آخری موڑ 385

آخری موڑ

کئی ماہ بیت چکے بودی سرکار سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، میں حیران تھا کہ یا تو بودی سرکار ملک چھوڑ گئے ہیں یا پھر کہیں جنگلوں میں چلے گئے ہیں کیونکہ آخری ملاقات میں انہوں نے حالات کے مشکل ہونے پر بہت گفتگو کی تھی۔ کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ پہلے بودی سرکار آ جاتے تھے، ان سے ملاقات ہو جاتی تھی،حالات پر گفتگو ہو جاتی تھی۔ اب کس سے گفتگو کی جائے، جانے وہ کہاں گئے، اتہ پتہ معلوم نہیں۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ دوپہر کو چمکتی تیز دھوپ سردی کا احساس کم کر رہی تھی۔ اسلام آباد میں نیلا آسمان شفاف دکھائی دے رہا تھا۔ لاہور میں آج کل دھوپ نہیں ہوتی۔ اسلام آباد سے لاہور آتا ہوں تو مرحوم دوست احمد فراز کا شعر شدت سے یاد آتا ہے کہ میں برف برف رتوں میں چلا تو اس نے کہا پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا خیر! بات اسلام آباد کی چمکتی دھوپ کی ہو رہی تھی۔ میں دھوپ میں بیٹھا، کینو مالٹے میرے سامنے تھے، سوچ رہا تھا قدرت نے پاکستان کی سر زمین کو کتنے خوبصورت مزیدار پھلوں سے نوازا ہے مگر بدقسمتی سے ہماری حکومتیں شاندار پھلوں کو بیرونی دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہتی ہیں۔ سرکاری دفتروں میں فائلوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ شاید ان میں سے کوئی فائل ایسی نہیں کہ ہم اپنا کینو، مالٹا، سیب یا آم ایکسپورٹ کر سکیں۔ چاول دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے، وہ بھی ہم باہر نہیں بھیج پا رہے۔ ہمارے ملتانی آم جیسا کہاں کوئی آم مگر ان آموں کو سرکار کی سرپرستی میں آبادیاں کھا گئیں۔ چمکتی دھوپ میں بیٹھ کر اس طرح کے کئی خیالات ذہن میں گردش کر رہے تھے کہ اچانک گھنٹی بجی، ملازم نے دروازہ کھولا، پتہ چلا کہ بودی سرکار آئے ہیں۔ جونہی میں نے بودی سرکار کا چہرہ دیکھا تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ آج تو بودی سرکار نے سفید تہبند کرتا، اونچی پگڑی اور لاوے کا کھسہ پہن رکھا تھا۔ بودی سرکار کو دھوپ میں بٹھایا مگر آج وہ خلاف معمول چپ چپ تھے۔ میں نے دو چار مرتبہ حالات کا نقشہ کھینچا، کوشش کی کہ وہ کچھ ارشاد فرمائیں مگر وہ چپ رہے۔میں سگریٹ سلگا رہا تھا خیال آیا کہ بودی سرکار شاید اس لئے خاموش ہیں کہ حقہ ابھی تک نہیں آیا۔ خیر تھوڑی دیر میں حقہ آ گیا۔ بودی سرکار اور میں دونوں کش لگانے لگے مگر وہ اب بھی خاموش تھے۔ کافی اصرار کے بعد خاموشی ٹوٹی تو صرف اتنا کہا ’’بس دیکھتے جاؤ‘‘۔ ایک جملے کے بعد پھر خاموشی۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وضاحت فرمائیں کیا دیکھتے جاؤ؟ اب بودی سرکار کش لگاتے ہوئے بولے ’’تم چین سے نہیں بیٹھو گے، تمہیں تمہاری صحافت بے چین کیے رکھتی ہے۔ ہمیں بہت کچھ بتانے کی اجازت نہیں۔ یہ موٹی موٹی دو چار باتیں سن لو۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے ملک میں کاروبار رک چکا ہے، مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے۔ لوگوں کی جھولیوں میں خوشی کے موتی نہیں، دکھ کے آنسو اور غصے کے پتھر ہیں۔ یہ پتھر کسی وقت بھی برسنا شروع ہو جائیں گے۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال میں سیاست کے نام پر جو ظلم و ستم جاری ہے وہ معاشرے کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کھا گیا ہے۔ لوگوں کے دل غصے سے بھرے ہوئے ہیں مگر اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ چھوٹے لوگ بڑے دفتروں میں بیٹھ گئے ہیں۔ تم دیکھ نہیں رہے ہو کس طرح ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ اپنے ملک کے تمام سرکاری اداروں کو دیکھو پھر بڑے بڑے ایوانوں کو دیکھو تو تمہیں احساس ہو گا کہ یہ لوگ اس اہل ہی نہیں تھے۔ ہر طرف ناانصافیوں کا موسم ہے۔ ایک وکیل ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پیش ہوتا ہے اور اسی پیشی کے دوران سرکاری اہلکار اس کے گھر پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی اس وکیل کو انصاف نہیں دے سکتی۔ آپ کو تو یاد ہوگا حضرت علی ؓکا فرمان،کوئی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو چل سکتا ہے مگر نا انصافی کی بنیاد پر نہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ تمہارے معاشرے کے ہر موڑ پر ظلم ہو رہا ہے۔ الیکشن کے ڈھونگ کے نام پر بھی ظلم کا کھیل جاری ہے۔ یہ کھیل آخری مرحلوں میں داخل ہو چکا ہے۔ اب یہ آخری مرحلے کا بھی آخری موڑ ہے۔ یہ موڑ مڑنے کی دیر ہے، ظلم کی سب زنجیریں ٹوٹ جائیں گی، طاقتور قوتیں تنکوں کی طرح بہہ جائیں گی اور بہت سے لوگ عوامی سیلاب کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ یہ سب منظر تم دیکھو گے۔ یہ مناظر زیادہ دور نہیں ہیں۔ لوگوں کی جھولیوں میں پتھر اور دلوں میں غصہ ہے۔ بس آخری موڑ مڑنے کی دیر ہے ،روشن دن ہمارا منتظر ہے، انتظار کرو۔ بودی سرکار کی باتیں ختم ہوئیں، وہ کب کے جا چکے ہیں اور مجھے سید عارف کا شعر بہت یاد آ رہا ہے کہ

تو قد و قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر

جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا

بشکریہ ڈان ںیوز