شنگھائی کے جس ہوٹل میں میرا قیام تھا وہاں کا ناشتہ بہت عمدہ تھا، صبح صبح ناشتے کے لیے پہنچا تو استقبالیے پر موجود لڑکی نے کمرہ نمبر پوچھا، جواب میں ازراہِ مذاق میں نے کہہ دیا کہ ”میں تو باہر سے آیا ہوں، نہ کمرہ ہے نہ جیب میں پیسے۔“ وہ بیچاری گھبرا گئی، یہ جواب اُس کے ’سسٹم‘ میں فیڈ نہیں تھا، اتنے میں منیجر وہاں آ گیا، لڑکی نے چینی جواب میں اسے مسئلہ بیان کیا، اُس نے غور سے میری طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا کہ چلیے آپ تشریف تو رکھیں، پھر دیکھتے ہیں۔ میں دنیا میں کہیں بھی جاؤں، ناشتے میں چاہے من و سلویٰ ہی کیوں نہ ہو، آملیٹ کے بغیر بات نہیں بنتی، سو وہیں کھڑے کھڑے میں نے شیف کو پاکستانی اسٹائل آملیٹ بنانے کا طریقہ سمجھایا اور پھر وہی کھایا۔
چین میں داخل ہوتے ہی آپ اُن کے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ سِم کارڈ خریدتے ہیں، وی چیٹ اور علی پے پر کھاتہ بناتے ہیں اور اُس کے بعد دنیا کا ہر کام انہی ایپس کی مدد سے کرتے ہیں۔ ٹرین کا ٹکٹ خریدنا ہو، ٹیکسی لینی ہو، خریداری کرنی ہو، کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہونا ہو، کسی کو ادائیگی کرنی ہو، کاروبار کرنا ہو، کھانا منگوانا ہو یا کسی سے پیسے وصول کرنے ہوں۔ منکر نکیر کی طرح یہ ایپس ہر بات کا حساب رکھیں گی۔
چپے چپے پر کیمرے لگے ہیں، اگر کوئی شخص ہینکی پینکی کرنے کی کوشش کرے یا اِس نظام کو چکمہ دے کر نکلنے کی کوشش کرے تو چند منٹوں میں پکڑا جائے گا، یہ نظام کسی کھوجی کی طرح اُسے ڈھونڈ نکالے گا۔ کون کہاں جاتا ہے، کیا کھاتا ہے، کیا پہنتا ہے، حتّیٰ کہ کیا سوچتا ہے، یہ نظام اِس حد تک زندگیوں میں دخیل ہے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست شہریوں کے ذاتی معاملات میں منہ مارتی ہے، کسی کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون کیا کرتا ہے یا کس سے ملتا ہے، ریاست اُس وقت حرکت میں آتی ہے جب کوئی اِس نظام کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرے اور یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
ہم اِس نظام سے اختلاف کر سکتے ہیں، تنقید بھی کر سکتے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ چین نے یہ ماڈل جس کامیابی سے چلایا ہے اُس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ڈیڑھ ارب کی آبادی ہے اور ایک بھکاری سڑک پر نظر نہیں آیا، زیادہ سے زیادہ غربت جو میں نے دیکھی وہ شنگھائی کے مضافاتی شہر سوجو کے ایک گاؤں میں دیکھی جہاں کچھ بوڑھے لوگ سیاحوں کو سائیکل رکشہ پر گاؤں دکھانے کی پیشکش کر رہے تھے۔
یہاں تین سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلا، کیا اِس نظام کے ثمرات سمیٹنے کے عوض اپنی شخصی آزادیوں سے دستبردار ہونا برا سودا ہے؟ میں خود کو جمہوریت پسند سمجھتا ہوں اور شخصی آزادی کا اُس حد تک قائل ہوں جب تک یہ آزادی کسی دوسرے کی ناک سے نہ ٹکڑا جائے۔ چین میں شہریوں کو یہ آزادی حاصل ہے مگر اِس کی حدود کمیونسٹ ریاست کی ناک تک ختم ہو جاتی ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ چینیوں کے لیے کمیونسٹ پارٹی اُن کے ایمان کا حصہ ہے، اُن کی تربیت ہی اِس طرح ہوتی ہے کہ وہ اسے بنیادی سچائی تسلیم کرتے ہیں، اگلی تمام باتیں اور مباحث اُس کے بعد ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے پاکستانی مسلمان اسلام کو حق تسلیم کر کے اگلی بات کرتا ہے۔
اُن کا یک جماعتی نظام ہی مذہب ہے اور ہمارا ایک خدا پر ایمان، اُن کے لیے کمیونسٹ پارٹی کا حکم مقدس ہے ہمارے لیے الہامی کتاب، اُن کے ہاں کیمروں سے نگرانی ہوتی ہے جبکہ ہمارے لیے منکر نکیر ڈیوٹی پر بیٹھے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ انہیں دنیا سُدھارنے کی فکر ہے اور ہمیں آخرت سنوارنے کی۔ سو، یہ نظام چینیوں کی زندگیوں کا حصہ ہے، میں کوئی فتویٰ تو صادر نہیں کر سکتا مگر لگتا یہی ہے کہ چینیوں کے لیے یہ برا سودا نہیں۔
