کالم: بازگشت
تحریر: فیاض قریشی
ادب وہ چراغ ہے جس کی روشنی سے قوموں کی تاریکی کافور ہوتی ہے،وہ آئینہ ہے جس میں معاشرے کی زشتی و خوبی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے، اور وہ منبر ہے جس پر بیٹھ کر اہلِ قلم قوموں کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔لیکن افسوس! صد افسوس!کہ آج اسی ادب کو بازار کی رونق، سود و زیاں کی ترازو، اور انعام و اعزاز کے جھوٹے ہالے میں سجا کر بیچا جا رہا ہے۔یہ دور، وہ دور نہیں جب شاعر اور ادیب قوم کے ضمیر کی آواز ہوتے تھے۔
یہ زمانہ ہے، جب ادب کے نام پر کچھ خودساختہ انجمنیں اور چرب زبان اشخاص ادب کو لالچ اور لوٹ مار کا بازار بنا چکے ہیں۔ہر سال ایک نیا“ایوارڈ شو”سجتا ہے —شرط یہ کہ پانچ عدد کتابیں روانہ کرو، ناقابلِ واپسی! نہ معیار دیکھا جاتا ہے، نہ صداقت، نہ فن، نہ فکر —بس شیلڈ کی نمائش اور تصویر کی اشاعت! پانچ کتابیں، چھ ہزار کا خرچ، اور بدلے میں؟چند کو سات سو کی شیلڈ، باقی کو "بہترین شرکت پر سند" یہی وہ سوداگری ہے جس پر ادب کا ماتم واجب ہو چکا ہے! یہ نام نہاد“ادبی رہنما”، دراصل ادب کے سوداگر ہیں،جو نوآموز ادیبوں کی سادہ لوحی کو اپنے کاروبار کی اینٹ بنا چکے ہیں۔ادب کی عظمت کو پاؤں تلے روند کر، اپنی جیبیں بھرنے والے آج کل ہر جلسے میں“خدمت ادب”کے جھنڈے تلے تصویریں بنوا رہے ہیں!
لیکن…ظلمت کے ہر دور میں ایک چراغ روشن ہوتا ہے،اور وہ چراغ ہے: شہزاد حسین بھٹی کا کردار۔یہ وہ مردِ حق ہے،جس نے اپنی جیب سے درجنوں ادیبوں کی کتابیں شائع کیں، انہیں عزت، حوصلہ، اور وقار دیا، جو کسی جعلی ایوارڈ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔بھٹی صاحب کا مطالبہ بالکل برحق ہے:ایک نسخہ یا سافٹ کاپی منگواؤ، معیار دیکھو،اگر پسند آئے تو کتابیں خریدو —مفت کی لوٹ مار مت مچاؤ!
یہی تقویٰ ہے، یہی دیانت داری ہے، یہی ادبی حمیت ہے۔ قوم کے نوجوان قلمکارو! خبردار ہو جاؤ! ان ادبی بھیڑیوں کی باتوں میں مت آؤ، جو الفاظ کی کمائی سے نہیں، تمہاری جیب سے اپنا مستقبل بناتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ان ادبی تنظیموں کو رجسٹر کرے، ان پر نظر رکھے، اور ادب کے نام پر چلنے والی اس مکاری کو بند کرے۔اسی طرح ہمارے تجربہ کار اہلِ قلم کوآگے بڑھ کر ان نوجوانوں کی سرپرستی کرنی چاہیے،اور ان دھوکے بازوں کو ننگا کر دینا چاہیے۔
ادب تجارت نہیں،
ادب مشن ہے!
ادب ایمان ہے!
ادب قوموں کی روح کا آئینہ ہے!
اگر ہم نے ان شعبدہ بازوں سے ادب کو آزاد نہ کروایا تو آنے والا وقت وہ ہو گا،جب قلم لکھے گا،لیکن اس کا ہر لفظ مصنوعی پھولوں کی طرح بنا خوشبو کے بے اثر ہوگا،لٹے پٹے ادیبوں کا بچا کچھا خون بھی یہ ادبی جونکیں پی جائیں گی شہزاد بھٹی نے "خبردار ہو شیار" کا نعرہ لگایا ہے آئیے ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں ان کے قدم کے ساتھ قدم بڑھائیں یہ بہت ضروری ہے ورنہ لنڈے کے یہ نام نہاد دانشور سب نگل جائیں گے اور باقی بچیں گی صرف ادیبوں کی آہیں اور سسکیاں۔
ختم شد
