یوم الفرقان ، حق وباطل کی پہچان ، 343

یوم الفرقان ، حق وباطل کی پہچان ،

بنیادی طور پر حق و باطل کے کسی بھی معرکے میں بنیادی شرائط نیت سے شروع ہو کر ، عمل پیہم ، یقین محکم اور محبت فاتح عالم تک جاتی ہیں ، سچائی کو پرکھا جائے کہ وہ سچائی ھے بھی کہ نہیں جہاں ظلم اجتماعی ھو تو جدوجہد بھی اجتماعی ھو جاتی ھے ، سچائی کی جدوجہد کی ایک خاصیت ہے کہ وہ فاتح ضرور ھوتی ھے ، ھمیں سب سے بڑا مسئلہ سچائی پہچانے اور نیت کی ترجیحات میں ھے ، آپ دور نہ جائیں پاکستان کی جدوجہد کو ہی دیکھ لیں ، قیادت نے سچائی ، دیانت اور امانت کو شعار بنایا تو طے شُدہ مقاصد حاصل ھو گئے ، مقاصد صحیح ھوں یا غلط سچی نیت ، شرط ھے ، مسلسل جدوجہد راستہ ہے ، یقین محکم نتائج پیدا کرتے ہیں ، تاریخ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ، حضرت عمر فاروق کی جدوجہد اور سچائی ھو تو بائیس ھزار مربع میل فتح کرنے کا باعث بنتی ہے ، طارق بن زیاد کا یقین ہو تو ، کشتیاں راستے کی رکاوٹ نہیں بنتیں ، مگر اللہ تعالیٰ کے سچائی ، جہد مسلسل ، اور یقین محکم کئی انسانوں کو دیا اور فتح دلوں کی ھو یا زمین کے ٹکڑے کی نتائج ضرور برآمد ہوئے ، آپ انفرادی سطح پر یہ اصول اپنا لیں تب بھی نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ اس راستے سے آنے والوں کو شکست نہیں دی جا سکتی ، جہاں کہیں بھی ذاتی مفادات ، اور ناانصافی غالب آ جائے منزل دور ھوتی جاتی ہے ، آج مسلم ممالک ھوں ، یا ھمارا ملک شخصی اور ذاتی مفادات کا شکار ھے اس لئے ھمیشہ وہیں کھڑے ھوتے ہیں ، صرف اتنا ہی کر دیا جائے کہ اپنا فائیدہ دوسری ترجیح بنا لیا جائے تب بھی ھم آگے بڑھ سکتے ہیں ، مگر بدقسمتی سے یہ نہیں ہے اور پھر تلاش کرتے ہیں کہ فرشتے ھماری مدد کو کیوں نہیں اترتے ،؟ 
غزوہ بدر ایک محدود طاقت کے بل بوتے پر بپا ھوا ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کیے صرف دو سال ھوئے تھے کہ دشمن پیچھا کرتے ہوئے بھاری تعداد میں جنگی ساز و سامان اور افرادی قوت کے میدان میں پہنچ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 313 کی مختصر جماعت کو لے کر بدر میں پہنچ گئے یہ کفر و اسلام کا پہلا معرکہ تھا ، جسے حق و باطل کا معرکہ قرار دیا گیا ، سن 2 ھجری ، بمطابق 624 عیسوی کو مسلمان کی نہایت مختصر جماعت اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کے لیے تیار ھو گئی ، بھروسہ اور یقین کیا تھا وہی سچائی جہاں ذرا برابر خوف اور بے یقینی نہیں تھی ، مکہ کے سخت حالات کی وجہ سے چند افراد ھجرت کر کے دار الامان مدینہ پہنچے تھے جہاں انصار اور مہاجرین کے درمیان تاریخی مواخات کا عمل ھوا ، مگر دشمن پیچھا کرتے وہاں بھی پہچ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم امن کے ساتھ دعوت آور تربیت پر نکلے تھے کہ معرکہ سامنے آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستیاب وسائل کے مطابق اپنی جماعت کو پکارا تو گھر میں موجود سب ساز و سامان کے ساتھ وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے کی عملی تصویر بن کر سب معرکے کے لیے تیار ھو گئے اللہ کے نبی کے ھاتھ اٹھ گئے چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا دعا کی کہ اللہ تعالیٰ یہ مختصر جماعت مٹ گئی تو روح زمین پر تیرا نام لیوا کوئی نہیں ھوگا ، ایک طرف جنگ کی پوری تیاری ، دوسری طرف سچائی ، یقین محکم اور پھر ایک بھاری سپاہ کے مقابلے میں صحابہ کی مختصر جماعت ، اللہ تعالیٰ کی مدد پھر کھل کر سامنے آئی اور وہ جسے کہتے ہیں کہ اتر