امیدوں کا محور (کامیاب وزرائے اعظم) 420

امیدوں کا محور (کامیاب وزرائے اعظم)

پاکستانی جمہوریت طاقتوروں لوگوں کارعب و دبدبہ اوراختیار چاہتی ہے اور قومی آمریت قانونی جواز اور عوام میں مقبولیت کی فکر میں لگی رہتی ہے۔ یہاں آمریت طاقت ور ہے اور جمہوریت ذمہ دار.... قائداعظم محمد علی جناح کے بعد اب تک دو کامیاب لیڈر وطن عزیز کی مسائل زدہ عوام کا نصیب بنے- ایک ذوالفقار علی بھٹو دوسرے میاں محمد نوازشریف,دونوں کامیاب سیاستدان ,کامیاب حکمران بھی رہے ہیں, دونوں عوامی خدمت کی بدولت مقبول رہے ۔ ان دونوں کےاقتدارکو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ۔ دونوں قسمت کے سکندر رہے اور عوام میں مقبولیت حاصل کرکے اپنی بنائی ہوئی جماعتوں کی وساطت سے اعلیٰ ترین سیاسی اور حکومتی مناصب تک پہنچے۔ دونوں پر عوام نے بھروسہ کیا۔ ان کے علاوہ سب حکمرانوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا,اپنے ادوار میں قومی پیداوار اور ملک کی ترقی اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ سب ہتھوڑے اور چھڑی والوں کی مہربانی سے نامور ہوئے پھر ان ہی کے ہاتھوں مصائب کا شکار ہوئے ۔ میاں محمد نواز شریف اور ذوالفقار بھٹو دونوں کی ذہنی سطح، سماجی مرتبہ، سیاسی فلسفہ، علم، عقل، دانش، ماحول سب کچھ الگ ہے لیکن دونوں کی زندگی میں کافی مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔ جمہوریت کو شیشے میں اتارنا قدم جم جانے کے بعد غیر آئینی لوگوں کے مخالف ہونے کا تاثر دے کر عوام میں مقبولیت حاصل کرنا، عملیت پسندی و بیدار مغزی کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف قانون پر عملداری، سماجی اقدار اور اختیارات کےارتکاز کی آئینی ان کے کامیاب حکمران بننے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ ان کے ادوار میں پاکستان کی صنعت، تجارت اور معیشت کوغیرمعمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں حکمرانوں کے دور میں پیداوار میں اضافہ ، غیرپیداواری اخراجات میں کمی ، تجارتی خسارہ میں کمی ، روپے کی قدر میں اضافہ ، قرضوں کےحجم میں نمایاں کمی ۔ صحت، تعلیم، پینے کے پانی مفاد ِ عامہ کےکاموں، روزگار کے مواقع پیداکرنےکے منصوبوں میں اضافہ طویل میگا پراجیکٹ ۔ بہرحال جمہوری طاقت تھی یا جمہوری اقدار دونوں کی قانونی حیثیت اور اخلاقی بنیادیں بہت مضبوط تھیں - لیکن حکومتی کارکردگی میں آمروں, مسلط شدہ حکمرانوں سے بہتر ثابت ہوئے ۔ 1947 سے 1957ءتک جب پاکستان کی صنعت ، تجارت، زراعت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی تب پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے برابرتھی یعنی امریکی ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر تھی اور سالانہ قومی بجٹ منافع کا بجٹ تھا اور کوئی قرضہ پاکستان کے ذمے نہیں تھا۔ شروع دن سے زراعت میں کپاس اور صنعت میں ٹیکسٹائل روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کمانے کا واحد ذریعہ تھا۔ ہماری 80 فیصد برآمد ٹیکسٹائل سے متعلق تھیں اب بھی 66فیصد اسی مد میں ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں ایک ڈالر کی قیمت تین روپے تھی اور ٹیکسٹائل برآمدات 71فیصد جبکہ انڈیاکی ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ یحییٰ کے زمانے میں جب ملک بھارتی جارحیت اور خانہ جنگی کا شکاربنا تب بھی ڈالر کی قیمت پانچ روپے ٹیکسٹائل برآمدات 70 فیصد انڈیا کی ایک فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔بھٹو کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی پاکستانی روپے کی قدر سوفیصد کم ہوگئی اوربرآمد بڑھنے کی بجائے ستر فی صد سے کم ہو کر 33فیصد پر آگئیں۔ یہی زمانہ تھا جب پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ٹیکسٹائل میں مقابلے کا موقع ملا۔ ضیا الحق کے زمانے میں یہ برآمد 70اور 75 فیصد کے درمیان تھیں۔ ضیا الحق کے بعد بینظیر اور نوازشریف کے ادوار میں انڈیا ہمارے مقابلے میں کہیں نہیں تھا اور اس کی برآمد میں بتدریج کمی واقع ہوتی گئ ۔ آخری ڈکٹیٹر کے زمانے میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول 100ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستانیوں کو 37روپے میں دستیاب تھا ۔ جب عالمی مارکیٹ میں قیمت نصف ہوگئی یعنی 50 ڈالر فی بیرل اورپاکستان میں 100روپیہ فی لیٹر مل رہا ہے۔ آج انڈیا کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان کے مقابلے میں پانچ گنا ہوگئی ہیں حتیٰ کہ بنگلہ دیش جہاں کپاس کا ایک پودا بھی پیدا نہیں ہوتاہوہ بھی ہمار ےمقابل آگیا ہے۔ وسائل سے مالا مال قوم ایک بار پھر مسائل زدہ ہوگئ ہے اس بار قوم کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کو متحد رکھے سب کو ساتھ لے کر چلے قوم کو معاشی بھنور سے نکالے ,ماضی کے حکمرانوں کی طرح عوامی جذبات سے نہ کھیلے, یہ صفات قائد ن لیگ میاں محمد نواز شریف کے اندر ہیں, اس بار امیدوں کے محور وہی ہیں -

بشکریہ اردو کالمز