یوم اقلیت یا ’’متحدہ قومیت‘‘؟ 196

یوم اقلیت یا ’’متحدہ قومیت‘‘؟

برسوں تک درویش کایہ معمول رہا کہ وہ ہر سال 11اگست کو انگریز کے بنائے ہوئے وسیع ٹائون ہال میں لبرل ہیومن فورم کے تحت پاکستان اقلیتوں کے حقوق یا متحدہ قومیت کے تصور کو اجاگر کرنے کیلئے سیمینارز منعقد کرواتا رہا ہے۔جس میں ملک کی نامور سیاسی، صحافتی، مذہبی، ادبی اور اقلیتی شخصیات کو بحیثیت مہمان مقرر مدعو کیا جاتا تھا اور پوری کوشش سے یہ کامیابی حاصل ہوتی تھی کہ کسی ایک نقطہ نظر کی بجائے ورائٹی کے طور پر مختلف ہر نقطہ نظر کے دانشور تشریف لاتے اور سامعین کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہوتی جس کیلئے تمام دوست احباب سے درخواست کی جاتی ۔ یوں پاکستان میں بسنے والے ہر مذہب اور مسلک کے حامل اکابر شرکت کرتے ۔افسوس ان تقریبات کی میڈیا کوریج زیادہ نہ ہو سکی ۔

ہر سال 11اگست کو یوم اقلیت یا متحدہ پاکستانی قومیت مناتے ہوئے سیمینارز منعقد کروانے کا یہ سلسلہ کوئی ایک دہائی قبل کیوں شروع کیا تھا اور پھر کیوں ختم کر دیا ہے اگرتفصیل میں گئے تو سارا کالم اسی کی نذر ہو جائےگا اس لئے اصل موضوع پر رہتے ہوئے بات اپنے اقلیتی بھائیوں کے حقوق پر ہی کرتے ہیں، جن کیلئے پاکستان میں رہتے ہوئے اس کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ بانی پاکستان کی گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں کی گئی اپنی نوعیت کی واحد ومنفرد تقریر کا سہارایا شیلٹر لیں ۔اس تقریر میں بانی پاکستان کے یہ الفاظ کہ ’’آپ کا جو بھی عقیدہ ہے وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے اس کا ریاست پاکستان یا اس کے امور و معاملات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا‘‘یوں سمجھیے کہ جناح صاحب کے یہ الفاظ پاکستان کی اقلیتوں کیلئے امرت دھارا ہیں ۔کیا یہی وجہ تھی کہ مابعد اس مملکت میں بشمول قرار داد مقاصد جتنی بھی قوانین سازی ہوئی وہ اس تقریر کے برعکس ہوئی ۔درویش نے اپنے متذکرہ بالا سیمینارز میں لاکھ ثابت کرنا چاہا کہ یہ سب کچھ میثاق مدینہ کی مطابقت میں نوزائیدہ مملکت کیلئے اٹل اور ابدی تھا مگر بیشتر راسخ العقیدہ دانشور اپنی ساری توانائیاں یہ ثابت کرنے پر صرف کرتے رہے کہ جناح صاحب کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا جو افضال ریحان صاحب آپ سمجھ رہے ہیں وہ پاکستان کو ہرگز محض سیکولر یا قومی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے وہ اپنے برسوں پر محیط وعدوں اور تقریروں کی مطابقت میں اسے صرف اور صرف اسلام کی تجربہ گاہ یا اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے، آپ 11اگست کے علاوہ ان کی دیگر تقاریر بھی کبھی پڑھ لیا کریں جن میں وہ پورے زوراور استدلال کے ساتھ پیہم یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ قرآن ہی اس مملکت کے دستور کی بنیاد ہو گا ، آپ نہ جانے کن مقاصد کے تحت تقریر کےایک فقرے کو پکڑ کر ان کاسارا مشن برباد کر دینا چاہتے ہیں ! ۔ سو ’’تنگ آکے میں نے آخر دیروحرم کو چھوڑا... واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے‘‘ اور پھر ’’میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو ...قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا ‘‘سو یہ درویش اپنے تمام احباب کی خدمت میں علانیہ یہ وضاحت کئے دے رہا ہے کہ آپ سب درست فرماتے ہیں کہ محض ایک تقریر کا بہانہ بنا کر ہمیں جناح اور ان کے دو قومی نظریے کو بگاڑنے کا کوئی حق نہیں ، جناح کوئی سیکولر ریاست بنانا نہیں چاہتے تھے اگر ایسی بات ہوتی تو وہ انڈیا سے الگ کیوں ہوتے!۔ جناح اپنے سامنے 14صدیاں قبل قائم ہونے والی اس اسلامی ریاست کا ماڈل رکھتے تھے، جس کا پرچار ان دنوں جناح ثالث ’’ریاست مدینہ ‘‘ کے نام سے کرتا ہے۔

آج الحمدللہ ہمارا ملک نظریات کی وجہ سے اس مقام تک پہنچا ہے اور پوری دنیا میں جگمگا رہا ہے، رہ گئیں اقلیتیں جو پچیس سے کم ہو کر تین پرسنٹ رہ گئی ہیں سو ان کے مسائل آئندہ کیلئے اٹھائے رکھتے ہیں کیونکہ وہ درویش سے یہ لکھنے کاتقاضا کرتی ہیں کہ ہم یہاں خود کو اقلیت کہلوانا ہی نہیں چاہتیں بلکہ ’’یوم متحدہ قومیت‘‘ منوانے یا منانےکی خواہاںٍہیں۔

بشکریہ ڈان ںیوز