سکتے ہیں فرشتے قطار اندر قطار اب بھی کا عملی مظاہرہ تاریخ نے دیکھا کہ 313 دو ہزار ، اور بھاری ساز و سامان ، جنگی معرکوں کے ماہر سرداروں پر حاوی ہو گئی ، دشمن کے پاؤں بری طرح اکھڑ گئے اور بڑے بڑے سردار مارے گئے ، اس کے پیچھے کیا راز تھا وہ سچائی ، یقین محکم اور محبت فاتح عالم کا عملی نمونہ تھا ، تاریخ نے معرکہ کبری ، عظمی کے نام دیا مگر قرآن مجید نے اپنے ہی نام سے اسے یوم الفرقان کا نام دیا ، جو حق و باطل کے درمیان واضع فرق قائم کر گیا ، قرآن مجید نے جو اصول و احکامات دئیے ان کی عملی صورت بدر میں نظر آئی اس لئے تاریخ میں یوم بدر 17 رمضان المبارک "یوم الفرقان" کے نام سے مشہور ہوا ، 
آج ھم دیکھیں تو یہی سچائی اور جدوجہد کے تسلسل کی رکاوٹ ہے ، کسی میدان میں بھی اتر جائیں اللہ تعالیٰ کی مدد کے یہی اصول ہیں ، دولت ، طاقت اور قوت ھونے کے باوجود وہ نیت اور سچائی کہیں کھو گئی ، اور ھم محکوم در محکوم ھوتے جاتے ہیں ، آج فلسطین کے بچوں آور خواتین سمیت تمام افراد کے کیا حالاتِ ہیں ، یہ حالات پیدا کرنے والے بھی ھم خود ہیں اور خاموش تماشائی بھی بن گئے ، پھر حق وباطل کا کون سا معرکہ رہ گیا ، کیا فلسطین کے عوام کو ڈھال بنا کر ذاتی مفادات حاصل نہیں کیے جا رہے ، کیا کسی مسلم ملک میں یہ سچائی موجود ہے جو باطل کے خلاف کھڑا ہو جائے ، اسلام گروہ بندی اور مخصوص مقاصد کا قائل نہیں وہ انسانیت کا علم بردار ھے مگر جب کوئی جنگ مسلط کر دے تو پھر کامیابی کے لیے آج بھی وہی اصول ہیں ، اول امن ، نیت میں سچائی اور فتح کا یقین ، وہ اصول کہاں گیا کہ
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا ، شجاعت کا ،
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔
سچائی ، شرط ہے ، جس کی بنیاد پر آپ عدل کر سکتے ہیں ، جو عدل کرتا ہے اسے پھر ڈر نہیں ھوتا ، ھم جہاد اصغر اور جہاد اکبر دونوں میں اسی وجہ سے مار کھا رہے ہیں ، یوم بدر ھمیں یہ دعوت دیتا ہے کہ اپنے عمل میں انفرادی اور اجتماعی طور پر وہی نیت اور قرآن و صاحب قرآن کے اصولوں پر چلا جائے ، آپ جنگی میدان نہ لیں ، لوگوں کو غربت ، ناانصافی اور جہالت سے ہی نجات دلا دیں مگر کیسے ، ترجیحات بدلنی ھوں گی ذات سے ، مفادات سے اور عدم برداشت سے نکل کر روڈ میپ بنانا ھوگا ، حق وباطل کی پہچان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ قرآن مجید ھے ، جو فرقان حمید بھی ھے ، جس کو ھم نے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا ہے ، جس کو محض ثوابی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے ، جہاں ڈرایا جاتا ہے اسے پڑھیں گے تو گمراہی کا خطرہ ہے یہاں بھی مقاصد ذاتی ، گروہی جنگ کے مقاصد بھی ذاتی اور اس کا استعمال بھی ذاتی مقاصد کے لیے ، سیاسی مفادات اور اقتدار کے لیے جہاں دل آئے" مذھبی ٹچ" کا عنصر غالب ھو تو پھر باطل کی پہچان کیسے ہو ، مدد کیسے اترے ، ؟ 
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک ، کیا علماء سب کچھ چھوڑ کر اجتماعیت اور قرآن کا اصل مؤقف نہیں پیش کر سکتے ؟ ایسا کیونکر کریں گے ان کی جاگیرداری اور مفادات کا نقصان ھے ، کسی مسیحا کی ضرورت نہیں قرآن اور صاحب قرآن ہی مسیحا ھے ، اس کے پیچھے چلیں گے گمراہ نہیں ھوں گے ، لا ریب فی کا اصول دیا گیا ہے ، اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، یہ ھدایت کی کتاب ھے ، یوم الفرقان کے موقع پر اس سے ہی تدبر اور تفکر حاصل کر لیں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت آپ کے ساتھ ھو گی

بشکریہ اردو کالمز