حل فقط: مکمل اطلاق آئین، یکساں نفاذ قانون 72

حل فقط: مکمل اطلاق آئین، یکساں نفاذ قانون

پاکستان کا متفقہ موجودہ ادھورا نافذالعمل آئین 10 اپریل 1973ء کو منظور ہوا تھا۔ سو پچھلے روز دستورِ پاکستان کی پچاسویں سالگرہ تھی۔ پاکستان کا پہلا عشرہ تاریخ میں سیاسی عدم استحکام اور سیاسی حکومتی محلاتی سازشوں کا عشرہ قرار پایا۔ اس قومی جرم میں بیوروکریسی اور عدلیہ ملوث رہے۔ قومی سیاست میں جاگیردارانہ غلبہ ہوگیا، تحریک پاکستان کی نظریاتی اساس سے مخلص سیاستدانوں کا کردار کم ہوتا گیا، گویا مقتدر وہ ہوتے گئے جوشریک سفر نہ تھے۔ اسکی مجموعی منفی صورت آئین سے محروم ملک کی شکل میں واضح ہو رہی تھی کہ دستور سازی میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں۔ پہلے ہی عشرے میں اس سازشی سیاسی حکومتی ماحول کی اصل وجہ 13 ماہ میں ہی بانی پاکستان کی قیادت سے محرومی بنی۔ یہ بھی لازم اور طے تھا کہ ملک چلانے کیلئے ایک متفقہ آئین تو بنانا ہے جو محال ہونے کے باوجود جیسے تیسے جاری متوازی کوششوں سے یکم فروری کو بن کر 23 مارچ 1956 ء کو نافذ ہوگیا۔ اس کے تحت ملک میں پہلے عام انتخابات کا انعقاد فروری 1959 ء میں موجود اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر طے پایا۔ لیکن اس وقت اسکندر مرزا، جو نفاذِ دستور کے بعد گورنر جنرل سے آئینی سربراہ کے طور پر پہلے دستوری صدر بن گئے، اس لحاظ سے انکی بڑی ذمہ داری تھی کہ وہ شفاف و غیرجانبدار انتخاب کی تیاری کا اہتمام کرتے اور سیاسی ماحول بھی بناتے کہ جلدی جلدی وزرائے اعظم کی تبدیلی سے وزیر اعظم کا عہدہ عملاً بے توقیر ہوگیا تھا، لیکن اسی سے نوزائیدہ پاکستان پہلے ہی عشرے میں عدم استحکام میں مبتلا ہوا۔ بدقسمتی سے نفاذِ دستور1956 ء کے بعد بھی نیت کا فتور آڑے آگیا، چونکہ سازشی ماحول میں وہ (صدر) بیورو کریسی کے نمائندے تھے، دستور کے بعد بھی ان کی وہ چھاپ ختم نہ ہوئی بلکہ انتخاب کے نتیجے میں اصل اختیار و اقتدار اپنے ’’انٹرسٹ گروپ‘‘ سے منتخب نمائندوں کو ملنا یقینی ہوگیا تھا جس پر قلب و ذہن آمادہ نہ ہوئے۔ اس کا اندازہ اس سے بھی ہوگیا تھا کہ اسکندر مرزا نے متنازعہ اسمبلی سے دستور منظور کرانے میں تعاون اس شرط کو منوا کر کیا کہ وہ پہلے انتخاب کے بعد بدستور صدر رہیں گے۔ لیکن بدنیتی اور مفاد پرستی کا دائرہ اسکندر مرزا تک ہی محدود نہ تھا، ایوب خان نے عسکری قیادت کے طور پر خود کو زیادہ حقدار سمجھتے ہوئے استحکام لانے کا یقین کیا ہوا تھا، جو نفاذِ دستور اور الیکشن کے یقینی ہونے سے بھی ختم نہ ہوا۔ سو قومی سیاست اور اسمبلی میں دھما چوکڑی جاری رہی۔ یہ ’’کامیاب سازشوں‘‘ کا حددرجہ غیر ذمہ دارانہ فالو اپ تھا جس کا آغاز گورنر جنرل غلام محمد کے اسمبلی توڑنے اور جسٹس منیر کے اس غیر آئینی اقدام کی توثیق کے تباہ کن فیصلے سے ہوا تھا۔ اس کے برعکس گورنر جنرل کے صدر بننے کا فالو اپ نہیں ہوا، گویا اس آئینی اقدام سے مطلوب آئینی اور انتخابی عمل (بشکل الیکشن کی سنجیدہ تیاریوں) کی صورت میں نہ ہوا۔ اسی جمود اور وزیراعظم کے بدستور بے توقیر عہدے سے وہ جمود پیدا ہوا جس نے شدت اختیار کی تو صدر مملکت کا دستوری عہدہ ختم ہو کر اس کی جگہ فرد واحد عسکری قیادت کے زور پر ملک کا انتظامی اور پھر اپنا آئین بنا کر آئینی سربراہ بھی بن گیا۔ یعنی نو آزاد مملکت مارشل لا کی پکڑ میں آگئی۔ آگے کی تاریخ ترقی اور عدم استحکام کی تاریخ ہے جس میں آئینی بحران اور تنازعے میں ہی بعد از تمام انتخاب ہو کر بھی ملک دولخت ہوگیا، ساری ترقی دھری رہ گئی۔

