’’پولیٹیکل سائنس‘‘ اور ’’گورنمنٹ اینڈ پالیٹکس‘‘کے ڈسپلنز کے سکالرز اور ان کے ایڈوانس سٹڈیز کے سٹوڈنٹس تو خوب جانتے ہیں کہ ’’اولاگری‘‘ (OLIGARCHY) نظام حکومت و سیاست کی اصلیت کیا ہے اور یہ کس ذہنیت اور قماش کے ٹولوں سے وجود میں آتا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ یہ کوئی بادشاہت، صدارتی، پارلیمانی اور ون پارٹی آمریت جیسا کوئی علانیہ حکومتی و سیاسی نظم نہیں جس کی کوئی اخلاقی بنیاد ہو، لیکن یہ اپنی دید و نادید شکل میں بڑی طاقت اور غلبے کے ساتھ اپنے وجود اور پریکٹس کا حامل ہے۔ آج کی جدید دنیا میں بھی یہ اپنی اپنی نیشن اسٹیٹ کے کروڑ ہا شہریوں کو طرح طرح سے بیوقوف بناتا اور اس کا استحصال کرتا ریاست کے وسائل اور انتظامی اختیارات پر قابض ہے۔ متذکرہ ہر دو ڈسپلنز کی تاریخ و لٹریچر کے مطابق اس کی منظم شکل اور مکمل غلبہ یونانی زمانہ قدیم کے عروج میں ملتا ہے۔
یہ زمانہ کوئی تین چار سو قبل از مسیح کا تھا جب ارسطونے اس نظام حکومت و سیاست کو ’’اولاگرکی‘‘ کا نام دیا جو اصل میں یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ’’مخصوص ٹولے کی حکومت‘‘ ہے۔ ہم اسے مافیا راج، دولت راج، ڈاکو راج وغیرہ کے نام بھی دے سکتے ہیں۔ اس کا انحصار ٹولے کی بنیاد پر ہے۔ اولاگرچوں کہ غیر اعلانیہ نظام حکومت و سیاست ہے جو کسی اور ہی پردے (جمہوریت، بادشاہت ، آمریت وغیرہ) میں لپٹ کر انسانوں پر مسلط ہوتا ہے، کا تعلق انسان میں پائی جانے والی انتہائی منفی جبلت سے ہے اور شر اور خیر، تمام مذاہب خصوصاً قرآنی تعلیمات کے مطابق تاقیامت انسانی زندگی کے ساتھ جڑا لازمہ ہے، جیسے ان (خیر وشر) کے درمیانہ معرکہ بھی جاری و ساری رہے گا، سو یہ نہ سمجھا جائے کہ ’’اولاگرکی‘‘ کوئی زمانہ قدم کا ہی حکومت و سیاست کا شیطانی نظریہ اور ماڈل ہے، یہ اپنی وسیع تر اور کامیاب ترین شکل میں آج بھی جاری و ساری ہے، تاہم اس کا یہ تشخص قائم دائم ہے کہ یہ برہنہ صفت ہو کر بھی نادید بھی ہے اور سراب بھی۔ یوں سمجھئے کہ ’’اولاگرکی‘‘ نادید اور غیر اعلانیہ اولاگرکی آج اپنی طاقت اور بطورسیاسی و حکومتی نظام میں اتنا وسیع اور طاقت ور ہو گیا ہےکہ اس نے اپنے انڈے بچے بھی دے دیئے ہیں۔ اگر آپ اس (اولاگرکی) کا گہرا مطالعہ یا تحقیق کریں یا پولیٹیکل سائنس اور گورنمنٹ اینڈ پالیٹکس کی ایڈوانس سٹڈی میں جائیں تو آپ کو اولاگرکی کے مختلف پریکٹسنگ ماڈلز، اقسام سے بھی شناسائی ہوگی۔ اس مطالعہ سے واضح ہوگا کہ ’’اولاگرکی‘‘ بنیادی طور پر بہت بڑے فیصد کی ریاستی آبادی پر کسی ایک بڑے ٹولے، طبقے بالخصوص مفاد پرست ٹولوں اور طبقات کی دولت، علمیت، رنگ و نسل و مذہب وغیرہ اور مخصوص مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اقلیتی حکومت ہوتی ہے اور اقلیتی بھی بااعتبار تعداد بہت حقیر۔ آج کی جدید دنیا میں بھی جبکہ مغربی جمہوریت نے اپنے ’’حسن و جمال ‘‘ سے خود کو نیلم پری کے طور پر کل عالم سے تسلیم کرا لیا ہے اولاگرکی راج اس کا لبادہ اوڑھ کر بھی قائم ہوتا ہے حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب کمیونزم اور سوشلزم اپنے عروج پر پہنچا اور جمہوریت کا بھی ڈنکا بجا ، نو آبادیاتی نظام تیزی سے تحلیل ہوتاتقریباً دم توڑ گیا۔ اپنی سخت جانی سے روڈیشیا (جنوبی افریقہ)، لائبیریا،زنجبار، فلسطین اور کشمیر میں اپنی بدترین شکل میں جاری رہا۔اولین تین ملکوں میں تو اس نے قائدین آزادی اور نہتے عوام کی جدوجہد سے اسے بالآخر آخری شکست سے دوچار کیا جبکہ فلسطین اور کشمیر میں یہ جاری ہے۔ سب سے بڑھ کر بھارت میں اولاگرکی میٹریل (دولت مند لوگوں) اور ذہنیت نے ایسا کام دکھایا کہ بھارتی روح کی آئین اور ریاست کے تشخص ’’سیکولر ڈیموکریٹک اسٹیٹ‘‘ کو ٹھکانے لگا کر اس سے متصادم ہندو بنیاد پرست حکومت بھاری مین ڈیٹ کے ساتھ بنا کر دکھا دی۔ یہ جدید دور میں اولاگرکی کی طاقت و ذہنیت سے نکلی وہ ہونی ہے جو متحدہ ہندوستان میں مسلمانان ہند نےاولاگرکی نظام کے برعکس خالصتاً جمہوری اور آئینی جدوجہد سے اکثریت کے مقابل قیام پاکستان سےممکن بنائی۔
پاکستان بنا تو قائد کے انتقال کے ساتھ ہی اولاگرکی ذہنیت اور ایکشنز نے نئے حکومتی و سیاسی عمل میں بڑی تیزی سے جگہ بنائی جس کی عملی شکل محلاتی سازشوں اور آئین سازی میں ٹال مٹول کی صورت بنی۔ یہ اسمبلی توڑنے کے غیر آئینی اقدام اور اس کی عدلیہ سے توثیق کی شکل میں وارد ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے نومولود پاکستان کے ریاستی و حکومتی نظام کو سول و عسکری بیورو کریسی اور غالب جاگیردار طبقے نے اپنی طاقت، ہوس اور اقتدار و اختیار کی طاقت میں جکڑ لیا۔تیار متفقہ آئین (1956ء)کو لپیٹ کر عام انتخابات سے قبل مارشل لا لگا دیا گیا۔ اس سارے ایک عشرے کے لئے ماحول کے درمیان میں ایک موقع آیا تھا کہ نئی ریاست آمریت اور مختلف ماڈلز کے اولاگرکی گڑھے میں گرنے سے بچ جاتی، لیکن اس کی ساری اور واحد امید عدلیہ سے تھی، جو بدقسمتی سے اولاگرکی سایے میں آ کر خود اس کا حصہ بن گئی تھی۔ سو آج ہم سب اس پر متفق ہیں کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد کا اسمبلی توڑنے کا غیر آئینی اقدام اور سپیکر مولوی تمیز الدین کو اسے چیلنج کرنے پر حکومتی عوام و ملک دشمن اقدام کی عدلیہ سے توثیق آج پاکستان کےشدید بحرانی ریاستی اداروں کی جڑ ہے جو کاٹی نہ جا سکی۔ اندازہ اس سے لگا لیں کہ متفقہ آئین (1973) بن کر بھی نافذ العمل نہ ہو سکا۔
عوام کے سب سے بڑے اور بنیادی حق مقامی حکومتوں کے قیام کو عملاً اولاگرکی ٹولہ نہیں مانتا۔ پاکستان اولاگرکی ماڈل بلاکا کامیاب اور عوام کے لئے تباہ کن ثابت ہوا جس میں آئینی ریاستی ادارے اپنے اختیارات کا بے دریغ تجاوز سے استعمال کرتے ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ جس کا سوائے دفاع و سلامی وطن کے کوئی سول انتظامی آئینی اختیار نہیں جمہوری سیاسی انتخابی عمل سے نکلی حکومتوں پر مکمل اثر انداز ہونے کی ثابت شدہ صلاحیت کی حامل ہے۔ جاری سیاسی و معاشی مہلک بحران سے نکلا اب آج پاکستان کا پُرخطر ہوگیا عدالتی بحران اسی اولاگرکی (نظام بد) کی انتہائی بدترین شکل ہے، جس میں آئین و قانون تشریح وزیر داخلہ کرتا ہے، وزیر قانون اس کی تائید و وضاحت کرتا ہے پھر پوری اولاگرکی حکومت اپنی طاقت کی وحشت و دہشت سے اسے عدلیہ اور پوری قوم سے منوانے پر تل جاتی ہے۔ یوں آج اسلامی جمہوریہ پاکستان، دنیا میں اولاگرکی سیاست و حکومت کا بدتر نمونہ بن گیا ہے، شکر ہے اس کے خلاف بالآخر مزاحمت بھی پوری شدت سے شروع ہوگئی کہ ابھی جاں باقی ہے۔