عید کی چھٹیوں کے شب و روز 172

عید کی چھٹیوں کے شب و روز

برسوں بعد، پاکستان میں ایک دن عید ہوئی اور پشاور کے علما نے بھی کوئی تنازع کھڑانہیں کیا۔ عید کی چھٹیوں کے سارے دن، وہی بچوں کے جھولے، وہی سمندر سے دریائوں اور نہروں پر بچوں بڑے ، سب کا کشتی رانی کا لطف اور خدا کا شکر کہ بس ایک جگہ بچوں کا جھولا ٹوٹا۔ بدنصیب دہشت گردوں نے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ ہمارے معصوم سپاہی اور جوان اپنی شہادت کے ساتھ ہمیں صبر کا درس دیتے رہے، سندھ میں سیر کو جانے والے اللہ کو پیارے ہوگئے۔

عید کیلئے پیغام آتا رہا کہ سادگی سے منائی جائے مگر گھروں کے اندر جھانکتے ٹی وی چینلز نے ایک بھی سلیقے کا پروگرام نہیں پیش کیا۔ فرسودہ لطیفے، کھانے اور مصنوعی ہنسی میں لپٹے زرق برق لباس، زیورات اور بے ہنگم رقص۔ البتہ کسی چینل نے ان بزرگوں کو بھی دکھایا ۔ ان بچوں کو بھی دیکھنا اچھا لگا جو پناہ گاہ میں پل رہے تھے۔ یہیں میں نے آئینہ دیکھا، اپنے بڑھتے سفید بالوں اور بھنوئوں کو دیکھ کر مجھے اختر شیرانی سے لے کر فراق صاحب کے بے ساختہ مصرعوں ’’ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی‘‘ میں بھی جگہ جگہ احمد فراز جھانکتا ملا۔ سوچ نے میرے پیر پکڑے کہ عید کے گزرتے دنوں میں گھروں میں دن رات پلائو اور قورمہ بناتی عورتوںکیلئے، یہ ہمارے چھوٹے بڑے ہوٹلزمیں عید پیکیج کی شکل میں یہی پلائو اور قورمہ دستیاب ہو، شرط یہ ہے کہ مناسب قیمت پر، تو خواتین کا بوجھ ذرا کم ہو جائے۔ بوجھ اس طرح بھی کم ہوسکتا ہے کہ گھر کے بڑے اور جوان بچے بھی کھانے کے آئٹمز بنانے میں شریک رہیں تو ہنسی مذاق کے ساتھ عید کی میزبانی تھکائے نہیں۔

ساری دنیا میں فوڈ چینل ہوتے ہیں اور مقبول بھی بہت ہیں۔ ہمارے ملک میں ماہر تو مرد سمجھے جاتے ہیں جبکہ خواتین بھی تعداد میں بڑھ رہی ہیں۔ مگر جس طرح کھلی زلفوں کے ساتھ وہ پکوان کی جانب آتی ہیں تو مجھے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کہیں کھانے میں ایک بال بھی گر گیا جوکہ ممکن ہے، اس کا خیال باہر کی دنیا کی طرح ٹوپی اوڑھ کر یا دوپٹے میں بال سمیٹ کر کیوں رکھا نہیں جاتا۔ ویسے جب ماش کی دال پکانا یا دہی بڑے بنانا سکھا رہی ہوتی ہیں۔ مجھے ہنسی اس لئے آتی ہے کہ ایسے کھانے تو ہم بچپن ہی میں سیکھ جاتے ہیں اور جب مرد حضرات برگر بنانا سکھا رہے ہوتے ہیں تو میں ٹی وی بند کردیتی ہوں۔

