سیاسی استحکام اور ملکی بقا 227

سیاسی استحکام اور ملکی بقا

قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک نالائق شخص وزیر تعمیرات بن گیا۔ وہ اتنا نالائق تھا کہ اسے رشوت وصول کرنے کا بھی سلیقہ نہ تھا۔اس کے پاس ایک ٹھیکیدار آیا اور ایک فائل پر منظوری کے عوض 20 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ وزیر نے آؤ دیکھا نہ تاؤجھٹ سے فائل منگوائی اور اس پر Approvedلکھ دیا۔اب فائل منظور ہو گئی مگر ٹھیکیدار کہیں نظر نہ آیا۔دو چار دن انتظار کرنے کے بعد وزیر بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے؟اسی اثنا میں اس کے چپراسی نے اپنے وزیر کا اُترا ہوا چہرہ اور طبیعت کی بے کلی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ کچھ گڑ بڑ ضرورہے۔ وہ وزیر کے پاس آیا اور رازداری سے کہنے لگا ،حضور! ہوں تو میں چپراسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتائیں‘ میں کوئی حل نکال دوں گا۔وزیر نے کہا فائل اپروو کر دی ہے مگر اب ٹھیکیدار ہاتھ نہیں آرہا۔چپراسی نے کہا فائل واپس منگوا لیں۔ وزیر نے کہا اب اس پر کٹنگ کس طرح کروں؟چپراسی نے کہا جناب پریشان نہ ہوں‘ کوئی کٹنگ نہیں ہو گی۔فائل واپس آئی۔ چپراسی نے کہا آپ اس Approved سے پہلے Not لکھ دیں۔ مقصد پورا ہو جائے گا اور کوئی کٹنگ وغیرہ بھی نہیں ہو گی۔وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب ٹھیکیدار کو پتہ چلا تو بھاگا بھاگا آیا اور20 لاکھ روپے کا بریف کیس پکڑایا۔اب وزیر پھر پریشان ہو گیا اور دوبارہ چپڑاسی کو بلایا کہ اب کیا کروں؟چپراسی بولا جناب آپ نے فائل پر جہاں Not لکھا ہے وہاں ''ٹی‘‘ کے بعد ''ای‘‘ لگا دیں۔یعنی Not کو Note بنا دیں۔ اب یہ ہو گیا Approved : Noteوزیر نے ایسا ہی کیا اور من کی مراد پائی۔لگتا ہے اس وطنِ عزیز میں بھی بہت سے محکمے وزرا نہیں بلکہ چپراسی چلا رہے ہیں کیونکہ ان کا تجربہ اور آئی کیو بہت سے وزرا سے بہتر اور زیادہ ہوتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے بھی یہی حالات ہیں اور ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ ہم نے نہ ڈیمز بنائے نہ ہی بجلی کی پیداوار پرزور دیا ۔یہ تمام حکومتوں کی ایک سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم توانائی کے بحران کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے جغرا فیا ئی اعتبار سے ہمیں زرخیز ملک اور خطہ عطا کیا ، جو بے بہا نعمتوں سے مالا مال ہے۔تیل ،گیس اور کوئلے کی کوئی کمی نہیں ہے ،دریا، نہریں اور آبپاشی کا نظام موجود ہے جس کی بنا پر زرخیز زمین سونا اگل رہی ہے ۔کون سا پھل اور کون سی زرعی جنس ہے جوپاکستان میں نہیں اگتی ، قوم محنت کش اور جفا کش ہے ۔ پاکستانی قوم کا شمار دنیا کی ذہین ترین قوموں میں ہوتا ہے ۔اس کے باوجود ملک میں اقتصادی اور معاشی عدم استحکام نے ایک بحران کی شکل اختیار کر لی ہے ،جس سے عوام میں فکری انتشار کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے ،حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیسے اس عظیم مملکت کی معیشت تباہ ہوئی؟ کیسے اس ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا گیا اور ان قرضوں کی رقم کہاں خرچ ہو ئی ؟ملکی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اس قوم نے کشکول کیوں ہاتھ میں پکڑا؟

بدقسمتی سے ملکی سیاسی صورتحال بھی ٹھیک نہیں ، تحریک انصاف کے چیئر مین نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں مقررہ مدت سے پہلے توڑنے کا اعلان کر دیا ہے ۔اس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا ،اگرچہ اس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا لیکن سیاسی محاذ آرائی میں کوئی کمی نہیں آئی ، ادھر سیاسی عدم استحکام ملکی معیشت کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اور ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے ۔ملک کے تمام طبقات پریشان ہیں ۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ نچلے طبقے کی زبوں حالی کی ہمارے سیاست دانوں،سیاسی رہنمائوں اور وزراکو کوئی فکر نہیں ۔بڑھتی مہنگائی ، بیروزگاری ،سیاسی عدم استحکام ،توانائی بحران اور مجموعی معاشی بدحالی کی وجہ سے کم از کم10کروڑ پاکستانی شہری پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا سکتے۔عوام، صحت اورتعلیم کی سہولیات پر کمپرومائز کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے بچوں کو اسکول سے نکال کر کام پر لگا ر ہے ہیں۔ملک میں نفرت کی سیاست اور قومیت کو ہوا دی جا رہی ہے جس سے سماج تباہ ہو رہا ہے۔ملک کے بڑھتے معاشی مسائل میں سیاسی غیر یقینی مزید خرابی پیدا کر رہی ہے۔حکو مت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت ضروری ہو گئی ہے۔ معاملات اگرحل نہ ہوئے تو تیسری قوت کو پھر انہیںاکٹھے بٹھانا پڑ جائے گا۔اچھا ہوتا اگر سیاستدان خود معاملات سلجھا تے مگر اس وقت دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملاقاتیں سیاسی بحران کے دنوں میں امید کا امکان پیدا کرتی ہیں ،رواں سال ملک جس قسم کے سیاسی انتشار سے دوچا ررہا ہے اس کے اثرات قومی زندگی میں نمایاں ہیں ،معاشی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے ،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے کم از کم 6ماہ کے دوران بار بار دیوالیہ ہونے کے خدشات ابھر کر سامنے آئے جب کہ مہنگائی 40سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔اس صورتحال کو بیرونی اثرات کا نتیجہ قرار دے کر چھٹکا را حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔بیرونی اثرات اپنی جگہ مگر داخلی حالات نے اس منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار اد ا کیا ہے ۔چنانچہ ان مسائل اور ان کے تشویشناک نتائج کو دیکھتے ہوئے سیاسی بات چیت کی ضرورت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز