ذاتی مفاد کا دائرہ 208

ذاتی مفاد کا دائرہ

پاکستانی معیشت تباہی کے کنارے پر ہے اور یہاں کے سیاست دان ملکی مسائل بھول کر کس طرح لاہور پہنچ گئے ہیں، وہ جو الیکشن کا مطالبہ کرتے نہیں تھکتے تھے، کس طرح الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین باتیں کرنے والے مفادات کے کھیل میں کس طرح اکٹھے ہو چکے ہیں اور دوسری طرف اقتدار سے باہر ہونے والے اقتدار کے لئے کس طرح بے چین ہو رہے ہیں ۔ہر کوئی ذاتی مفاد کے پیش نظر چال چل رہا ہے، یہی حال ہمارے سرکاری محکموں کا ہے، اعلیٰ ترین عہدیدار بھی ذاتی مفاد کے دائروں میں رہتے ہیں۔ چالیس پچاس برس کی کہانی نے کیا کیا رنگ دکھائے، حالت یہ ہے کہ آج پوری دھرتی کرپشن آلود ہو چکی ہے۔ وہ جو کرپشن پکڑنے والے ادارے تھے خاموش تماشائی ہیں۔ برس ہا برس کے مشاہدے کے بعد یہ باتیں لکھ رہا ہوں کہ یہاں حکومتیں کرنے والے چوری سے باز نہ آئے، ہر ایک نے ذاتی مفاد کو اولیت دی، ملکی مفاد کا کسی نے سوچا ہی نہیں، صاحبانِ اقتدار نے اتنا لوٹا کہ ہماری معیشت کنگال ہو گئی، ہماری دھرتی جو سونا اگلتی تھی، ہمارے سامنے بنجر ہوگئی۔آرزو تھی کہ پھول اگتے بدقسمتی سے کانٹے اگ آئے، اب ہر طرف کانٹے بکھرے پڑے ہیں، وہ جن کے بارے میں خیال تھا کہ پھولوں کی حفاظت کریں گے وہ بھی کانٹے بچھانےوالوں میں شامل ہوگئے ۔سرکاری افسروں پر بات کرنے سے پہلے حکمرانوں پہ بات کر لیتے ہیں، ذاتی مفاد پر یقین رکھنے والے حکمرانوں نے کرپشن کی اور اداروں میں کرپشن لے آئے، حکمرانوں نے کرپشن کورواج دیا بلکہ ایک وزیر اعظم تو یہ کہا کرتا تھا کہ ’’دو فیصد کمیشن تو بین الاقوامی سطح پر ہے اس کا تو مجھ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا‘‘ ذرا سوچئے جب آپ کے وزیر اعظم کے یہ خیالات ہوں تو ملک کیسے سدھر سکتا ہے ۔دنیا کا کونسا ملک ہے جہاں ایسے خیالات رکھنے والے حکمراں ہوں؟ سب کو پتہ ہے کہ آپ کے حکمراں بیرونی دوروں میں مہنگی ترین گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، کتنے لمبے چوڑے وفود لیکر جاتے ہیں، مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور پھر جی بھر کے شاپنگ بھی کرتے ہیں ۔یہ سب کچھ کرتے وقت وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ وہ اس ملک کے حکمراںہیں جس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچےزندگی گزار رہی ہے، جہاں لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان رہتے ہیں۔پاکستان کے ساتھ عجب کہانیاں جڑی ہوئی ہیں، یہاں ہر آنے والا حکمراں کہتا ہے کہ خزانہ خالی ہے پھر پتہ نہیں اس خالی خزانے میں سے لوٹ مار کا کھیل کہاں سے رچایا جاتا ہے۔ہر نیا آنے والا تمام خطائیں جانے والے کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے اور اپنے ذاتی مفاد کا کھیل شروع کر دیتا ہے۔ان حکمرانوں کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں، ان کی دولت اور جائیدادوں کا بڑا حصہ دوسرے ملکوں میں ہے جو ملک انہیں حکمراں بناتا ہے۔ اس ملک پر ان کا اعتبار یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی دولت اپنے ملک میں نہیں رکھتے ۔کوئی ان سے پوچھنے والا بھی نہیں، یہاں سے منی لانڈرنگ ہوتی رہی، روکنے والے چپ رہے، روکنے والوں کے بھی ذاتی مفاد ہو سکتے ہیں۔ سول بیوروکریسی کو دیکھ لیں، سول افسروں کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں، کیا ان کی تنخواہیں اتنی ہیں؟ان افسروں کا طرزِ زندگی ان کی آمدنی کے مطابق نظر نہیں آتا۔یہاں بھی ذاتی مفاد کے دائرے ہیں، ایک ڈپٹی کمشنر کے ذمے ضلع کے انتظامی امور ہیں مگر وہ سارا دن ذاتی مفاد کا سوچتا ہے۔ ایک ڈی پی او کے ذمے ضلع میں امن وامان کو یقینی بنانا ہے مگر وہ بھی سارا دن ذاتی مفاد کے گرد گھومتا ہے۔ ایسی صورتحال بیورو کریسی میں اعلیٰ سطح پر ہے یعنی ان کے ذمے جو کام ہیں وہ یہ کام کرتے نہیں، بس ذاتی مفاد کے دائرے سے باہر نکلنے کا سوچتے ہی نہیں، سول بیورو کریٹس کے لئے سزا نام کی چیز ہی نہیں، بڑی سے بڑی سزا اتنی سی ہے کہ او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے لہٰذا سزائوں کے نہ ہونے کے سبب سول افسر بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں، ان کے نزدیک حرام حلال کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ تعمیراتی محکموں سے متعلق ٹھیکیدار یہ کہتے ہیں کہ پانچ فیصد تو محکمے کا سرکاری کمیشن ہے، کیا حیرت کا مقام ہے کہ حکومت سے تنخواہیں لینے والے اپنے فرائض کی ادائیگی پر بھی کمیشن لیتے ہیں۔مافیاز کا تذکرہ بہت ملتا ہے، کبھی آپ چیک کریں کہ یہاں ہر مافیا کے پیچھے کہیں نہ کہیں سرکاری افسر ضرور نظر آئیں گے۔ خواہ وہ کراچی ٹینکر مافیا ہو یا پنجاب میں ٹرانسپورٹ مافیا، ہر مافیا کے پس پردہ سرکاری افسر کا نام آتا ہے۔یہاں کا صنعت کار، تاجر اور سرمایہ کار ذاتی مفاد کے بندھن میں رہتا ہے، یہاں ٹیکس دینے کا رواج ہی نہیں، دوسرے ملکوں میں تو کارپارکنگ پر بھی ٹیکس ہے، ہمارے ہاں لوگ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں، فٹ پاتھ کا تو کوئی حال ہی نہیں، یورپ اور امریکہ میں لوگ فٹ پاتھ پر میلوں چلتے ہیں، یہاں ایسا کہاں؟ یہاں کے ڈاکٹرز بھی علاج کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں، یہاں تعلیم تجارت بن چکی ہے۔ سب سرکاری محکموں میں اعلیٰ ترین عہدیدار ذاتی مفادات ہی کا سوچتے ہیں۔ عدلیہ سے متعلق نسیم حسن شاہ کا ٹی وی انٹرویو کافی ہے جس میں وہ ججوں کی نوکریوں کے چلے جانے کا خوف بتا رہے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے اداروں کے سربراہ کیا کرتے ہیں، یہ سمجھنے کیلئے ایڈمرل منصور الحق کا قصہ پڑھ لیں۔ یاد رکھیئے، دنیا کے وہی ملک آگے بڑھتے ہیں جن ملکوں کے حکمراں اور عہدیدار ذاتی مفاد کے دائرے سے نکل کر قومی مفاد کا سوچتے ہیں۔بقول عطاءالحق قاسمی ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے

بشکریہ ڈان ںیوز