آمد رمضان دراصل مال اور جان کی detoxification ہے۔۔۔ 198

آمد رمضان دراصل مال اور جان کی detoxification ہے۔۔۔

آمد رمضان ہے۔۔عربی زبان میں رمضان کا مادہ رَمَضٌ ہے، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے. رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت محسوس کرتا ہے اس لئے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ (ابن منظور، لسان العرب، 7 : 162)

 

 رمضان رمضاء سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا۔۔ اسی طرح ’الارض الرمضاء“اس زمین کو کہا جاتا ہے جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو۔ اور رمض النھار" دن کا بہت گرم ہونا۔گرمی کی تیزی، دھوپ کی شدت نیز گرمی کی شدت اور دھوپ کی حدّت کے سبب زمین کا تپ جانا۔ (المنجد ص 408)

 

رمضان کی لغوی تعریف میں علماء  کرام نے جو سادہ ترین مطلب لیا ہے وہ یہ کہملا علی قاری فرماتے ہیں 

"  رمضان "رمضاء " سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوارمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو انہیں اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا۔ جن میں وہ اس وقت واقع تھے۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا۔ اس لئے اس کا نام رمضان رکھ دیا گیا.(ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 4 : 229)

 

مجھے اس منطق سے اختلاف ہے۔ اس لئے کہ تمام صاحب علم چاہے اسلام سے قبل تھے یا اسلام کے بعد آج کے دن تک ہیں ۔۔ وہ سب جانتے ہیں کہ عرب اور بعد میں اسلام کا سال قمری ہے۔ جس میں کوئی بھی مہینہ کسی ایک موسم سے موسوم نہیں۔ اور کبھی رمضان سردیوں کا حصہ ہوتا ہے کبھی شدید گرم۔ کبھی بہار اور کبھی خزاں۔۔

میرے نزدیک اس کے لغوی معنی کی تشریح کچھ یوں ہو سکتی ہے کہ پرانے زمانے میں میل کچیل اور زنگ، چاہے اسلحہ پر ہوتا ،زیورات پر ہوتا یا برتنوں پر حتکہ چند مخصوص کپڑوں پر اسے آگ پر تپایا  جاتا اور اس کا میل ،چربی اور گندگی ،زنگ وغیرہ اتر جاتا۔۔ اس سلسلے میں بطور مثال مندرجہ ذیل حدیث پیش کرتا ہوں۔۔

حضرت عباد بن عبد الصّمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم ایک روز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے دولت خانہ پرحاضر ہوئے۔ آ پ رضی اللہ عنہ کا حکم پا کر کنیز نے دسترخوان بچھایا۔ فرمایا، رومال بھی لاؤ ۔ وہ ایک رومال لے آئی جسے دھونے کی ضرورت تھی۔ حکم دیا، اس کو تنّور میں ڈال دو! اس نے بھڑکتے تنّور میں ڈال دیا! تھوڑی دیر کے بعد جب اسے آگ سے نکالا گیا تو وہ ایسا سفید تھا جیسا کہ دودھ۔ ہم نے حیران ہوکر عرض کی، اس میں کیا راز ہے؟

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ وہ رومال ہے جس سے حضور سراپا نور ﷺ اپنا چہرہ اقدس صاف فرمایا کرتے تھے۔ جب دھونے کی ضرورت پڑتی ہے ہم اس کو اسی طرح آگ میں دھو لیتے ہیں! کیونکہ جو چیز انبیائے کرام علیہِم السلام کے مبارک چہروں پر گزرے آگ اسے نہیں جلاتی

حضرت مولانا روم علیہ رحمۃ اللہ علیہ ”مثنوی ” میں اس واقعہ مبارک کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:

 

"اے دلِ تَرسِنْدہ اَز نارو عذاب با چُناں دَست و لَبے کُن اِقْتَراب

چُوں جَما وے راچُناں تشریف داد جانِ عاشِق را چَہا خَواہَد کَشاد"

 

ترجمہ: اے وہ دل جس کو عذاب نار کا ڈر ہے، ان پیارے پیارے ہونٹوں اور مقدّس ہاتھوں سے نزدیکی کیوں نہیں حاصل کر لیتا جنہوں نے بے جان چیز رومال تک کو ایسی فضلیت و بزرگی عطا فرمائی کہ وہ آگ میں نہ جلے، تو ان کے جو عاشق زار ہیں ان پر عذاب نار کیوں نہ حرام ہو۔

 

رمضان اللہ کریم نے عطا ہی اس لئے کیا ہے کہ ہم اپنی تمام سال کی میل کچیل چاہے وہ روح پر ہو،نفس کا بوجھ ہو یا جسم لتھڑا ہو ،اس سے نجات حاصل کریں ۔۔

