مجبور ہے۔ایسا کیوں ہے؟
 ریاست ضرویات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مطابق پبلک اور پرائیویٹ ملازمین کو اتنی پنشن تو ادا کرے جس سے انکے خاندان کی اچھی گزر اوقات ہو سکے، تاج برطانیہ جس کو سامراج کہا جاتا ہے یہاں سے الوداع ہونے کے باوجود اپنے ملازمین کا اتنا خیال تو رکھا ہے کہ انھیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے،سراپا احتجاج ملازمین سے مل بیٹھ کر اس کا وہ قابل قبول حل نکالا جائے ،ان میں بڑی تعداد اب خواتین کی بھی ہے ،انھیں نظر انداز کرنا قرین انصاف نہیں،ملازمین نے اپنے شباب کو اس ریاست پر قربان کیا ہے، انھیں بھیک مانگنے پر مجبور نہ کیا جائے، لاکھوںملازمین اور ان کے خاندانوں کے سر سے خدا نخواستہ عزت کی یہ چادر اگر اتر گئی تو پھر کوئی محفوظ رہ سکے گا؟

بشکریہ اردو کالمز