عید سے دو روز قبل راشد باجوہ نے خوشخبری دی کہ ورلڈ بینک نے ہمارے اجڑے گھروں کی تعمیر نو کیلئےقرضہ نہ صرف ریلیز کیا ہے بلکہ پروگرام ہے کہ ہر متاثرہ شخص اور خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے قسط وار دیئے جائیں کہ یک مشت ادائیگی میں کہیں کوئی شادی یا دیگیں نہ پک جائیں۔ توقع ہے کہ 2005ء کے زلزلے کی باقیات جواب تک سلامت ہیں۔ اس طرح یہ رقم اور فنڈز قسطوں میں دیکر، لوگوں کو پناہ گاہوں سے نکال کر اپنے گھر فراہم کئے جائیں اس دوران، یہ بھی سامنے آیا کہ اب جو نئے سرے سے گھر بنانے کو سیلاب زدہ لوگوں کو رقم انجینئرنگ کے عملے کے ساتھ مل کر ادا کی جائےگی تو قضیہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ کسی نے دوسرے شخص کی زمین پر گھر بنایا ہوا تھا۔ خدا کرے ایسے جھگڑے جلد ختم ہو جائیں اور واقعی نیا پاکستان نظر آئے۔

وجہ بے وجہ لڑنے کا ہنر دنیا مسلمانوں سے سیکھے۔ دور کیوں جایئے خرطوم میں زبردستی کی ،جرنیلوں کی لڑائی میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے اور مرنے والے وہ بھی عید کے دن، مارنے والے بھی خدا کا نام لیتے تھے۔ یوکرین کی جنگ بند کروانے والے مزے زیادہ لے رہے ہیں کہ ادھر ملاقاتیں اور اُدھر ہزاروں لوگوں کی بے گھری۔ یمن میں بھی کسی صورت چین نہیں اور فلسطینی مسلمان کم از کم یہودیوں کی فتنہ پروری سے عید پہ محفوظ رہے۔پاکستان میں شادیوں اور گھروں کے روزمرہ کھانوں میں بھی، مہنگائی کے باوجود گھی اگر ہنڈیا میں تیرتا نظر نہ آئے تو گھر کے مرد اور مہمان، ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ بلڈ پریشر ہو کہ شوگر کا زور، احتیاط اور پرہیز کو ہمارے لوگ شیخی میں سب کچھ کھا کر، کھل کے ڈکار مارتے ہیں اور پھر ڈاکٹر۔ ہماری آنکھوں کی بھوک، ایسے منظر عام دکھاتی ہے۔ پاکستان میں وافر پھل ہونے کے باوجود پھل، سڑ کے کوڑے میں پھینکتے دکانداروں کو بھی یہ کہا کہ قیمتیں کم رکھو تو غریب غربا، کوڑے میں سے کھانے کی اشیاء نہ دھونڈیں۔ آپ ان کو سستا پھل فراہم کر دیا کریں۔ ایسی سوچ مگر دکانداروں کو قبول نہیں۔ ایسے منظر دیہات میں بھی ملیں گے۔ سبزیاں اگائیں کہ مرغی کے انڈے، بازار جاکر بیچ آتے ہیں۔ گھر والوں کو وہی روٹی، اچار یا لسی ہی ملتی ہے۔ بچوں کی خوراک بھی سڑک پہ گلے سڑے بکتے فروٹ، چنے اور چاٹ ہوتی ہے، جس پر عام طور پر مکھیاں بیٹھی ہوتی ہیں۔مگر اسکول انتظامیہ ایسی کھٹی میٹھی گولیاں بیچنے والے خوانچہ فروشوں کو منع نہیں کرتی ، اب تو کالج اور اسکول، دونوں کے سامنے آئس جیسی منشیات اور سگریٹ عام فروخت ہوتے ہیں۔ لاکھ منع کرو۔ اس موضوع اور اس تجارت پر نہ افغان حکومت جوکہ مولویوں کی ہے، منع نہیں کرتی۔

عید پہ پچھلے زمانوں میں بہت سے کیک، مٹھائی کے ڈبے آتے تھے، ویسے تو عید کارڈ بھی آتے تھے، اب کمپیوٹر اور واٹس ایپ نے یہ فریضہ اپنے ذمے لے لیا ہے۔ کیک صرف اب بھائی جان کے گھر سے آتا ہے۔ یہی محبت اور مٹھاس، اس عمر کیلئے کافی ہے۔ سلامت رہیں ساری دنیا کے لوگ اور بچے کہ ان کی ہنسی ہی تو ہمارے معاشرے کی جان ہے۔

بشکریہ ڈان ںیوز