 

لہذا اس ماہ مبارک میں جسم کی زکوۃ روزہ ہے ۔۔ جو آپ کو پورے سال کے لئے detoxify کر دیتا ہے۔۔ اور مال جس کو کمانے میں ہم سے کئی کمی بیشی ہوئی ہو اسے پاک کرنے کے لئے  صاحب نصاب پر زکوۃ فرض کی گئی ہے۔۔ لیکن جو لوگ صاحب نصاب نہیں یا صاحب نصاب ہیں ان سب کو اس ماہ میں جس کا نام ہی تپش ہے۔۔ جہنم کی تپش سے بچنے کے لئے کثرت صدقات کا حکم ہے۔۔ جس کا فائدہ عام ماہ میں خرچ کرنے سے کئی گنا زیادہ ہے ۔۔۔

 

 نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’ جو اس مہینے میں کسی نفل (نیک عبادت) کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا قرب تلاش کرے تو اس کو اس نفل (عبادت) کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے مہینوں میں فرض کے ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جس نے اس مہینے فرض کو ادا کیا تو ایک فرض کے ادا کرنے کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ دوسرے مہینوں میں ستر فرضوں کے ادا کرنے سے ملتا ہے۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے۔‘‘(سنن بیہقی)

 

●۔مال کو اللہ کی رضا میں کیسے خرچ کیا جائے

 

سورہ البقرہ کا رکوع 36 اور 37 کس طرح اور کس پر مال خرچ کرنے کی بہترین  وضاحت اور خوبصورت ترغیب دیتا ہے۔۔ جس کا خلاصہ آپ سب کی نذر کرتا ہوں۔۔

 

• سب سے پہلے ہمیں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا نفع بتایا گیا ہے۔۔ کیونکہ ہم کمزور انسان ہیں اور ہم ہر عبادت کو دنیاوی نفع یا ثواب میں کلکیولیت calculate  ضرور کرتے ہیں لہذا رکوع 36 کی ابتدا  کچھ اس طرح سے ہے۔۔ 

 

ترجمہ۔۔ جو لوگ اپنا مال اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سے سو دانے ہوں، اور اللہ تعالٰی اسے چاہے اور بڑھا دے (١) اور اللہ تعالٰی کشادگی والا اور علم والا ہے۔( البقرہ261)

یعنی ایک روپے کے خرچ کے عیوض 700 روپے ملیں گے اور اس میں آخرت کا ذکر مخصوص نہیں ۔۔ یہ دنیا اور آخرت دونوں کے لئے ہے۔۔

 

• وہ کون سے کام ہیں جو یہ 700 گنا نفع کو ضائع کر دیں گے۔۔۔

اللہ کریم اسی سورہ البقرہ میں اس 700 گنانفع کے حصول  سے اگلی تین آیات میں تواتر سے ان کاموں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں جن سے یہ صدقات ،زکوۃ اور نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔۔

 

1۔جو لوگ اپنا مال اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذاء دیتے ہیں ۔۔( 262)

یعنی ایسا شخص جو مال خرچ کر کے احسان نہیں جتلاتا نہ زبان سے ایسا کلمہ تحقیر ادا کرتا ہے جس سے کسی غریب، محتاج کی عزت نفس مجروح ہو اور وہ تکلیف محسوس کرے کیونکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ قیامت والے دن اللہ تعالٰی تین آدمیوں سے کلام نہیں فرمائے گا، ان میں سے ایک احسان جتلانے والا ہے۔(مسلم)

 

2۔ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو(263)

یعنی سائل سے نرم اور شفقت اور چشم پوشی، پردہ پوشی، اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں ذلیل اور رسوا کر کے اسے تکلیف پہنچائی جائے۔ 

 

3۔ اے ایمان والو! (سائل کو) احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر اپنے صدقہ و خیرات کو اس شخص کی طرح اکارت و برباد نہ کرو جو محض لوگوں کو دکھانے کیلئے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ( 264) 

اس سے آگے اللہ کریم نے صرف ایک آیت میں ان مومنوں سے اجر کا وعدہ فرمایا اور ان کے رزق کو بڑھانے اور دگنا کرنے کا وعدہ فرمایا ۔۔ جو مال ،صدقات ،زکواۃ صرف خدا کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اور سائل کا شکریہ بھی نہیں سننا پسند کرتے

 

● آیت 266 بہت دل پکڑنے والی اور غور کرنے والی ہے۔۔ جس میں اللہ کریم فقراء کی حالت زار بیان کرنے سے قبل ہمیں اس کیفیت کے سوچنے کا حکم فرماتے ہیں۔۔ 

ترجمہ: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

یہ فقراء کی اصل تشریح ہے کیونکہ اس سے آگے اللہ کریم فقراء انہیں فرماتے ہیں جو زمانے کے ہاتھوں کسی آزمائش میں پڑھ گئے ہوں اور عادی مانگنے والے گداگر نہ ہوں۔۔ 

 

● فقراء  دراصل کون ہیں ؟؟؟

(یہ خیرات اور صدقات ) خاص طور پر ان حاجتمندوں کے لئے ہے جو اللہ کی راہ میں اس طرح گھر گئے ہیں کہ روئے زمین پر سفر نہیں کر سکتے، ناواقف انہیں خود داری برتنے اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے مالدار سمجھتا ہے۔ مگر تم انہیں ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر اور ان کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو کچھ مال و دولت (راہِ خدا میں) خرچ کروگے بے شک اللہ اسے جانتا ہے۔ ( البقرہ 273) 

 

● ان فقراء  اور ضرورت مندوں کی کس طرح مدد کی جائے۔۔۔

 

1۔۔اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے ستھری چیزیں خرچ کرو اور اس چیز میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہے اور اس میں سے ردی چیز کا ارادہ نہ کرو کہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اسے کبھی نہ لو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ ( 267) 

یعنی جس طرح تم خود ردی چیزیں لینا پسند نہیں کرتے اسی طرح اللہ کی راہ میں بھی ردی چیزیں خرچ نہ کرو بلکہ اچھی چیزیں خرچ کرو۔ وہ چیز جو آپ کو ملے تو آپ کو خوشی ہو ویسی چیز خدا کی راہ میں دیں ۔۔ 

2۔۔اگر تم اپنی خیرات علانیہ طور پر دو تو بھی اچھا ہے اور اگر اسے پوشیدہ رکھو اور حاجتمندوں کو دو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور تمہارے کچھ گناہوں اور برائیوں کا کفارہ ہو جائے گا (انہیں مٹا دے گا)۔ (272) 

 

●آپ کے صدقات کون ضائع کرے گا۔۔ 

ترجمہ: شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے( 268)

یعنی بھلے کام میں مال خرچ کرنا ہو تو شیطان ڈراتا ہے کہ مفلس اور قلاش ہو جاؤ گے لیکن برے کام پر خرچ کرنا ہو تو ایسے اندیشوں کو نزدیک نہیں پھٹکنے دیتا بلکہ ان برے کاموں کو اس طرح سجا اور سنوار کر پیش کرتا ہے جس پر انسان بڑی سے بڑی رقم بےدھڑک خرچ کر ڈالتا ہے۔۔ 

 

یہ سب صرف اس تکلیف کے پیش نظر آپ سب دوستوں کی نذر کر رہا ہوں کہ جس اذیت ناک طرز معاشرت سے آج کل پاکستان گزر رہا ہے۔۔ وہاں اپنے ہمسائے، کسی تنگدست،  کسی ایسے شخص جس کی آمدنی 50 ہزار بھی ہو اور بچوں کا بوجھ ہو اس کی مدد کر دیں۔۔ ہمیں کریں ،یہ بھرے ہوئے فیریج ، یہ 4،5 کھانوں سے لدے دسترخوان جنہیں ہم ٹیگ کر کے لوگوں کو دکھا رہے ہیں ۔۔ یہ سب قیامت کے دن بہت شرمندگی کا باعث ہوں گے۔۔ 

یقین جانیں ہمارے اردگرد بہت سلجھے ہوئے،سفید پوش ،ریڑھی بان رکشہ چلانے والے ایسے لوگ رہ رہے ہیں جو اپنی اولاد کو گھر واپسی پر اپنا چہرہ نہیں دکھا سکتے۔۔ نوجوان ہوتے بچوں کے چہرے فاقوں سے زرد ہیں۔۔ اور بیٹیاں پرانے اور بوسیدہ کپڑوں میں بے پردہ ہو رہی ہیں جبکہ ہمارے فریج،  الماریاں سامان سے اس قدر لدی ہوئے ہیں کہ انہیں بند کرنا مشکل ہے۔۔ اور کئی ایسے کپڑے اور جوتے جو ہم نے سالہا سال سے اپنی الماریوں میں رکھے ہین۔۔ کئی گھروں کی عید کی خوشیاں اور پردہ پوشی کا باعث بن سکتا ہے۔۔ 

 

آج آپ کسی کا پردہ رکھیں۔۔ دنیا اور قیامت میں مالک آپ کا پردہ رکھیں گے۔۔۔ 

 

اُنہیں جانا، اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

 

آج لے اُن کی پناہ ، آج مدد مانگ ان سے

پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب 

بشکریہ اردو کالمز