شاید کہ بہار آئی، زنجیر نظر آئی 121

شاید کہ بہار آئی، زنجیر نظر آئی

گزشتہ ہفتے برصغیر کے ملکوں میں عجب تماشے ہوئے۔ برما میں آنگ سان سوچی کی پارٹی کو تحلیل کر دیا گیا۔ بھارت میں راہول گاندھی کو نہ صرف جیل میں ڈال دیا گیا بلکہ اس کی ممبرشپ بھی ختم کر دی گئی۔ بنگلہ دیش میں ایک وکیل نے چاول نہ ملنے کا شکوہ کیا،اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ پاکستان ان سب مسائل میں سب سے آگے ہے۔ تازہ تازہ تین ائیر پورٹس کرائے پر دیدیے۔ بلوچستان میں بارش آئے، طوفان آئے پتہ نہیں چلتا کہ کوئی حکومت ہے۔ انڈیا میں مودی کی ڈگری مانگنے پر وکیل پر 25ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا۔ دنیا کے 22ممالک میں پاکستان چیئر زہیں، وہ سب 3سال سے خالی پڑی ہیں۔ یہ نہیں کہ لائق پروفیسر زنہیں ہیں۔ کبھی فنڈز نہ ہونے کا بہانہ اور کبھی بدلتی حکومتوں کی حکمت جواز بن جاتی ہے۔ انڈیا میں کچھ فتنہ پروروں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ گاندھی جی تو پڑھے لکھے ہی نہیں تھے جب کہ ریکارڈ میں لکھا ہے کہ گاندھی جی نے دو ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ وہ کاٹھیا واڑ میں راج کوٹ میں پولیٹکل ایکسپرٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

ویسے میں جب پاکستان میں دیکھتی ہوں تو پیر محمد علی راشدی اسکول سے بھی بھاگ گئے تھے مگر اپنے طور پر انگریزی میں اتنی دسترس حاصل کی کہ بھٹو صاحب بھی ان کی انگریزی تحریر کو پسند کرتے تھے جب کہ ان کے بھائی پیر حسام الدین راشدی کی علمیت کو ساری دنیا میں تسلیم کیا گیا، جرمن اسکالر این میری شمل نے تو وصیت کی تھی کہ انہیں پیر صاحب کے قدموں میں دفنا یا جائے۔ ویسے تو حفیظ جالندھری نے بھی وفات سے پہلے کہا تھاکہ انہیں پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کے باعث علامہ اقبال کے مزار کے احاطے میں دفنایا جائے۔ کون سنتا ہے ڈاکٹر عبدالسلام ہوں کہ ڈاکٹر قدیر خان، ان کو کسی محترم جگہ نہیں دفنایا گیا۔ مجھے کسی نے کہا، ’’میں ممتاز شیریں کے مزارپر فاتحہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوئی کہ مجھےان کی قبر کے بارے میں علم نہیں تھا۔‘‘

پاکستان میں سیاسی طور پر اتنی قلابازیاں لگائی گئی ہیں کہ رُکن پارلیمنٹ کی حرمت اور عزت کوئی ان پڑھ بوڑھا بھی نہیں کرتا۔ یاد کریں مسعود کھدر پوش کو کہ جنہوں نے کسانوں کو بہتر ماحول دینے کے لئے آج سے60برس پہلے رپورٹ لکھی تھی جو صرف ریکارڈ میں ہے۔ اختر حمید خان نے کومیلا میں اتنا کام کیا کہ آج 50برس بعد بھی بنگلہ دیش میں ان کے کام کی مثال دی جاتی ہے۔ پھر کورنگی میں غریبوں کی نئی بستیاں بنانے کا اہتمام کیا، کراچی میں جتنے اصحاب اختر حمید خان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر کرتے تھے۔ ان کے زمانے ہی میں اور ان کے بعد تک ایدھی صاحب نےجھولے میں پڑے بے نام بچوں کو اپنا نام اور عزت دی کہ ان کے نام کو روشن رکھنے والے رضا کار فخر کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

