مہمان کالم - سوال و جواب تو ہونگے! سوال و جواب تو ہونگے!

تحریر: رضا علی خان اعمال قلب اور قلبی اعمال”خصلت“کی پہچان ہوتے ہیں، عالم گیری کے حصول کیلئے ”محکوموں“کے درمیان رہنا پڑتا ہے، رہنماؤں کے نظریات نظر انداز کر دئیے جائیں تو عقب میں ”تسلی اور تشفی“کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے، اخلاق فاضلہ وقت پر منحصر ہوتے ہیں، یہ نہ کبھی ”جو دوسخا“اور نہ ہی ”استغنا“، یہ عاجز و خاکسار کے لفظوں سے”آشناء“ تھے لیکن محکوموں کے ”خزینہ دار“تھے، اپنی سوانح حیات میں کیا تحریر کرنا چاہتے ہیں یہ بات ہماری یادوں کے دریچوں میں موجود ہے، فقط ایک ہی شوق ہے جمہور پر اپنی حاکمیت کو قائم و دائم رکھنا، ہر آن، ہر لمحہ یہی قلبی کیفیت طاری رہی ہے دل و دماغ پر، نشیب و فراز تو ”حیات کامل“ کا اہم جز ہوتے ہیں، فرماں برداروں کا ایک گروہ ہے جو مطیع اور تکمیل فرمان کیلئے”سرگرداں“ ہے، اب انہی پر انحصار ہے، ایک مدت سے ”منادی“ہو رہی ہے، عالی مرتبت کی تشریف آوری کی، جب بھی واپسی کی ”خبر گیری“ ہوتی ہے ملک و ملت کی رعایا پر سکوت اور ”سناٹا“چھا جاتا ہے۔ وقت کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، برس ہا برس سے جس کا انتظار تھا میرے ”عالی مرتبت“ حاکم ملک و ملت کی خاطر واپس آرہے ہیں، یہ چہ مگوئیاں ہیں یا اشارے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے، وہ واپس آرہے ہیں، ”بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آرہا ہے“ یہ گانا یاد آجاتا ہے، میرے لیے یہ لمحہ خوشخبری اور مسرتوں سے ”مزین“ ہوگا جب عالی مرتبت اپنے دیار غیر کو”خیر آباد“کہہ کر کے حقیقی طورپر ملک میں واپس آئیں گے، سوہنی دھرتی پر میرے عالی مرتبت حاکم قدم جمائیں گے، جوش و جذبات سے لبریز متوالے شادیانے بجا کر میرے محترم اور معزز عالی مرتبت قائد کا فقید المثال استقبال کرینگے۔ یہ بات ابھی طے ہونا باقی ہے،”چشم تصور“میں جائیں تو یہ لمحہ عجیب و غریب کیفیات کے درمیان گھمسان کی جنگ کی طرح لگتا ہے، بہرحال میرے عالی مرتبت جب بھی آئینگے سوال و جواب کی ایک بھرپورفہرست تو ہر صورت میں ہوگی، عوام کی طرف سے سوال ہونگے اور میرے عالی مرتبت ان کے جوابات دینگے، وہ کیا لمحہ ہوگا جب دل کی دھڑکنیں ”دھک دھک“کر رہی ہونگی اور میرے قائد چبتے اور تلخ سوالات کے جواب دینگے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب عالی مرتبت میاں محمد نواز شریف اپنے علاج کیلئے برطانیہ گے تھے تو میں نے ایک کالم ”ڈٹ جانا کسے کہتے ہیں؟“ لکھا تھا اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے میرے اس کالم کے بیشتر الفاظ درست ثابت ہوئے۔ اب صورتحال میاں عالی مرتبت کیلئے پہلے سے بھی گھمبیر ہو چکی ہے بلاشہ میاں صاحب کے چھوٹے بھائی وقت کے حاکم ہیں وفاق کے طول و عرض میں ان کی حاکمیت قائم و دائم ہے بلاشبہ و 27کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبہ میں کھل کرحاکمیت جتا رہے ہیں اور جوش و جذبات سے کر بھی رہے ہیں، اب جب میاں صاحب میرے عالی مرتبت قائد ایک طویل مدت کے بعد جب پاکستان پہنچیں گے تو وہ پنجاب جانا پسند نہیں کرینگے، وہ کے پی کے میں بھی رہنا پسند نہیں کرینگے، یہ خود داری کی بات ہے کہ وہاں کیوں رہا جائے جہاں حزب اختلاف کی حاکمیت تو، وہ سندھ دھرتی میں بھی نہیں جائیں گے وہ بلوچستان کی مہمان نوازی کو بھی قبول نہیں کرینگے، وہ صرف