سابق ایم پی اے چوہدری اصغر علی گجر اور چوہدری اسامہ اصغر گجر ایڈووکیٹ نے جنوبی پنجاب کی سیاست کے تالاب میں پہلا پتھر پھینک دیا یہ لوگ بریانی کی پلیٹوں پر جلسوں میں نہیں آئے بلکہ ایک نظریہ لیکر یہاں آئے ہیں،چوہدری اسامہ اصغر گجر ایڈووکیٹ جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع میں سابق ایم پی اے اور جماعت اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر چوہدری اصغر علی گجر اور ان کے بیٹے اسامہ اصغر گجر ایڈووکیٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو ایسے وقت میں جوائن کیا، جب پاکستان تحریک انصاف پر 9مئی کے خود ساختہ واقعہ کے بعد کڑا وقت ہے،اور پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا اُٹھانے والوں حتیٰ کہ نام لینے والوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کرکے ناجائز اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے،یہی نہیں ضلع لیہ کی یونین کونسل لدھانہ اور اپنی آبائی یونین کونسل میں اسامہ اصغر گجر نے ورکرز کنونشن کرکے سیاست کے تالاب میں ایسا پتھر پھینکا ہے کہ کناروں سے باہر آنے والے پانی میں ضلع لیہ کی سیاست ڈوبتی اور ان کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے،چوہدری اصغر علی گجر ماضی کا ایک ایسا کردار ہے جس کی سیاست ہمیشہ مزاحمتی رہی،اپنی اس مزاحمتی سیاست میں چوہدری اصغر علی گجر کے خلاف ماضی میں لاتعداد پرچوں اور جھوٹے مقدمات کا اندراج ہوا لیکن وہ نہ ان مقدمات کا سامنا کرنے سے ڈرے اور نہ ہی انہیں جبر کی کوئی طاقت جھکا سکی،ان کی مزاحمتی سیاست کا ہی خاصہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے ایک ایسی پارٹی کا چناؤ کیا جس کی عوام میں تو مضبوط جڑیں ہیں لیکن آج وہ اپنی عوامی مقبولیت کی بنا پر زیر عتاب ہے،لدھانہ یونین کونسل میں ہونے والے پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن نے پارٹی ورکروں کو ایک ایک نئے ولولے،جوش اور حوصلہ دیا ہے،پنجاب میں یہ ایک ایسی امید کی کرن ہے جو ورکروں کیلئے اندھیرے کے بعد طلوع ہونے والی صبح ہے،اسامہ اصغر چوہدری اور چوہدری اصغر علی گجر کی قیادت میں ورکروں کی ایک بڑی تعداد پنڈال میں پہنچی،یہ پہلا ورکرز کنونشن تھا جس میں یونین کونسل کے ورکروں کو اطلاع دی گئی مگر اس ورکرز کنونشن نے ایک بڑے جلسہ کی شکل اختیار کرلی،انتظامیہ جو عوامی احساسات،جذبات سمجھنے سے عاری محض غیر آئینی نگران حکومت کے غیر آئینی آرڈرز کی پابند دکھائی دیتی ہے نے ایک مجسٹریٹ کی قیادت میں پولیس کو بھیج کر نہ صرف کنونشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی بلکہ ایمپلی فائر ایکٹ اور دیگر دفعات لگا کر ایف آئی آر کاٹ دی،اور اس ایف آئی آر میں 9مئی کے خود ساختہ واقعہ کا بھی ذکر کیا گیا،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور ورکروں کے خلاف پاکستان بھر کے کسی بھی پولیس اسٹیشن میں جو ایف آئی آر درج ہوتی ہے اس کا ایک ہی متن ہوتا ہے پولیس کے کسی بھی اہلکار کی مدعیت میں کہ میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ فلاں شخص ولد فلاں عوام کو اشتعال دلارہا تھا اور اکسا رہا تھا،پھر ایس ایف آئی آر کی آڑ میں گھروں میں چھاپے اور چادر اور چار دیواری کی پامالی شروع ہوجاتی،ضلع لیہ کی یونین کونسل لدھانہ میں ہونے والے پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن پر بھی پولیس کا وہی رد عمل تھا جو 9مئی کے خود ساختہ واقعہ کو آڑ بنا کر روا رکھا جارہا ہے،جس کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ ”9 مئی ایک خود ساختہ سازش، جسکا مقصدتحریک انصاف کو توڑنے کا جواز حاصل کرنا تھا“چیئرمین عمران خان کیخلاف جاری انتقامی سلسلے پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے، چاہتے ہیں کہ چیئرمین عمران خان کو فراہمی انصاف میں تاخیر کے ذریعے قوم کو احتجاج پر نہ ابھارا جائے اور اُن کی درخواستِ ضمانت فوری سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔نگراں حکومت کے تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کے دعوے خلاف حقائق ہیں، کیوں کہ پی ٹی آئی کو اس وقت انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مہم کی اجازت نہیں مل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں سے عوام میں پارٹی کی مقبولیت مزید بڑھ رہی ہے۔ ’انتقامی کارروائیوں سے عام لوگوں میں ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں‘۔