ماں نے بڑی محنت سے,پیار کےساتھ جب سب اولاد کو اکٹھا کرنےکا ارادہ کیا ہوگا,سب بچوں کو آواز دی ہوگی,ماں کے پاس آنے والے کئی بچے دشمنوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہوں گے ,ماں کے لیے یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا ہوگا ,سامنے نظر آنے والے بچوں کی خاطر ماں نے خاموشی اختیار کی ہوگی-
سب بچوں کو اپنے خواب کا بتایاہوگا , مستقبل کی ترقی کے سارے راز عیاں کیے ہوں گے ,سب کو کہا ہوگا کہ اپنی,اپنی مرضی سے,اپنے اپنے کام بانٹ لو, ہر کسی نے اپنی پسند کا کام چنا ہوگا ,ماں نے یہ بھی کہا ہوگا ایک بھائی کبھی بھی دوسرے بھائی کو نقصان نہیں پہنچائےگا,پھر ماں نے کہا ہوگا کہ, میرا وجود تب تک سلامت اور محفوظ رہے گا جب تک میری اولاد میں اتفاق اور اتحاد رہے گا, میری اولاد ترقی کرے گی, میرے خواب پورے گی, میری اولاد جہاں بھی ہو , مجھے خوشی تب ہوگی جب وہ میرے کہے ہوئے پر عمل کرے گی, سب کو ساتھ لے کر چلے گی,اپنے کردار کے ذریعے میری تربیت کی ترجمانی کرے گی,میں پھر کبھی بھی بوڑھی نہیں ہوں گی, کیوں کہ اولاد کا سکون ماں کی حیات ہوتا ہے, لیکن آج ریاست ماں کی روح کانپ رہی ہوگی کیوں کہ آج اس کا بیٹا ظلم سے, ناانصافی سے, معاشی بدحالی سے, مہنگائی, بےروزگاری سے, رشوت سے, سفارش سے, اپنے بھائیوں کی
,عداوت سے, عدالت سے, عوامی بغاوت سے اور چہروں کی بناوٹ سے ہانپ رہا ہے ,پیاری ماں کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی کہ اس کی اولاد آپس میں کسی دیرینہ دشمنوں کی طرح لڑ رہی ہے,کبھی فرقوں میں ,ذات پات میں , زبان کی بنیاد پر, ثقافت کی بنیاد پر, علاقائی بنیادوں پر, معاش کی بنیاد پر حالانکہ سب کا حسب نسب ایک ہے ابن آدم کی وجہ سے, اب تو اماں حوا کو بھی برا لگ رہا ہوگا کہ یہ بیٹے اپنی ماؤں کو اذیت دے رہے ہیں , دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں, فریب سے کام لے رہے ہیں ,خوشحال بھائی, غریب بھائیوں کا استحصال کر رہے ہیں,ان پر چیخ اور چلا رہے ہیں, غریب بھائی,نظریں جھکائیں, سہمے کھڑے,ماں کی لاج رکھ رہے ہیں, صاحب مسند, صاحب اختیار بھائی مختلف شعبوں میں بیٹھے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی بجائے زبان دراز بن رہے ہیں لگتا ہے ماں کی نصیحت ,تربیت اور فضلیت بھول رہے ہیں ,عارضی اختیار اور طاقت کے نشے میں سب کچھ دوسرے بھائیوں کا خود پر نچھاور کررہے ہیں, یہ وہ بھائی ہیں ,جو ریاست ماں کے تابعدار بیٹوں کی محنت سے کمائے ہوئے پیسوں سے اپنی ماہوار تنخواہ پارہے ہیں, مگر ایسے لگتا ہے جیسے یہ تنخواہ دار ان محکموں کے مالک ہوں, بھلا مالک کو نوکری کیا ضرورت ہوتی ہے نوکری کا مقصد اطاعت ہے,ریاست کی, ریاست کے سب لوگوں کی, نہ کہ طاقتور لوگوں کی, میری مراد ریاست ماں کے مستقل ملازم ہیں ,میں سب ملازمین کی بات نہیں کر رہا صرف وہ جو بھیڑیے ہیں, کالی بیھڑوں والا کردار ادا کر رہے ہیں, رشوت خور, سفارش خور, یہ حضرات کسی بھی شعبے میں ہوں خون خور ہیں, ریاست چور ہیں یہ اداروں کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھتے ہیں, لوگ انہیں بیھڑیوں کو طاقت کے ساتھ جواب دیں کہ یہ ریاست کے ادارے ہیں آپ کے باپ دادا کی جاگیر نہیں, آپ ملازم ہیں, آپ کا کام نوکری کرنا ہے نہ کہ کسی عزت دار کی توہین و تذلیل کرنا, انہیں گالیاں دینا, ریاست کا آئین کسی کو بھی گالم گلوچ کی اجازت نہیں دیتا, اگر کوئی نوکر مالک سے زیادتی کرے تو, مالک اپنا اختیار استعمال کرتا ہے, اب لوگوں کو اپنا اختیار استعمال کرنا ہوگا رشوت خور, سفارش خور لوگوں کے خلاف, آج کل یہ حضرات خدمت کا ڈھونگ رچا کر, لوگوں کے سامنے دو چہرے دجال کی طرح پیش کر تے ہیں-
448