یہاں آتش زنی ہے ایک معمول
کوئی دوزخ نہیں گو دارِ فانی
ادھر دریا، ادھر بادل ہیں پُرجوش
جہاں دیکھو، وہاں پانی ہی پانی
132
یہاں آتش زنی ہے ایک معمول
کوئی دوزخ نہیں گو دارِ فانی
ادھر دریا، ادھر بادل ہیں پُرجوش
جہاں دیکھو، وہاں پانی ہی پانی