حبس انتہا پر ہے۔ بجلی کئی گھنٹوں سے کسی اور دیس گئی ہوئی ہے۔ایسے عالم میں دیوان نوشاہیہ کی دو ضخیم جلدیں موصول ہوئیں۔تازہ ہوا کا احساس ہوایہ پیر سید معروف حسین شاہ نوشاہی کا مجموعہ کلام تھا۔ لیاقت حسین نوشاہی نے بریڈ فورڈ سےبھیجا تھا۔کتاب کے بیک ٹائیٹل پر میرا یہ شعر لکھا تھا
دیکھتے ہیں حضرت معروف شاہ کے فیض سے
کفر کی تہذیب میں دین ِ محمد کا وقار
اس دیوان کو دیکھ کر یادوں کے کئی چراغ جل اٹھے۔ سوچنے لگا کہ کیسے کیسے بڑے لوگ پیدا ہوئے مگرہم نے ان کی قدر نہیں کی۔ میں دوہزار ایک میں پہلی بار ان سے ملاتو حیرت سے دوچار ہوا۔اٹھارہ ساوتھ فیلڈ اسکوائرکوئی ایسی جگہ نہیں تھی جو کسی پیر کی رہائش کے لئے موزوں ہو۔ وہ تو کسی مل کے مزدور کا مکان تھا۔ اندر داخل ہوا تو ایک چھوٹے سے کمرے میں پیر صاحب زمین پر بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے۔ میں نے کمرے کا جائزہ لیا تو چھوٹی چھوٹی دو سیٹوں کے رکھ دینے کے بعدوہاں کوئی اورفرنیچر شاید ڈھنگ سے نہیں رکھا جا سکتا تھا اسی کے اندر ایک طرف سِنک بھی لگا ہوا تھا ۔سیٹوں کی حالت یہ بتاتی تھی کہ شاید پیر صاحب نے اپنی جوانی کے دنوں میں خریدی تھیں۔پیر صاحب کی طرح وہ بھی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ایک میز تھی جس پرکچھ کاغذی برتن دھرے تھے۔پرانے زمانے والا گیس کاہیٹر جل رہا تھا،یعنی مکان میں سنٹرل ہیٹنگ نہیں لگی تھی۔دیواروں پر سلسلہ ءنوشاہیہ کے شجرے اور اشتہار لگے ہوئے تھے، کچھ تصویروں کے فریم بھی تھے۔دیواروں کا وال پیپر صاف ستھرا تھا مگر بہت پرانےزمانے کے ڈیزائن کا تھا۔کارپٹ پر بیٹھ کر کام کرتے ہوئے شخص نے عینک لگا رکھی تھی عام سی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی عینک کے پیچھے چمکتی ہوئی متحرک آنکھوں سے ذہانت سے بھری ہوئی معاملہ فہمی ٹپک رہی تھی۔کھردرے ہاتھ اس بات کی گواہی دےرہے تھے کہ انہوں نے ہاتھوں سے کام کیا ہے۔چہرے پر اطمینان تھا۔پیشانی کشادہ تھی۔پیچھے سے بال سلامت اور مائل بہ درازی تھے۔دیکھ کر لگتاتھا کہ تعلق ضرور کسی گاؤں سے ہے۔یقیناًانہیں بچپن اور لڑکپن میں گاؤں کی صاف ستھری ہوا اور بکریوں کادودھ میسر آیا ہوگا۔وہ جب اٹھے تو احساس ہوا کہ خاصے دراز قد آدمی ہیں اور بدن قامت کے اعتبار سے متناسب ہے۔
انٹرویو کے بعد میں نے بریڈفورڈ کے ایک ترقی پسند دانشور ظفر تنویر سے ان کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگا ’’میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے تمام عمر فیکٹری میں رات کی شفٹ میں کام کیا ہے اور دن کو اسلام کی تبلیغ کی ہے۔‘‘ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بہت زیادہ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔کچھ عرصہ بعد میں نے مکان تبدیل کیاتو پیر صاحب کے ساتھ والی گلی میں رہنا شروع کر دیا یوں ان سے ملاقاتوں کا سلسلے اور بڑھتا چلا گیا میں جس قدر ان کے قریب ہوتا گیا۔ان کے قد وقامت میں اضافہ ہوتا گیا۔ وگرنہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب آدمی کسی شخصیت کے قریب ہوتا ہے تو اس کے ظاہر و باطن کے تضادات دکھائی دیتے لگتے ہیں اور آدمی پکار اٹھتا ہے ۔
واعظاں کیں جلوہ برمحراب و منبر می کنند
چوں بہ خلوت می روند آں کارِ دیگر می کنند
بے شک ان کی زندگی ایک جہدِ مسلسل سے عبارت ہے ان کا سانس سانس اللہ کے نام کی روشنی سے بھرا ہوا ہے اورمحمد ﷺکے لفظ کی رفعتوں سے سرفراز ہے۔جوانی سے بڑھاپے تک ایک اضطراب افزاء تسلسل کے ساتھ وہ دیار مغرب میں دینِ مصطفی ﷺکی ترویج کےلئے کام کرتے رہے ہیں اور کبھی تھک کر نہیں بیٹھے ،کبھی سستائے نہیں،کبھی اپنے پاؤں کے تلووں سے خار چننے کے لئے کسی درخت کے نیچے نہیں رکے۔ مشرق کی تپتی ہوئی دھوپ ہو یا مغرب کی جمتی ہوئی برفاب ہوا۔ ان کا سفر جاری ہے بلکہ وہ تو غالب کی زبان میں ہمیشہ یہی کہتے ہوئے دکھائی دیئے
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر بھی ایسی ہی شخصیتوں کی ضرورت ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر میدان سے نگاہیں مایوس ہوکر لوٹتی ہیں کہیں بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔کوئی روشنی کی کرن کہیں سے ابھر ے تو اسےزبردستی اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔پیر معروف حسین نوشاہی نے یورپ میں بانوے مساجد تعمیر کرائیں۔بریڈفورڈ میں ایک ایسی لائبریری قائم کی جس میں بڑی بڑی اسلامی کتابوں کے مخطوطے رکھے گئے ہیں ۔انہیں زندگی بھر جہاں کوئی مخطوطہ دکھائی دیا تو اسے حاصل کیا،بڑی سے بڑی قیمت ادا کی ۔بہرحال یہ قصہ برطانیہ کا ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ ہیں مگران کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں یا پھر انہیں مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ باقی لوگوں کی طرح بن جائیں اور اپنے سروں کو گھروں کی الماریوں میں بند کرکے باہر نکلا کریں بلکہ مین دروازے کےباہر ایک ڈبہ بنوالیں گھر سے نکلتے ہوئے سر اس میں رکھ دیا اور میدان کار زار میں نکل پڑے۔سچائی ،دیانت ،ایمان داری ،قانون و آئین ،یہاں سب کی شکلیں تبدیل ہو چکی ہیں ۔استعاروں اور تشبیہوں سے بھی بات کرنا ممکن نہیں رہا۔ نگران وزیر اعظم کی آمد آمد ہے۔ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے والے لوگ ہیں پھر امید لگا لیتے ہیں۔ بہتری کی، سچائی، دیانت کی ۔ممکن ہے جو خواب حضرت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اسے کسی وقت تعبیر مل جائے۔