آج باقی ماندہ دستوری پاکستان میں پچاس سال کے بعد پہلے 25سال کی بحرانی کیفیت سے زیادہ (گمبھیر سے) تشویشناک ہوگیا۔ پاکستان آنے والی نسلوں کا مقدر ٹھہرا۔ ترقی تو دور کی بات روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ بڑا لیکن بہت سادہ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نافذ العمل دستور پاکستان 1973ء پہلے بحرانی ربع اور دولخت ہونے کے المناک نتیجے کا سبق نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پہلی حکومت اور بھٹو قیادت کی حد تک دکھاوے کیلئے پریشر کیا گیا۔ تاہم المیے کے پریشر میں پڑا، موجو دستور کی آئین سازی کا عمل شیئرڈ تھا جس سے کم حجم کی لیکن سنجیدہ اور مخلص اپوزیشن نے نیک دلی سے بھٹو سیاست اور اقتدار کے سخت مخالف ہوتے بھی اپنے اجتماعی تعاون سے اس کو سب سے کلیدی اور مقدس قومی دستاویز بنانے میں بھرپور تعاون کیا اور یہ فقط ایک مختصر اختلافی نوٹ کیساتھ جو صوبائی خودمختاری کے حوالے سے جناب ولی خان کا تھا، متفقہ طور پر منظور اور نافذ ہوا۔ دوسرا بڑا سوال ہے کہ جب موجود دستور منظور ہو کر نافذ ہوگیا۔ عشرے عشرے کے دو مارشل لائوں اور قومی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور اہمیت کے ساتھ آج بھی نافذ العمل تو ہے لیکن آئین کی 50ویں سالگرہ پر بھی چھٹی ساتویں پاکستانی نسل بھی پاکستان کو عملاً بھکاری دیکھ رہی ہے، ان کا مستقل سوال ہے کہ ہم اجڑے اور فساد زدہ پاکستان کے شہری کیوں ہیں؟ جواب مکمل واضح یہ کہ: دستور 1973 میں نافذ ہوکر بھی نافذ نہیں ہوا۔ جتنا ہوا سول آمریتوں، ملٹری ڈکٹیٹرز کی مرضی یا ملٹری سول حکومتوں کی مرضی سے اپنے ہی لئے نافذ ہوا۔ عوام نعروں میں ہی ’’طاقت کا سرچشمہ‘‘ رہے۔ ووٹ کی عزت کا ڈھونگ رچایا گیا اور ووٹر کا جتنا استحصال اور تذلیل ہو سکتی تھی کی گئی اور کی جا رہی ہے۔ آٹے کی اذیت ناک اور جان لیوا تقسیم سے اندازہ لگا لیں۔ بھٹو دور میں ملک بھٹو صاحب کی مارشل لا سربراہی سے نکل کربھی دستوری ایمرجنسی میں رہا جو اقتدار کے ساڑھے چار سال تک جاری رہی۔ تاریخ کی اٹل حقیقت ہے کہ ایک سال قبل تک بھٹو حکومت ملک کی بدترین سول آمریت رہی، آج آئین کی 50 ویں سالگرہ پر ’’اتحادی حکومت‘‘ اس کی حدیں عبوری کرکے اول درجے پر آگئی۔ بھٹو دور میں آئینی عدلیہ کے متوازی اسپیشل ٹربیونل قائم رہے۔ اس میں پارلیمانی اپوزیشن رہنمائوں اور اپنے باغیوں کے ٹرائل ہوتے رہے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ اور پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 1962 قائم رہے جو صحافت کو ایٹ لارج پابند رکھنے کےآئیکون تھے۔ اس دور میں پہلا الیکشن ملک گیر دھاندلیوںسے اٹا تھا۔

احتجاجی تحریک چلی تو 342 سیاسی کارکن اور شہری شہید ہوئے۔ اس پس منظر کے ساتھ اگلے آنے والے سال کیسے جمہوری رہتے۔ بھٹو صاحب کے مقدمے کے دوران بڑے بڑے جمہوریت پسند و ںاور آئین سازوں نے ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کے نعرے لگائے۔ ضیا اور مشرف دور میں آئین کا مکمل یا جزواً معطل رہنا تو منطقی ہے کہ جرنیل کیا جانے جمہوریت کا حسن، جب جمہوریت کے دعویداروں اور منتخب حکمرانوں نے ہی آئین مکمل نافذ نہ کیااور اسے خوب روندا۔ سب سے بڑا ثبوت عوام کے سب سے اہم جمہوری حق بلدیاتی نظام سے انکی مکمل بیزاری اور اس کیخلاف ثابت شدہ مزاحمت ہے تو پھر جرنیلوں سے کیاتوقع۔ آئین پاکستان سے مسلسل کھلواڑ اور اب اس کی انتہا کا اندازہ اجڑی پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ کی موجود حالتِ زار اور حکمراں جماعت کے اپوزیشن کی جانب رویے سے لگایا جائے کہ واحد ملک گیر جماعت کے پاپولر لیڈر پر 144مقدمات اور تھانہ کچہریاں جبکہ سپریم کورٹ کے سزا یافتگان کا آتشی اور معطر سیاسی ابلاغ، سب سے بڑھ کر الیکشن 90 دن میں کی پابندی کے خلاف چٹان پر لکھ رہے ہیں، نہیں۔ جبکہ پتھر پر لکھا حل ’’آئین کا مکمل اور قانون کا سب شہریوں پر یکساں نفاذ‘‘ ہی ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم