موسیٰ رضا آفندی
ہر زندگی کے حاصل کا فیصلہ اُس زندگی کی موت کرتی ہے۔ آدمی نے زندگی کی کامیابیوں اورناکامیوں کا دارومدار دولت وثروت ، عیش وعشرت ،توپ وتفنگ اور جاہ جلال سے جوڑ رکھا ہے۔ اگر اس مفروضے کو صحیح مان لیاجائے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر وں کی آمد بے معنی ہوکر رہ جائے گی کیونکہ ان میںسے ایک پیغمبر نے بھی ان باتوں کی تبلیغ نہیں کی۔ اللہ نے انسانیت کو صرف دوحصوں میںبانٹا ہے ۔ایک اسے بلا شرکت غیرے رب تعالیٰ ماننے والے اور دوسرے اس کے ساتھ شریک کرنے والے یا اس کے علاوہ کسی اور کی پوجا اور پرستش کرنے والے لوگ ۔ حق تعالیٰ کا راستہ سیدھا راستہ اور دوسرا راستہ شیطان مردود کا راستہ کہلاتا ہے ۔ آدمی کا سارا علم وفہیم ، سمجھ اورتجربہ اور حقائق تک رسائی اسی تقسیم میںسے کسی ایک کے دائرے میںرہتی ہے ۔ دنیا بھر کے لوگوں کے باہمی اختلافات ، آپس کی خونیزیز جنگیں ،قتل وغارتگریاں اور عبرتناک تباہیاں اور بربادیاں اپنے آخری تجزئے میںاسی تقسیم کا شاخسانہ رہی ہیں ۔آج اولاد آدم اپنی جس معجزاتی ترقی اور تسخیر کائنات کی موجودہ حیرت انگیز صور ت پر نازاں ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنا پتھر کا زمانہ بھی قائم اور برپا رکھنے پر شرمندہ بھی ہے ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ وہی سلسلہ آہ وہو جاری ہے وہی مشغلہ جام وصبو جاری ہے کچھ ایسی ٹکر کھائی ہے حضرت انسا ن سے ادیان کے ماتھے سے لہوجاری ہے تاریخ انسانی ہر اور ہر مقام پر ایسی بنیاد ی تقسیم کا برملا اور بنانگ دہل اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ جیسے کہ حضرت علامہ اقبال نے واضح کرکے بتا دیا ہے۔ موسیٰ وفرعون شبیر ویزید این دُو قوت از حیات آید پدید یعنی موسیٰ ؑ اور فرعون اورحسین ؑ اور یزید دوایسی متحارب قوتیں ہیں جوحیات انسانی کے ساتھ آج تک جڑی ہوئی ہیں۔ ایک حق کی قوت ہے اور ایک باطل کی قوت ہے ۔ برائی اور اچھائی کے پیمانے آفاقی پیمانے ہیں جنہیں حساب کی سچائیوں کی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اسی لئے دنیا بھر کے لوگ سچ کو حق اور جھوٹ کو باطل سمجھتے ہیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی دین دھرم ، نظرئیے سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جوزندگی بھی سچ پر گذاری جائے وہ عزت والی زندگی ہوتی ہے ۔ا س کے برعکس جھوٹا ہمیشہ بے عزت اور قابل ملامت رہتا ہے۔ سارے جاہ وجلال ،کروفر اورمال ودولت اورتمام تر حشمت وغرور او ر تکبر ورعونت کے باوجود جھوٹا بے عزت او ر بے توقیر ہی رہتاہے۔ جھوٹا اپنی قہاری اورجباری کو قابل قبول بنانے کے لئے اسے سچ کا لبادہ پہنانے کی سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود اس مقصد میںکامیاب نہیں ہوتا کیونکہ نجاست کا ایک قطرہ بھی پورے تالاب کو پلید کردیتاہے۔ محرم الحرام مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ پورے ملک میں غم حسینؑ منایا جارہاہے ۔مجالس عز اء کا انعقاد ہورہاہے ۔ عاشورہ کے نزدیک ماتمی جلوسوں کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔ رونا کوئی غیر فطری عمل نہیں ہے ۔ نومولود کی پیدائش پر اس کا رونا ہی اُس کی زندگی کی علامت ہوتاہے ۔ اگر روناغیر فطری یا غیر اسلامی ہوتا تو سرکاردوعالم ؐ سیدالشہدا حضرت حمزہ کے لئے رونے والیوں کو نا بلاتے۔ جبرائیل کی زبانی حسینؑ کی بھوکے پیاسے کربلا میںشہادت کی خبر پرگریہ نہ فرماتے اور ام سلمیٰ کو وہ مشت خاک دیتے ہوئے یہ نہ کہتے جس دن یہ خون میںتبدیل ہوجائے توسمجھ لینا کہ میرا حسین مارا گیا ہے‘‘ رونے میں جو طاقت ہے وہ ہنسنے میں نہیں۔ دولت وثروت ،جاہ حشمت اور کروفر میں وہ طاقت کہاں جو طاقت رونے میں ہے ۔ مذہبی لحاظ سے یا اسلام میں رویا جاتاہے یا پھر یہودی روتے ہیں۔ مسلمان اُس کیلئے روتے ہیں جسے قرآن نے فرزندرسول ؐ قرار دیا ہے۔ اہل بیت اطہار کے لئے روتے ہیں جنکی سچائی کی گواہی آیت مباہلہ میں قرآن نے دی ہے۔ یہودی معبد اعظم کی تعمیر نو کے لئے روتے ہیں اور اس رونے کو انھوں نے اپنی طاقت کا سرچشمہ بنالیا ہے۔ چین کے آنجہانی وزیراعظم چواین لائی چیئر مین ماوئزے تنگ سے پہلے فوت ہوگئے تھے ۔چینی قوم کے لئے یہ ایک ناقابل برداشت سانحہ تھا۔ اس لئے چینی قوم کو حوصلہ دینے کے لئے چیئر مین مائونے کہا ’’اس عظیم غم کو طاقت میں بدلنے کیلئے ہم چوین لائی کی موت پر چھٹی کرنے کے بجائے ڈبل کام کریں گے ۔ اس طرح چیئرمین مائو نے چین کے غم کو طاقت میں بدل کر ملک کو اس راہ پر لگادیا جس پرچل کر آج امریکہ اور یورپ بھی چین سے گھبرا رہے ہیں۔ یہودیوں نے اپنے غم کو طاقت میںضرور بدلا لیکن ظلم وبربیت کے لئے۔ دنیا کے سارے وسائل پرقبضہ کرنے لئے۔ سائینس اورتحقیق کے میدان میں بلندیون کو چھونے کیلئے ابلاغ عامہ کے ہرشعبے کی تسخیر کے لئے اور دنیا میں فحاشی پھلانے اور اپنی شیطانی برتری کیلئے اپنی دربدری کے غم کو طاقت میں تبدیل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں نے ہمیشہ نفر ت ذلت اور حقارت ہی کمائی ۔ دنیا کی ہرطاقت کوزیر کرنے کے باوجود سوائے ظلم وبربریت کے اور کوئی راستہ نہ اپنا سکے ۔ محمدؐ مصطفیٰ اور اُنؐ کی امت سے ازلی دشمنی یہودیوں کی واحد پہچان بن چکی ہے ۔ خاندان رسالت سے یہودکی دشمنی پرانی ہے ۔ ریاست مدینہ نے یہودیوں کی جڑ کاٹ کر رکھدی تھی ۔ علی نے خبیر کا قلعہ بنفس نفیس فتح کرکے یہودی استحکام میں آخری کیل ٹھوک دی تھی ۔ مشرکین مکہ کے ساتھ یہودیوں کے دیرینہ تعلقات فتح مکہ کے بعد بھی قائم رہے جس کا خمیازہ مسلمان خلفائے راشدین کے دور اور اسکے بعد بھی آج تک بھگت رہے ہیں۔ یہودی مسلمانوں کو انسان نہیںکیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اور اسی طرح انہیں کچل رہے ہیں ۔ یہودی کی طاقت کا چشمہ تکبر رعونت، اسلحہ اور گولا بارود اور احساس برتری یعنی شیطانیت ہے جبکہ مسلمان کی طاقت کی بنیاد توحید نبوت اور قیامت پر مبنی علم وحکمت اور اخلاق اور کردار ہے۔ غم حسین ؑ بدلہ اور انتقام نہیں راہ حق پرچلنا سکھاتاہے ۔ اسلئے کہ رسول پاکؐ کا فرمان ہے ’’حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں‘‘ علی کی بیٹوں کی آخری وصیت تھی ’’ہمیشہ ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم کا ساتھ دینا ‘‘ آج غزہ ،افغانستان اور ایران کا مسلمان حسین کی آواز بن کر دنیا بھر کے ظالموں کو للکار رہاہے۔ یہی خدا کی مرضی ہے کیونکہ حسین صرف مسلمانوں کا نہیں پوری انسانیت کا ہے۔ جہاں ظلم ہوگا وہاں ’’لبیک یاحسینؑ ‘‘ پکارا جائے گا۔ تبھی تو زبان زد خاص وعام ہے۔ جہاں حسین وہا ں لاالہ الا اللہ ۔