دوسرا سوال۔ اگر چینی معاشرہ پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے تو پھر یہ حیرت انگیز ترقی اور سائنسی ایجادات کیسے ہو رہی ہیں؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو تو شنگھائی کی کسی یونیورسٹی کا دورہ کر لیں، ہم لوگوں کے دماغ میں امریکہ اور برطانیہ کی چند آئی وی لیگ یونیورسٹیوں کے سوا کوئی نہیں آتی جبکہ صرف شنگھائی میں دنیا کی بہترین جامعات ہیں، اِن کے کیمپس دیکھ کر بندہ مبہوت ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے اپنے فائیو سٹار ہوٹل ہیں، کئی لائبریریاں ہیں جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں، عجائب گھر ہیں اور ماحول ایسا ہے کہ خواہ مخواہ پڑھنے کو دل کرتا ہے، سائنٹفک انکوائری کی مکمل آزادی ہے، اگر آپ میں کوئی ہنر ہے تو کوئی آپ کو آگے نکلنے سے نہیں روک سکتا۔
سب سے بڑھ بات یہ ہے کہ نہ صرف اِن جامعات میں بلکہ پورے چین میں عورتیں محفوظ ہیں، کسی لڑکی کو اپنے بھائی کی ضرورت نہیں جو اسے کالج یا دفتر چھوڑنے آئے۔ ایک کلب میں کسی لڑکی نے شکایت کردی کہ اسے کسی نے تنگ کیا ہے، آن ہی آن میں پولیس پہنچی اور پورا کلب خالی کروا لیا۔ جب ملک کی عورتیں بلاخوف و خطر ترقی میں حصہ ڈالیں گی تو پھر فرق تو صاف ظاہر ہو گا!
تیسرا سوال۔ انسان دنیا میں محنت کرنے آیا ہے یا عیاشی کرنے؟ اگر کسی کو محنت کیے بغیر ہی عیاشی کا موقع مل جائے تو کیا وہ خواہ مخواہ محنت کرے گا؟ یہ سوال بیجنگ اور شنگھائی میں لوگوں کا طرزِ زندگی دیکھ کر ذہن میں آیا۔ صرف بیجنگ اور شنگھائی میں ہی نہیں چین کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں متوسط طبقے بلکہ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ بھی پانچ مرلے کے ایسے گھر میں رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جیسے اپنے یہاں ایک لوئر مڈل کلاس کا بندہ رہتا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ موازنہ اُس طرح سے درست نہیں کیونکہ شنگھائی میں معیار زندگی لاہور، کراچی یا اسلام آباد سے کئی گنا زیادہ بلند ہے، مگر اِس معیار زندگی کے عوض چینیوں کو انتھک محنت کرنی پڑتی ہے اور بدلے میں دو مرلے کے اپارٹمنٹ میں رہنا نصیب ہوتا ہے، دوسری جانب ہماری قوم کی عیاشی دیکھیں، محنت تو جو کرتے ہیں سو کرتے ہیں، لیکن رہتے راجوں مہاراجوں کی طرح ہیں۔ سو، آخری تجزیے میں ملک کا جی ڈی پی جو بھی ہو، اگر زندگی میں نِری محنت ہی لکھی ہے تو کیا فائدہ!
مجھے علم ہے کہ اب بھی یہ موازنہ مکمل نہیں کیونکہ بات صرف جی ڈی پی کی نہیں بلکہ پورے ایک نظام کی ہے جس نے گزشتہ چار دہائیوں میں اسّی کروڑ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالا۔ ہمارے ہاں حالات اتنے خراب نہیں تھے، ہم نے بڑی محنت سے خراب کیے ہیں، اگر دو چار بنیادی مسئلے حل کر لیں تو زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑے گی اور عیاشی کی زندگی بھی گزارتے رہیں گے۔
شنگھائی وہ شہر ہے جس نے چین کے بارے میں میرا مطمح نظر تبدیل کر دیا ہے، پہلی مرتبہ میں 2014 میں چین آیا تھا اور تین ہفتے یہاں رہ کر شدید بیمار پڑ گیا تھا، شروع شروع میں یہاں ایسے ہی ہوتا ہے اُس کے بعد عادت ہو جاتی ہے۔ اگر آپ چین آنا جانا شروع کر دیں تو اُن کے کھانوں، موسموں اور نظام کے عادی ہو جاتے ہیں لہذا پاکستان سے وی پی این انسٹال کروا کے آئیں اور پھر چین کو انجوائے کریں، ورنہ آپ کو یوں لگے گا جیسے یہ ملک کسی اور سیارے پر واقع ہے اور موسم ذرا سا بدلا ہوا ہے! (تمام شُد) ۔