وفاق کی پرفضاء فضاء میں پہنچ کر اپنی واپسی کا دلیری سے اعلان کرینگے، میرے عالی مرتبت میاں صاحب کی واپسی کی منادی ہو رہی ہے ڈھول بھی پیٹے جارہے ہیں کہ وہ جنوری کے اوائل یا وسط میں واپس آرہے ہیں، بہرحال جب بھی واپس آئیں ان کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ اب سوال یہ بنتا ہے کہ میاں عالی مرتبت واپس کیوں آرہے ہیں، کیا میاں عالی مرتبت کی واپسی الیکشن سے مشروط ہے؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے 3سال سے میاں صاحب نے اپنی واپسی کو علاج سے مشروط رکھا ہے اور اب جب علاج مکمل نہیں ہو سکا تو واپسی کی نوعیت کیا ہے، آیا جنوری میں علاج مکمل ہو چکا ہوگا؟میاں صاحب 22کروڑ عوام کو کس بیانیہ پر مطمئن کرینگے، ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ کیا سابقہ الیکشنوں کی طرح اس الیکشن میں بھی بولا جائے گا؟کیامیاں صاحب اپنی واپسی پر قوم کو اعتماد میں لے سکیں گے حالانکہ وہ تو 3سال سے برطانیہ میں علاج کیلئے موجود تھے؟ کیا میاں صاحب علاج کے دوران یورپی ممالک کی سیر و تفریح کے حوالہ سے عوام کو بتائیں گے؟ میاں کس طرح بیان کرینگے کہ واقعی ہی انکا اعلاج برطانیہ میں ہواہے؟ میاں صاحب اپنی تین سالہ خود ساختہ جلا وطنی کو کن وجوہات کا نام دینگے؟۔ میری نظر میں میاں صاحب کی واپسی پر یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات میاں صاحب کو دینے ہونگے، لیکن ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کوئی ایسا بیانیہ تشکیل دیاجائے گا جس میں عمران خان کے بیانیہ کو جھوٹا بنا کر پیش کیا جائے گا لیکن عوام اب ایسے حیلے بہانوں کی عادی ہو چکی ہے وہ ان کی بات کو تسلیم نہیں کریگی، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ میرے عالی مرتبت قائد یہ بات کہہ دینگے کہ وہ اپنی سیاست بچانے کیلئے پاکستان واپس آئے ہیں کیونکہ اندازہ یہی ہے کہ اس پی ڈی ایم اتحاد سے عمران خان کی مقبولیت سنبھالی نہیں جارہی مسلم لیگ نون جو پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی تصورکی جاتی رہی ہے اور رہی بھی ہے اب یہ چند حلقوں کی جماعت بنتی جارہی ہے جس کا خمیازہ آئندہ مسلم لیگ کی قیادت کو بھگتنا پڑے گا، اس وقت حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہی عمران خان حکومت چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کی مقبولیت کو بریک لگائی جائے اور کچھ ایسے کارڈ کھیلے جائیں جس سے عمران خان کے بیانیہ کو دھچکا لگے حالانکہ یہ حکومت جو 13اتحادیوں پر مشتمل ہے عمران خان سے نمبرآزما ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان پی ڈی ایم کی جماعتوں نے عمران خلاف کے تو ہر حربہ استعمال کیا اور یہی کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو یا تو گرفتار کیاجائے یا پھر ایسے کیس بنائے جائیں جس کے ذریعے عمران خان کے کرپشن کے بیانیہ کوعوام مسترد کرسکے اب جب اس حکومت یہ تمام حربے استعمال کر کے دیکھ لیے تو ان کو یقین ہو گا کہ عمران خان کے خلاف جو بھی طریقہ کار استعمال کرینگے وہ ہماری ناکامی کی صورت میں سامنے آئیگا اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن اپنی ساکھ اور سیاست کو بچانے کو کے لیے میرے عالی مرتبت قائد کو برطانیہ سے پاکستان بلا رہی ہے یہ وہ رسم ادا کرنے جارہی ہے جو شائد یہ سمجھ رہی ہے وہ اس میں کامیاب ہو