شریعت اور سائنس دونوں یہی کہتی ہیں کہ رات کو جلدی سونا اور صبح سویرے جاگنا انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر شریعت کو دیکھیں تو رسول اللہ ۖ کا معمول مبارک یہ تھا کہ آپ عشاء کی نماز کے بعد سو جایا کرتے تھے اور صبح کو جلد اٹھتے تھے اور امت کو بھی اسی کی ترغیب دیتے تھے۔ حالانکہ اس دور میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو رات کو دیر تک جاگتے تھے۔ لوگ راتوں کو زیادہ تر قصہ گوئی کی محفلیں لگا کر بیٹھے رہتے اور دیر تک قصے کہانیاں سنتے سناتے۔ایسے معاشرے میں رات کو جلد سونا بھی عیب سمجھا جاتا تھامگر نبی کریم ۖ نے دیگر تمام غلط امور کی طرح اس میں بھی معاشرے کی پرواہ نہ کی اور انسانیت کی درست تعلیم کے لیے ہر معاملے میں آپ ۖ نے خود عمل کر کے دکھایا۔ احادیث مبارکہ میں بھی عشاء کے بعد جلد سونے کی ترغیب دی گئی ہے اور رات کو قصہ گوئی سے منع کیا گیا ہے ۔ البتہ اگر کوئی دینی امور جیسے تعلیم و عبادت ہو یا کوئی اہم دنیا وی مسئلہ درپیش ہو یا گھر والوں سے گفتگو یا مہمانوں کی ضیافت کرنے کی ضرورت ہو تو یہ تمام امور عشاء کے بعد سرانجام دیے جا سکتے ہیں اور احادیث سے ثابت بھی ہیں ۔ مگر عشاء کے بعدجلدی سونے کا معمول ہونا چاہیے اور یہ مستحب ہے ۔ خلاصہ یہ کہ کوئی ضروری دینی یا دنیاوی کام ہو تو اس کے لیے تو جاگنا جائز ہے لیکن بلا وجہ اس کی عادت بنا لینا اور فضول کاموں میں مصروف ہونا مکروہ ہے اور اگر کسی ایسے کام میں مشغول ہو جائے جس کی وجہ سے فجر کی نماز قضا ہونے کا غالب گمان ہو تو وہ ناجائز ہے۔ اگر سائنسی تحقیق پر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں سے بھی ہمیں یہی ترغیب ملتی ہے کہ رات کو جلدی سویا جائے اور صبح جلدی بیدار ہوا جائے تو انسانی صحت اور زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق جسم کے اندر ایک بائیولوجیکل واچ کام کر رہی ہوتی ہے جو پورے جسم کی مینٹی نینس کا کام سر انجام دیتی ہے ۔ یہ زخموں کی درستی اور جگر کے امور کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔ جگر اس وقت صحیح طور پر کام کرتا ہے جب انسانی جسم سکون میں ہو اور ا س میں کوئی حرکت نہ ہو رہی ہے ۔ انسانی جسم صرف اس وقت سکون میں ہوتا ہے جب انسان سو رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جگر کے مریضوں کو نیند بہتر کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ ایک اور تحقیقی کے مطابق رات 11بجے سے شب 3بجے تک انسانی جسم کا زیادہ تر خون جگر میں جمع ہو جاتا ہے اور جگر اس میں سے فاسد مادوں کو تباہ کر دیتا ہے ۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان سو رہا ہو۔ اگر وہ اس وقت جاگ رہا ہو تو جگر اس کام کو صحیح طور پر انجام نہیں دے پاتا اور وہ فاسد مادے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں اور انسان کی طبیعت درست نہیں رہتی۔ اسی طرح صبح جلدی اٹھنے میں بھی بہت سے فوائد پوشیدہ ہیں۔ ازروئے حدیث اللہ رب العزت نے صبح کے اوقات میں برکت رکھی ہے ۔ اس لیے صبح جلدی جاگنا چاہیے اور اپنے کاروبار ، دکانیں اور بازار بھی صبح جلدی کھولنے چاہئیں ، چونکہ یہ بابرکت وقت ہوتا ہے اس لیے اس وقت کی تجارت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادہ نفع اور برکت ہو گی۔ اسی طرح رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی جاگنے کی رسول اللہ ۖ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے تمام مسلمان نماز فجر بلکہ بہت سے تو تہجد کے بھی عادی ہو جائیں گے جو سراپا رحمت و برکت ہے۔ حکومت نے کئی بار کوشش کی کہ مارکیٹیں صبح جلدی کھلیں اور رات کو جلدی بند ہو جائیں مگر ہمارے تاجر حضرات اس بات کو نہیں مانتے حالانکہ اس میں ہر لحاظ سے فائدہ ہے۔ ان کی ذات کے لیے بھی اور ملک کے لیے بھی۔ ہمارے ہاں رات گئے تک بازار کھلے رہتے ہیں جس کی وجہ سے توانائی کا بے حد اور بے جا اسراف ہوتا ہے ۔ ایک ایک دکان میں سینکڑوں بڑے بڑے بلب روشن ہوتے ہیں پوری پوری مارکیٹوں میں رات کے اوقات میں بھی اس قدر روشنی ہوتی ہے کہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ رات کا وقت ہے یا دن کا۔ دن کے وقت جب قدرتی روشنی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہوتا ہے تب ہم سوئے رہتے ہیں اور اسے ضائع کر دیتے ہیں لیکن جو توانائی ہمارے پاس محدود مقدار میں موجود ہے جسے دیگر ضروری کاموں کے لیے بچانا چاہیے ہم اس کا بے دریغ اسراف کرتے ہیں۔ اگر مارکیٹیں صبح جلدی کھلیں اور شام کو جلدی بند ہو جائیں تو اس سے کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تو ہمارے تاجروں نے بلا وجہ ضد لگا رکھی ہے حالانکہ ہماری حکومتیں کبھی کبھار ہی کوئی کام کا فیصلہ کرتی ہیں مگر ان کی راہ میں بھی عوام خود ہی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اگر مارکیٹیں رات کو جلدی بند ہو جائیں تو لوگوں کو علم ہو گا کہ اگر کچھ خریدنا ہے تو فلاں وقت سے پہلے پہلے خرید لیں اس کے بعد نہیں ملے گا۔ مارکیٹیں جلدی بند ہو جانے سے عوام ضرورت کی اشیا ء خریدنا تو نہیں چھوڑ دیں گے، وہ تو خریدنی ہی ہیں لہٰذا وہ ان اوقات میں خریدنے پر مجبور ہوں گے جن میں مارکیٹیں کھلیں گی۔ اس لیے بازار جلدی کھولنے اور جلدی بند کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اس بہترین اقدام میں تاجروں کو چاہیے کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں اور اپنی اور عوام کی صحت کی بہتری اور ملکی توانائی کی بچت کے لیے حکومت کا بھر پور ساتھ دیں اور مارکیٹیں جلدی کھولیں اور شام کو جلدی بند کر دیں۔
142