پی ٹی آئی کے حلقہ سے تعلق رکھنے والے معروف خطیب قبلہ مولانا طارق جمیل ان دنوں عالمی سطح کے صوفی بزرگ قبلہ انیل مسرّت کی زیارت کے لیے لندن تشریف لے گئے ہیں۔ صوفی بزرگ انیل مسرّت کے حجرہ مبارک میں آپ نے تشریف رکھی اور حوروں کی اناٹومی پر سیرحاصل گفتگو کی۔ یہ وڈیو خوب وائرل ہے۔ بدقسمتی سے ہم میں سے کسی نے حوروں کو دیکھا ہے نہ ہی ان کے بارے میں نیشنل جیوگرافک کی کوئی فلم ملاحظہ کی ہے اس لیے مولانا کی بیان کردہ اناٹومی کی تصدیق کر سکتے ہیں نہ تردید۔ تردید کرنے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، قبلہ مولانا ، قبلہ صوفی بزرگ اور ان دونوں کے مرشد قبلہ تبدیلی خان المعروف صاحب امر بالمعروف کا حلقہ اس حوالے سے بہت حساس ہے، آپ زمین دوز تہہ خانے میں جا چھپں، یہ آپ کا وہاں تک پیچھا کرے گا۔ چنانچہ تردید کے لفظ پر تو بڑا سا کراس لگا ہے، تصدیق کے خانے میں کچھ درج نہ کرنے کا آپ کا حق بہرحال محفوظ ہے۔
____
قبلہ مولانا کا ایک خطاب اور بھی وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے موجودہ حکومت بلکہ موجودہ ریاستی بندوست کی طرف سے برپا کی جانے والی عدیم المثال شیطانیت کی بے مثال انداز میں مذمت کی ہے، 14 جماعتوں کے عدیم النظر لتے لئے ہیں اور مقطع اپنے کلام بلاغت پناہ کے قول فصیل کو بنایا ہے کہ یہ ملک جمہوریت کے قابل نہیں۔
ظاہر ہے، حضرت مولانا دانائے راز ہیں، جو بات 23 کروڑ پاکستانیوں کے علم میں نہیں آ سکی، وہ قبلہ نے دریافت کر لی۔ لیکن یاد رہے، وہ پہلے نہیں، چوتھے دانا ئے راز ہیں۔
پہلے دانائے راز اپنے وقت کے معروف ترین رحونیاتی بزرگ، سلسلہ عالیہ اب تک جاریہ کے بانی قبلہ ایوب خاں تھے۔ یہ راز سب سے پہلے انہی نے دریافت کیا تھا کہ یہ ملک جمہوریت کے قابل نہیں بلکہ فقرے کی درست ترتیب شاید یوں تھی کہ جمہوریت اس ملک کے قابل نہیں۔ ان کے بعد یہ راز انہی کے سلسلہ عالیہ اب تک جاریہ کے دوسرے پیشوا، ایوب خاں کے خلیفہ اور گدی نشین قبلہ ضیاءالحق نے دریافت کیا اور ان کے کچھ عرصے بعد تیسرے دانائے راز صوفی بزرگ قبلہ پرویز مشرف کا ظہور ہوا اور انہوں نے بھی یہ نکتہ دریافت کیا، روحانی بزرگوں کا ایک حلقہ خان لیگ کے نام سے بنایا۔ اس حلقے کے بیشتر مشائخ ان دنوں پی ٹی آئی کے ساتھ من تو شدم ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ الذہب اب پورے کا پورا تحریک انصاف کے نام سے متشکل ہو چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ نو مئی کے بعد سے پیش آمدہ واقعات نے اس متشکل کو اس بری طرح غیر متشکل کر ڈالا ہے کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی۔