بہت اہم یہ ہے کہ دیہات سے لوگ شہروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد جیسا شہر، جس کی پلاننگ کرتے ہوئے اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہاں حد سے حد 5لاکھ لوگ آباد ہونگے۔ آج کا تجزیہ دیکھیں کہ اسلام آباد کی آبادی 15لاکھ سے بھی بڑھ گئی ہے اس اندازے میں وہ آبادیاں شامل نہیں جو بحریہ ٹائون اور دیگر ٹائونز میں لوگ اپنے گھر بنا کر اسلام آباد میں نوکری یا کاروبار کر رہے ہیں۔ یوں تو دنیا بھر میں صبح کا ٹریفک بہت زیادہ ہوتا ہے نیویارک ہو کہ میڈرڈ، نزدیکی آبادیوں کے لوگ بڑے شہر میں نوکری کرنے آتے ہیں۔ اسلام آباد کی توسیع کرتےہوئے یہ اندازہ ہی نہیں کیا گیا کہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے پانی ، گیس اور دوسری ضرورت کی اشیاء کی دستیابی کیاممکن ہو سکے گی؟

4؍ اپریل پاکستان کی تاریخ میں اسی حزن و ملال کو یاد کراتا ہے جو 16دسمبر کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہوا تھا۔ گزشتہ کل ، عدالت عالیہ نے اپنے پتے دکھا دیئے تھے۔ محض اعلان کے انتظار میں آدھا 4اپریل کا دن گزرا ہماری زندگی میں چونکہ نہ عدالتی شرم ہے، نہ انسانی جواب اور نہ تاریخی غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے کا وعدہ۔ اس لئے اب ہو گا کیا۔ نوٹ پہ نوٹ نکلیں گے۔ مہنگائی بڑھے گی۔ اخبار میں تو اب صرف اشتہار ہو نگے الزامات کا وہ طوفان بدتمیزی آئے گا اور پارٹیاں بدلنےوالوں کی طرف سے دعوتیں کہ اب نہ ٹی وی پر دیکھنے کے لئے کچھ ہوگا اور پڑھنے کے لئے دروازے پہ اڑسے ہوئے، ’’آپ کا خادم‘‘ ۔بہت سے لوگ تو چن صاحب کی طرح پارٹی بدلنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جائیں گے۔ مجال ہے کہ کوئی امیدوار، اپنا ایجنڈا بتائے کہ ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد کتنی شادیاں کرے گا۔ اپنی کون کون سی دوست کو دوسرے ملکوں کی سیر کروائے گا۔ اسکول، کالج نئے بنانے تو دور کی بات ہے، جو ٹوٹے پھوٹے ہیں۔ ان کو اپ گریڈ کرائے گا۔ کہا گیا تھا کہ 5فی صد سیٹیں خواتین کے لئے ہوں گی۔ کون سی پارٹی اس اعلان یہ عمل کرے گی ورنہ وہی بھابھیاں، بھتیجیاں پھر سامنے آ جا ئیں گی اب تو کالا جادو، عدالت عالیہ تک پہ چل گیا ہے ۔ بس ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ہے کہ گزشتہ دو دن سے اعتزاز احسن بار بار کہہ رہے تھے، سپریم کورٹ فیصلے پہ ڈٹ جائے۔ یہ بھی کوئی فیصلہ ہے کہ جس پر فخر کیا جا سکے۔ اب تو یہ آنکھ مچولی ایک دفعہ کا کھیل نہیں۔ اب تو ہر کوئی اپنی فریاد لے کر عدالت عالیہ پہنچے گا۔ عدل کی زنجیر ہلائے گا۔ رہ گیا نواز شریف کا شاہانہ دورۂ سعودی عرب ، وہ وہ وہاں سے کیا لے کر آئیں گے۔ کوئی بتائے نہ بتائے، جاوید چوہدری تو ہمیں سب کچھ بتا دے گا۔ صبرکہ انتظار کے دن تھوڑے ہیں۔

بشکریہ ڈان ںیوز