پی ٹی آئی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے جس کو مختلف حربوں سے الیکشن مہم سے کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے,بریانی کی پلیٹوں پر جلسوں میں بلانے والے غریب لوگوں کے بعد جب پڑھے لکھے گھرانوں کی کمی محسوس ہوئی تو خان صاحب کی طرح اپنے ڈی جے اور پارٹی ترانے، مفلر، ٹوپیاں یہاں تک کے کرتے بھی پرنٹ کروا لیے مگر خان کے جلسے والے جوش کہیں سے خرید نا سکے۔ اسی لیے اپنی خفت کو مٹانے کے لیے ہر بار تحریک انصاف کے جلسے میں شریک خواتین کی کردار کشی کو اپنے سیاسی بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے ہتھیار بنایا جاتا رہا۔ امیدوار صوبائی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف پی پی 282چوہدری اسامہ اصغر گجر نے اپنے خطاب میں کہا کہ خالی خزانہ، مشکل معاشی حالات، ملکی قرضہ، مہنگائی اور ان سب کا ذمہ دار صرف خان! مریم نواز ہو یا بلاول، کیا وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہیں نوجوان کی نبض پکڑنا خان نے سکھایا یا پھر عوام اس بات کی گواہ نہیں کہ خاندانی رئیس ان نوجوان سیاستدانوں کو اے سی والے کمروں سے نکال کر عوام میں لانے والے بھی خان ہی ہے۔ پھر سنائیے مجھے، ن لیگ کا کوئی ایک سال کا پالن یا پھر پیپلز پارٹی کے روٹی کپڑا اور مکان کے سالوں پرانے نعرے کے علاوہ کوئی معاشی خود مختاری کا پلان یا پھر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ان کے علاقے کی ترقی کا کوئی حل؟ اس مملکت خداداد میں بسنے والے عام انسان ان تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مہرہ ہے اور پانچ سال بعد دو سے پانچ ہزار روپے میں بک جانے والے ایک پتال۔ انقلاب سب کو اچھا لگتا ہے، شعور کی گھنٹیاں بہت سے ذہنوں میں بج رہی ہیں، سچائیاں سب کے سامنے عیاں ہیں مگر 9 مئی جیسے واقعے کے زیر عتاب آئی صنم جاوید، یاسمین راشد، خدیجہ اور بہت سے نوجوانوں کی حالت زار دیکھ کر اب نوجوان تبدیلی کا نعرہ سیاست کے لیے نہیں بلکہ ملک سے باہر جانے کے لیے لگا رہے ہیں مگر ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کی ڈوریاں ہلانے والے سب اس وقت بھی خان کی شہرت سے نہ صرف خوف زدہ ہیں بلکہ متاثریں بھی۔ اسی لیے شاید سانحہ لمز جیسے واقعات 9 مئی کے زخم تازہ کرتے ہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتیں خان مخالف بیانیے کو بڑے جلسوں میں بیان کرکے عوام کو متاثر کرنے کی بجائے شاید اپنے خوف کو دبانے کہ تگ و دو میں ہیں۔ عمران خان کا کہنا بالکل درست ہے کہ، ”اس واقعہ سے مستفید ہونے والے ہی دراصل اسکے ذمہ دار ہیں اگلے روز پولیس نے گاڑیاں لیکر تحریک انصاف کے ورکروں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ ایسا شروع کیا جیسے وہ بہت بڑے دہشت گرد ہوں یا انہوں نے پاکستان کی ایک بڑے سیاسی جماعت کے ورکرز کنونشن میں شرکت کرکے کوئی دہشت گردی کی ہے،بہت سے ورکروں کو اس جسارت پر گرفتار بھی کیا گیا جنہیں چوہدری اصغر علی گجر نے آئینی رستہ اختیار کرتے ہوئے رہا کرا لیا،جبکہ اسامہ اصغر گجر اور چوہدری اصغر علی گجر کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے جس پر ضلع لیہ کے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور اس واقعے کی بھر پور مذمت کی پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی کی صورتحال اور اس سے متعلق دعوے تو ہمارے کانوں نے بہت سنے لیکن ان دعووں کی تکمیل ہمیشہ پولیس نے ناجائز،جھوٹی اور من گھڑت واقعات کی ایف آئی آر کی شکل میں ہمارے ہاتھوں میں تھمائی،چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا مضحکہ خیز مقدمہ ہماری سیاسی تاریخ کے کانوں نے سنا،اور ایسے واقعات پر آج تک تاریخ ہمارا تمسخر اڑاتی ہے ۔ موجودہ حالات میں بھی نو مئی کے واقعات کے بعد جس طرح پے در پے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں پر مقدمات قائم کیے گئے اور انھیں گرفتار کیا گیا اس نے ملک کے احتساب کے نظام، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے نظام کو رند ڈالا۔اگر پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز گذشتہ چند ماہ سے ایک کے بعد ایک متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان کی مختلف عدالتوں سیبار بار رہائی کا حکم ملنے کے باوجود انھیں رہائی نہ مل سکی۔پشاور کی عدالت عالیہ نے انھیں اپنے احکامات کے تحت رہا نہ کرنے پر سول بیوروکریسی اور پولیس افسران کی سرزنش، جرمانے اور توہین عدالت تک کی کارروائی کا آغاز کیا مگریہ احکامات ہیں کہ ہوا میں اُڑائے جارہے ہیں۔
187