گزرے ہفتے جمعہ کی صبح کو جو کالم چھپا تو اس میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ’’مذاق‘‘ زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا جس کے ذریعے دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتے ملک کا صدر عالمی میڈیا اور رہ نمائوں کے سامنے فخریہ انداز میں دہراتا رہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے مابین ’’ایٹمی جنگ‘‘ رکوائی ہے۔ بھارت کا وزیر اعظم امریکی صدر کے مذکورہ دعویٰ کے بارے میں ابھی تک ناراض ہوئی ساس کی طرح خاموش ہے۔ وزیر خارجہ بھی پنجابی محاورے والا ’’دڑ وٹے‘‘ ہوئے ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا سیکرٹری – وکرم مسری- البتہ صحافیوں اور بھارتی پارلیمان کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کا نام لئے بغیر مصر رہتا ہے کہ ’’کسی تیسرے‘‘ نے پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بند نہیں کروائی۔ دونوں ملک خود ہی چار روزہ جنگ کے بعد اس کے لئے آمادہ ہو گئے۔
Pakistani fashion designers
جنگ بندی ہو جائے تو اس کے بعد متحارب ممالک دائمی امن کے حصول کے لئے مذاکرات کا آغاز کرتے ہیں۔1965 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد یہ مذاکرات ’’تیسرے ملک‘‘ کی مداخلت پر تاشقند میں ہوئے تھے۔ تاشقند ان دنوں خود مختار ازبکستان کا ایک شہر نہیں بلکہ کمیونسٹ بلاک پر مشتمل سوویت ایمپائر کا حصہ تھا۔ 1971 کی جنگ کے بعد البتہ جنوبی ایشیا کے ازلی دشمنوں نے باہمی روابط کی بدولت شملہ میں طویل مذاکرات کے بعد اس شہر سے منسوب معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ جو معاہدہ ہوا اس کے تحت پاکستان اور بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اختلافات کسی بین الاقوامی فورم کے روبرو نہیں لے جائیں گے۔ ’’تیسری قوت‘‘ کو ان سے الگ رکھا جائے گا۔
رواں صدی کے آغاز سے دو برس قبل ہی معاملات مگر بگڑنا شروع ہو گئے۔ بھارت نے مئی 1998 میں ایٹمی دھماکے کئے تو پاکستان پر امریکہ نے دبائو ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ جوابی دھماکے نہ کرے۔ اس تناظر میں ان دنوں کا امریکی صدر پاکستان کے وزیر اعظم سے مسلسل رابطے میں رہا۔ نواز شریف نے مگر اس کی درخواست نظرانداز کرتے ہوئے جوابی دھماکوں کا حکم صادر کر دیا۔ امریکہ نے برہم ہوکر بھارت اور پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکہ کی اپنائی لاتعلقی مگر گارگل جنگ کے دوران بالآخر بھارت کے کام آئی۔ کارگل کی پہاڑیوں میں گھیرے میں آئی بھارتی افواج کے لئے واپسی کا راستہ نکالنے کے لئے 4 جولائی 1999 کے روز امریکی یوم آزادی کی تعطیل کے باوجود صدر کلنٹن نے نواز شریف سے ایک خصوصی اور طویل ملاقات کی۔ اس کے نتیجے میں کارگل سے ابھرابحران ٹل گیا۔
2019 میں ایک بھارتی طیارے کے پاکستان کے زیرنگین علاقوں میں گرجانے کے بعد پاک-بھارت جنگ کی جانب بڑھتے معاملات کو ان دنوں کے امریکی صدر نے ازخود ویت نام میں یہ اعلان کرتے ہوئے ٹالا تھا کہ پاکستان مذکورہ طیارے کے پائلٹ کی رہائی کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ ’’تیسری قوت‘‘ کی مداخلت نے لہٰذا 2019 میں بھی پاک- بھارت جنگ رکوائی تھی۔ 2025 میں ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک کے مابین ایک اور جنگ ر کوانے کا دعوے دار ہے۔ بھارت مگر اس کے دعویٰ کو جھٹلا رہا ہے۔ اسی باعث میں یہ لکھنے کو مجبور ہوا کہ یہ ’’مذاق‘‘ زیادہ دنوں تک برقرار کھا نہیں جا سکتا۔
بھارتی پارلیمان میں موجود جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد ہفتے کی رات واشنگٹن پہنچ گیا ہے۔ ششی تھرور اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ موصوف نے 22 سال کی عمر میں امریکہ کے مشہور زمانہ فلیچر سکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی سے ڈاکٹریٹ کے حصول کے بعد اقوام متحدہ کی نوکری میں کئی برس گزارے ہیں۔ کیرالہ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ تعلق ان کا سونیا گاندھی کی کانگریس سے ہے۔ راہول گاندھی مگر اس کی ’’خود پسندی‘‘ کو پسند نہیں کرتا۔ راہول کی اجازت کے بغیر ششی، نریندرمودی کی دعوت پر بھارتی پارلیمانی وفد کا قائدبن کر واشنگٹن چلا گیا ہے۔ بیرون وطن پرواز سے قبل ششی نے ’’پروفیسرانہ انگریزی‘‘ میں یہ بیان دیا کہ اس کے وفد کے دورے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ بھارت 6 اور7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے خلاف ’’دہشت گردوں کی سرپرستی‘‘ کرنے کی وجہ سے جارحیت کو’’مجبور‘‘ ہوا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جھگڑے کی بنیادی وجہ ’’دہشت گردی‘‘ ہے۔ یہ بات عالمی دنیا کو سمجھانے وہ اپنے وفد سمیت چار ممالک کے دورے پر روانہ ہو رہا ہے۔
ایک مکار سفارت کار ہوتے ہوئے ششی تھرور نے ان ممالک کا نام لیتے ہوئے جہاں اس کا وفد جا رہا ہے سب سے آخر میں امریکہ کا نام لیا جبکہ اس کے وفد کا پہلا پڑائو واشنگٹن ہے۔ اتفاق سے گزشتہ چند دنوں میں خود کو میسر مگر انتہائی بد ترتیب ریکارڈ کی چھان پھٹک کے بعد واشنگٹن میں چند ایسے ’’ذرائع‘‘ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوا ہوں جو ان دنوں امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پالیسی مرتب کرنے والے اہم اداروں میں تعینات ہیں او ر پاک-بھارت تعلقات پر نگاہ رکھنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان سے رابطے کے بعد میں نہایت اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ششی تھرور واشنگٹن میں ہوئی ملاقاتوں کے دوران یہ حقیقت تسلیم کرنے کو مجبور ہو جائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین عہدے داروں- وزیر خارجہ مارکوروبیو جو اتفاقاََ ان دنوں صدر ٹرمپ کا مشیر برائے قومی سلامتی بھی ہے اور نائب صدر جے ڈی وینس- نے اپنے بھارت اور پاکستان میں تعینات ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطوں کے بعد ممکنہ طورپر ’’ایٹمی جنگ‘‘ کی جانب بڑھتی پاک-بھارت جھڑپ رکوائی ہے۔ یہ بات تسلیم کئے بنا ششی تھرور اپنی جانب سے تیار کیا کیس آگے نہیں بڑھا پائے گا۔ تفصیلات میسر ہوئے بغیر لیکن اس ضمن میں مزید کچھ لکھنے سے قاصر ہوں۔
7 مئی کے روز سے پاک-بھارت چپقلش پر لکھتے ہوئے ویسے بھی تھک چکا ہوں۔ پاک-بھارت جنگ کے متوازی(اور میری دانست میں اس کی وجہ سے) ہمارے دیرینہ دوست چین کی پہل سے کابل میں افغانستان، پاکستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس میں واضح انداز میں یہ لکھا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین سی پیک کے تحت طے ہوئے منصوبوں کو اب افغانستان تک بھی بڑھایا جائے گا۔ افغانستان بھی گویا اب چینی صدر کے سوچے ’’ون بیلٹ- ون روڈ‘‘ کے عظیم تر منصوبے کا حصہ بن گیا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر چین سی پیک کے حوالے سے افغانستان کا سانجھے دار بن گیا تو بھارت کو وسطی ایشیا کے ممالک تک رسائی میں کیا دِقت پیش آ سکتی ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لئے وزارت خارجہ سے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ بریفنگ درکار ہے اور ہماری وزارت خارجہ نے مجھے ہی نہیں ’’دو ٹکے کے‘‘ سب صحافیوں کو منشی تصور کرتے ہوئے بریفنگ دینا ترک کر رکھا ہے۔ ہماری وزارت خارجہ کے بابو صحافیوں کا فریضہ فقط یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ ان کی ہفتہ وار بریفنگ میں ہجوم کے سامنے ادا ہوئے کلمات پر اکتفا کریں اور وزارت خارجہ سے جاری ہوئیں پریس ریلیزوں سے ’’علم‘‘ کشید کریں۔