___
بظاہر ایک اور رحونیاتی نکتہ جو ہم پر وارد ہوا ہے، یہ ہے کہ قبلہ مولانا بہت بعداز وقت اس دنیا میں تشریف لائے، کم سے کم اسّی پچاسی سالہ تاخیر سے۔ ان کا سانحہ پیدائش، معاف کیجئے گا، وقوعہ پیدائش قائد اعظم کی ابتدائی زندگی ہی میں ہو جانا چاہیے تھا تاکہ وہ عین اس وقت بڑے ہو چکے ہوتے جب قائد اعظم تحریک پاکستان چلا رہے تھے۔ تب وہ قائد کو یہ قیمتی رحونیاتی راز تفصیل و شرح کے ساتھ بتاتے کہ حضور، آپ جس ملک کو بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جمہوریت کے قابل ہی نہیں ہے۔ قائد اس نکتہ رحونیت کو سمجھ پاتے اور پاکستان بنانے سے باز رہتے، یوں ہم اس دور فسطائیت سے بچ جاتے جو سب کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور اس کے بجائے ہم اکھنڈ بھارت کے پرچم تلے، معروف ترین صوفی بزرگ قبلہ نریندر مودی جی کی سندر چھتر چھایا تلے مکتی اور شانتی کے مزے لوٹ رہے ہوتے۔ لیکن حیف کہ قدرت کو یہ منظور نہ تھا اور ان کے وقوعہ پیدائش میں لگ بھگ ایک صدی کی تاخیر ہو گئی۔
__
قبلہ مولانا نے فرمایا، انہوں نے ایسی بربریت، ایسا ظلم و ستم اپنی ستر سالہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ کیا بتانا چا رہے ہیں؟ یہ کہ ان کی عمر اس وقت ستر سال کی ہو گئی ہے؟۔ حقیقتاً دسال عمر عزیزت گذشت؟۔
ہمارا اندازہ تو آپ کی عمر کے بارے میں سترہ اٹھارہ سال سے زیادہ کا نہیں تھا اور ان کے خطابات جو اکثر و بیشتر بلکہ کم و بیش سارے کے سارے حوروں کی اناٹومی کے بارے میں ہوتے ہیں، سن کر جملہ سامعین کی رائے بھی یہی ہے کہ آپ سترہ اٹھارہ سال کے پرشباب جوان ہیں۔ حوروں کی اناٹومی جس تفصیل اور وضاحت و بلاغت کے ساتھ آپ بیان فرماتے ہیں، وہ ایسی ہے مثال اور محاکات Imagery سے بھرپور ہوتی ہے کہ سامعین پھر سامعین کہاں رہتے ہیں، ناظرین بن جاتے ہیں۔ سبھی سننے والے رشک بار ہو جاتے ہیں، دھیان رکھئے، اشک بار نہیں ، رشک بار لکھا ہے۔ ایک صاحب نے بتایا، اب بھارتی فلمیں دیکھنا چھوڑ دی ہیں، مولانا کے خطاب سے کفایت ہو جاتی ہے۔
___
صوفی بزرگ انیل مسرت اور بھی کئی مشاہیر کے روحانی مرشد ہیں۔ ان کے حلقہ بیعت میں جنرل قمر جاوید باجوہ بھی تھے۔ یاد آیا، جنرل قمر باجوہ کے بارے میں قبلہ مولانا کی دعا بھی بہت مشہور یعنی وائرل ہوئی تھی، آپ نے زار و قطار روتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں یہ دعا کی تھی کہ اے مولا، آپ نے ہمیں ایک بہت اچھا جرنیل دیا ہے، اس کی اوپر سے ، نیچے سے، دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے حفاظت فرما۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ قبلہ مولانا آج کل بھی جنرل باجوہ کے لیے یہی دعا فرمایا کرتے ہیں یا دعا کا متن بدل گیا ہے؟۔
____
قبلہ مولانا اس سنک مروارید یعنی غیب والوں کی اس قیمتی لڑی میں اکیلے ہی ہیں۔ اس میں ہر کوئی دانائے راز ہے۔ کوئی دیوار کے پار دیکھ لیتا ہے، کوئی آسمانوں کے اوپر لکھے گئے فیصلے پڑھ لیتا ہے۔ کوئی دلوں میں جھانک لیتا ہے۔ بس نہیں پڑھ پائے تو یہ کہ 9 مئی کے بعد کیا ہونا ہے۔