جائیگی میاں صاحب یہ کمال بھی کر کے دیکھ لیں میاں صاحب کو سب سے پہلے تو اپنی وضاحت عوام کو دینا ہوگی اور کیا میاں صاحب یہ بات عوام کو سمجھ سکیں گے اور قائل کر سکیں گے وہ واقعی ہی بیمار تھے، شائد اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی عوام کو بھولا بھلا تصورکرتی ہے اس کا خیال ہے کہ اس بھولی بھالی عوام کو جو بیان کر دیا جائے وہ یہ مان حق مان لیتی ہے لیکن شائد اب صورتحال بہت گھمبیر یعنی بہت ہی گھمبیر بن چکی ہے کہ میاں صاحب کی واپسی کو الیکشن سے تشبیہ تو کیا جارہا ہے لیکن یہ بات آپ ذہن نشین کر لیں کے پاکستان کی عوام اب جھانسوں سے نکل چکی ہے وہ اب اس بات کی قائل ہو چکی ہے کہ جو ہمارے درمیان موجود رہے گا وہی ہمارا لیڈر اور رہنماء ہوگا جبکہ برعکس اس کے میاں صاحب بیماری کے بہانے تین سال تک برطانیہ میں غیر ضروری طورپر مقیم رہے، اگر وہ عدالتی کارروائی اور احکامات کا پاس رکھتے اور واپس آجاتے تو آج مسلم لیگ ن کی پوزیشن بہت حد تک کلیر ہو چکی ہوتی لیکن میاں صاحب نے بیرون ملک میں بیٹھ کر گیم پلان کا حصہ بننا پسند کیا لیکن آج صورتحال گیم پلان سے باہر ہو چکی ہے، میاں صاحب جگ جگ واپس آئیں ہمارے نعرے بھی لگائیں گے اور شادیانے بھی بجائیں گے میاں صاحب ضرور واپس آئیں لیکن میاں صاحب یہ امید اور سوچ رکھ کر واپس نہ آئیں کہ میاں عالی مرتبت سے اس دفعہ کوئی سوال و جواب نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کی عوام اپنے تین دفعہ کے سابقہ وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہے کہ وہ اس قوم کو بتائیں کہ وہ کیوں اور کس غرض سے برطانیہ میں اتنا عرصہ مقیم رہے حالانکہ اب تو وفاق میں گزشتہ 8ماہ سے ان کے بھائی کی حکومت ہے سندھ اور بلوچستان میں ان شراکت داروں کی حکومت ہے آخر کیا وجہ تھی کہ وہ ان حالیہ مہینوں میں بھی پاکستان نہیں آسکے، میرے عالی مرتبت میاں صاحب سے یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ کیا آپ نے تمام تر حربے اور بہانے اپنی سیاست کو بچانے کیلئے کیے، آیا کیا آپ نے اس ملک و ملت کی 22کروڑ عوام سے جھوٹ بولا میاں صاحب کے قول و فعل میں اگر تضاد ہے اور تھا تو انہوں نے اس معصوم کو تین سال تک کس بات پر بیوقوف بنائے رکھا، اگر وہ واقعی ہی بیمار تھے تو ان کا علاج کہاں ہوا، کون سے ہسپتال میں میاں صاحب داخل ہوئے، میاں صاحب یہ تلخ سوالات تو ضرور ہیں لیکن اس کے جوابات تو آپ کو دینے ہونگے چاہے وہ آپ برطانیہ میں بیٹھ کر دیں یا پاکستان میں واپس آکر، کیونکہ پاکستان تو آپ کو دوسرا گھر ہے آپ اپنے گھر تشریف لائیں ہم آپ کی مشکل میں آپ کے ساتھ تھے تو جب پاکستان کی عوام کو مشکل پیش تھی تو آپ اپن سیاست کو بچانے کے لیے آرہے ہیں۔ آخر میں آپ کو ایک بتاتا چلوں، میاں صاحب کی واپسی محض ایک سیاسی موضوع ہوگی کیونکہ اس وقت عمران خان نے جو سیاست ان 13جماعتوں کو سکھا دی ہے اس کا سبق ان جماعتوں کو یاد نہیں ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو زیر کرنا اب ان کے لیے ناممکن بنتا جارہا ہے، میاں صاحب کی واپسی کی صورت میں اگر مسلم لیگ ن یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ میاں صاحب کی واپسی کے ساتھ بڑی آسانی سے عمران خان کو زیر کر لیں گے اور اس کے بیانیہ کو ٹھیس پہنچائیں گے تو یہ ایک سوہنا خواب تو ہو سکتا ہے لیکن مستقبل کی نوید نہیں۔

بشکریہ روزنامہ آج