قومیں شاعروں کے دلوں میں جنم لیتی ہیں اور سیاست دانوں کے ہاتھوں میں پھلتی اور مرتی ہیں۔ ترقی کا خاکہ زبان کی اہمیت کو سمجھے بغیر وضع نہیں کیا جا سکتا۔ پشاور بورڈ کے تحت انٹرمیڈیٹ پارٹ اوّل (HSSC Part-1) کے نتائج 13 ستمبر 2025ء کے روز جاری ہوئے۔ نتائج کے اعدادوشمار اپنی جگہ مگر اِن سے ایک خاص رجحان یعنی ہمارے تعلیمی اور تہذیبی بحران کی عکاسی ہو رہی ہے۔ یہ نتائج صرف امتحانی کارکردگی نہیں بلکہ ایک قوم کی فکری سمت اور ترجیحات کی جھلک ہیں۔ لڑکیوں کی کارکردگی اور زبانوں کی طاقت اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ طالبات نے مجموعی طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی۔ پری میڈیکل گروپ میں 15,289 طالبات شریک ہوئیں، جن میں سے 9,485 کامیاب ہوئیں یہ تناسب باسٹھ فیصد بنتا ہے۔ پری انجینئرنگ میں کامیابی کی شرح 7.58% رہی جبکہ ہیومینیٹیز میں یہ 2.77% تک جا پہنچی۔ ہوم اکنامکس کی طالبات 5.79% شرح کامیابی کے ساتھ سب سے آگے رہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جب تعلیم نسبتاً لسانی یا سماجی علوم سے جڑی ہو، تو کامیابی نمایاں ہوتی ہے۔
اردو اور پشتو کے نتائج بھی اسی بیانئے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اردو: 97.35% کامیاب ہوئے۔ پشتو 96.09% کامیاب رہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ماں بولی یا مانوس زبانوں میں طلبہ کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہوتی ہے کیونکہ وہ شناخت اور فطری اظہار زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ لڑکوں کی کارکردگی اور سائنسی مضامین میں ناکامی لڑکوں کے نتائج خاص طور پر سائنس کے شعبے میں تشویشناک ہیں۔ پری میڈیکل (19,627 طلبہ) میں کامیابی کی شرح صرف 7.34% رہی۔ پری انجینئرنگ (3,474 طلبہ) میں یہ اور بھی کم ہو کر 30.3% رہ گئی۔ جنرل سائنس/کمپیوٹر سائنس گروپ (12,348 طلبہ) میں محض 7.22% طلبہ کامیاب ہو سکے۔ اس تصویر کے ساتھ اگر ہم انفرادی مضامین دیکھیں تو صورتحال مزید ’’خوفناک‘‘ دکھائی ہے۔ ریاضی (حساب کے مضمون) میں کامیابی کی شرح صرف 46.24% جبکہ طبیعیات (فزکس) میں 51.95% یعنی نصف سے زیادہ طلبہ سائنسی مضامین میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ صرف تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ مستقبل کی قومی صلاحیت پر سوالیہ نشان ہے۔
ہیومینیٹیز یعنی سماجی علوم کے مضامین میں کامیابی کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ لڑکیوں میں 77.2%، لڑکوں میں 45.7%۔ نجی (پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے امتحانی) امیدواروں میں خواتین نے 71.4% جبکہ مردوں نے 38.3% کامیابی حاصل کی۔ یہ رجحان بیان ہے کہ کس طرح ہمارے تعلیمی ڈھانچے میں وہ مضامین زیادہ کامیابی دے رہے ہیں جو رٹہ یا یادداشت پر مبنی سیکھے جاتے ہیں جبکہ سائنسی و تحقیقی صلاحیتوں والے مضامین میں طلبہ کی کارکردگی مایوس کن اُور ناکامی ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
اب ذرا فارسی کی بات کرتے ہیں جو کبھی پشاور اُور ملک کے دیگر حصوں میں گھر گھر کی زبان ہوا کرتی تھی۔ دفتری امور اُور بالخصوص علمی ادبی محافل میں فارسی زبان بولنے کو امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ فارسی کی کتب کا بڑا ذخیرہ دینی علوم پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بھی اس سے لگاؤ اُور رغبت زیادہ تھی لیکن وقت کے ساتھ درسی و تدریسی ترجیحات تبدیل ہوتی چلی گئی ہیں جسے تہذیبی ورثے کا جنازہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ حالیہ امتحانی نتیجے میں سب سے افسوس ناک پہلو فارسی زبان کا ہے۔ اس سال (دوہزارپچیس) میں محض 2 طلبہ نے فارسی کا انتخاب بطور مضمون کیا تھا جو اپنی جگہ حیرت انگیز بات ہے لیکن اسے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ دونوں ہی کامیاب (پاس) ہونے میں ناکام رہے اُور یوں فارسی کا نتیجہ ’’صفر‘‘ رہا جو درحقیقت فارسی کا نہیں بلکہ ہمارے گھربار کے ماحول کا نتیجہ ہے۔ صرف دو طلبہ کی امتحان میں شمولیت اُور دونوں ہی کی ناکامی کو ایک لحاظ سے پورے تہذیبی ورثے کا زوال قرار دیا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ غالب، میر اور اقبال کی زبان آج نصاب میں زندہ رہنے کے باوجود مردہ دکھائی دیتی ہے۔
ہندکو کہاں ہے؟
ہندکو زبان کو نتیجے سے گویا غائب ہی ہےاور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہندکو کا شمار پاکستان کی نظرانداز شدہ زبانوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ہندکو بولنے والوں کے سیاسی و سماجی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے مختلف تحاریک موجود ہیں لیکن اُن کی کوششیں مربوط نہ ہونے کی وجہ سے خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔
برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کی مادری زبان ہندکو ہے مگر ان نتائج میں ’’بورڈ رزلٹ‘‘ میں کہیں ذکر نہیں۔ کیا فیصلہ ساز اِس بارے میں سنجیدگی سے سوچیں گے؟ یہ لسانی ناانصافی ہے، جو ایک بڑی آبادی کو نصاب اور امتحانی نظام سے الگ کئے ہوئے ہے۔ فارسی کی طرح ہندکو زبان بھی حاشیے پر جا چکی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پشتو زبان میں کامیابی کی شرح 96.06% فیصد رہی۔ انگریزی زبان جسے لازمی قرار دیا گیا ہے اُس کا امتحان دینے والوں میں کامیابی شرح حیران کن طور پر 97.35 فیصد رہے۔ القصہ مختصر یہ بورڈ نتیجہ واضح پیغام لئے ہوئے ہیں کہ ایک خاص ماں بولی سے رشتہ مضبوط مگر سائنسی مضامین اور انگریزی سے رشتہ کمزور ہے۔ سب سے بڑھ کر، ہم نے فارسی جیسے تہذیبی سرمایہ (ورثے) کو دفن کر دیا ہے اور ہندکو جیسی زبان کی اہمیت کو تو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا جا رہا۔ مفکر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا انتباہ آج حقیقت بن چکا ہے کہ قومیں زبان، فکر اور شاعری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ نتائج ہمیں بیدار کریں گے یا ہم خاموشی سے اپنے زوال کو قبول کر لیں گے؟
جو حسن و عشق کا ہم وزن امتحاں ٹھہرا
وہ بے دہن نظر آیا میں بے زباں ٹھہرا
(شاعر منشی خیراتی لال شگفتہ)
تعلیمی بحران یا تہذیبی زوال؟....