یعنی اس عہد کے فوجی تھے۔پھر حضرت موج دریا بخاری کی خدمت میں حاضر ہو کر تارک الدینا ہو گئے۔شیخ عبدالرزاق مکی کی ایک ہزار چوراسی ہجری میں وفات ہوئی تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں موجودہ مقبرے والی جگہ کچی قبر میں دفن کیا گیا۔ کچھ قصوں میں ہر جمعرات کو یہاں شیر کی حاضری بتائی جاتی رہی ہے۔ پھر یہ کہانی سنی گئی کہ ایک رات متولی کو خواب میں حضرت موج دریا نے سید عبدالرزاق کی قبر پر مقبرہ بنانے اور اس کے لئے چندہ جمع کرنے کا کہا۔ بہت سا روپیہ جمع ہوا تو عبدالغفور نامی معمار اس کا منتظم بنا۔ پھر اسی مجاور کو خواب میں مسجد بنانے کا حکم ملا تو مسجد بن گئی۔ شیخ عبدالرزاق مکی کے مزار کا کتبہ اردو میں ہے‘ ایک اور تختی بھی اردو میں ہے جو محکمہ اوقاف کی طرف سے مقبرے کی 1984میں مرمت کے وقت نصب کی گئی۔ تختی پر لکھا ہے کہ مرمتی کاموں پر تین لاکھ اکیاسی ہزار پانچ سو تیس روپے خرچ ہوئے۔5ہنر مندوں کے نام بھی نقش ہیں۔ اگر اکبر‘ جہانگیر اور شاہجہاں دور کے مقبروں کو دیکھیں تو وہاں فارسی کی تختیاں و کتبے نظر آتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ سکھ عہد میں جب اس مقبرے کو بارود خانے میں تبدیل کیا گیا تو مقبرے کے آثار کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی دوران ممکن ہے کہ مزارکا اصل کتبہ ضائع ہو گیا ہو۔ ایک اور رجحان لاہور کے مزارات پر روحانی سلسلے لکھنے کا ہے۔ تاریخی کتب میں صرف شیخ عبدالرزاق مکی‘ سید عبدالرزاق مکی اور سید عبدالرزاق سبزواری لکھا ہوا ہے۔ اکثر اب جو اردو تختیاں لگنے لگیں تو ساتھ قادری‘ سہروردی بھی لکھنے لگے۔ شیخ عبدالرزاق مکی سمیت اکثر بزرگوں کے کتبے 1920کے بعد کے ہیں‘ پھر پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں میں تقسیم کا اثر بھی ان کتبوں کے مشاہدے میں ابھرتا ہے۔ نیلا گنبد کے طرز تعمیر کو بلا شبہ مسلم اور مغل عہد کی نشانی کہا جا سکتا ہے۔میں نے کچھ دوستوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ نیلا گنبد مقبرے کاتعمیراتی طرز اکبری سادگی کا نمونہ ہے۔مزار کی خانقاہی ساخت، جیسا کہ اس کی موجودہ باقیات سے ظاہر ہے، ابتدائی مغلیہ دور کی تعمیرات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اکبر ی عہد کے لاہور میںطرزِ تعمیر میں زیادہ تزئینی تفصیلات کے بجائے طاقتور محرابوں، مضبوط دیواروں اور functional جگہوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ عبدالرزاق مکی کے مزار میں بھی یہی سادگی جھلکتی ہے۔ محراب ہیں، جو سادگی مگر توازن کے ساتھ تراشے گئے۔ یہ محراب نہ صرف ہوا اور روشنی کا بہاؤ قائم رکھتے تھے بلکہ عمارت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ عمارت کی دیواروں میں کثرت سے خالی آرائشی طاق نظر آتے ہیں۔ یہ مغلیہ طرزِ تعمیر کا وہ جمالیاتی عنصر ہے جو عمارت کو گہرائی بھی دیتا اور وقار بھی۔ لاہور میں چونکہ سنگ مرمر عام نہ تھا، اس لیے صوفی مزارات عموماً پختہ اینٹ اور چونے کے مضبوط پلستر سے تعمیر ہوتے تھے۔ یہی خاصیت شیخ عبدالرزاق مکی کے مزار کی دیواروں میں واضح دکھائی دیتی ہے۔ مقبرے کی حرابوں کے اندرونی خانے، سکوئینچ نما خم اور مدھم نقوش عمارت کے اندرونی حسن کا حصہ تھے۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمار نے صرف بوجھ اٹھانے والا ڈھانچہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک روحانی سکون کی فضا دینے کی کوشش بھی کی۔ اس مقبرے کی موجودہ حالت اْس تاریخی سفر کا آئینہ ہے جو لاہور کے بیشتر آثار نے جھیلا ہے۔ اس کی ساختی تاریخ تین نمایاں ادوار میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ پہلا مغلیہ عہد ہے ۔یہ زمانہ عمارت کی اصل شکل سے متعلق ہے۔ مضبوط دیواریں، متناسب محراب، خانقاہی سادگی اور پختہ پلستر۔ یہ سب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ مزار 16ویں صدی کے اواخر یا 17ویں صدی کے آغاز کا ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے یہ عمارت شہر کی کسی چھوٹی خانقاہ کا حصہ رہی ہو، جو بعد ازاں ایک مکمل مزار کے طور پر شناخت پانے لگی۔ پھر سکھ دور آتا ہے ، تبدیلیوں اور نقصان کا زمانہ۔لاہور کے آثار کے بارے میں یہ حقیقت عام ہے کہ سکھ عہد میں کئی مزارات اور خانقاہیں اپنی اصل شکل برقرار نہ رکھ سکیں۔ مزارِ عبدالرزاق مکی پر بھی اس دور کے اثرات نمایاں ہیں۔دیواروں پر بے ربط پیوند لگے،نئی ساڑھے چار ضرب نو انچ کے لگ بھگ حجم والی اینٹیں اور پرانی ،ٹائل نما اینٹوں کا ملا جلا کام دکھائی دیا۔محرابوں کے جوڑوں کا کٹ جانا اسی عہد میں ہوا۔اوپری کمرے یا چھت کے حصوں کا گر جانا،اس دور میں عمارت کا کچھ حصہ بارود کے گودام کے طور پر ہوا۔ نیلا گنبد پر تیسرا دور برطانوی راج کا ہے جب اسے مرمت اور نئی شناخت ملی۔برطانوی دور میں لاہور میں وسیع تعمیر نو ہوئی، اس کے اثرات اس مزار پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر سیدھی لائنوں والا پلستر،چونے اور سرمئی سیمنٹ کے پیوند،سیڑھیوں اور داخلی راستوں کی مرمت۔اس دور میں گنبد اور اس کے توسیعی ڈھانچے میں میز کرسیاں لگی تھیں، گورے صاحب بے فکری سے کھاتے پیتے،ویٹر کھانے کے تھال ادھر سے ادھر لئے پھرتے ۔چولہے جلتے رہتے۔ یہ وہ دور تھا جب نیلا گنبد اور اس سے ملحقہ تعمیرات کے بارے میں نئی روایات نے جنم لیا۔ انہی میں ’’منشی نجم الدین ڈبل روٹی ٹھیکے دار‘‘ کا ذکر بھی ملتا ہے، جو شاید اس جگہ بنے میس انتظام سے جڑے تھے۔آتے جاتے انہیں اس مقبرے و مسجد کی حالت بدلنے کا خیال آیا۔ کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ ’’نیلا گنبد‘‘ اصل میں ایک الگ گنبد دار خانقاہی عمارت کا نام تھا، جس پر نیلی ٹائلوں کی تزئین کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ وقت کے ساتھ جب عبدالرزاق مکی کا مزار بھی اسی احاطے یا قریب ترین علاقے میں شناخت ہونے لگا تو دونوں کی شناخت ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئی۔ آج عوام اکثر نیلا گنبد کو ہی اس مزار کی مرکزی ساخت سمجھتی ہے، جب کہ اصل مزار وہی مختصر خانقاہی عمارت ہے ۔ عمارت کی شکستہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مزار دہائیوں نہیں بلکہ صدیوں کی بے توجہی کا شکار رہا۔ دیواریں جگہ جگہ سے بیٹھ چکی ہیں، پلستر گر چکا ہے، اندرونی حصوں میں نمی اور کائی نے ڈیرہ جما رکھا ہے اور مرورِ زمانہ نے کئی حصوں کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ اس کے باوجود اس مزار کا ہر گوشہ، ہر محراب اور ہر شکستہ اینٹ ایک مکمل تاریخ اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ (جاری ہے)
147