ورائے عقل ہیں اہلِ جُنوں کی تدبیریں۔۔۔ 323

ورائے عقل ہیں اہلِ جُنوں کی تدبیریں۔۔۔

جب فرعون نے اپنے جادوگروں کو حضرت موسی علیہ السلام سے مقابلے کے لئے تیار کیا ۔۔ اور  مقابلہ شروع ہوا تو جادوگروں نے حضرت موسی علیہ السلام کی تکریم کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ مقابلہ آپ پہلے شروع کریں گے یا ہم شروع کریں۔۔ 

ترجمہ: ان ساحروں نے عرض کیا اے موسٰی! خواہ آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟ ( الاعراف 115) 

جس پر موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ لوگ شروع کریں۔۔اس مقابلے میں شامل تمام جادوگر حضرت موسی علیہ السلام  پر ایمان لے آئے۔۔

 

 اہل تفسیر اور علماء کرام نے لکھا ہے کہ 

"جادوگروں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ ادب کیا کہ آپ کو مقدم کیا اور آپ کی اجازت کے بغیر اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے، اس ادب کا عوض انہیں یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان و ہدایت کی دولت سے سرفراز فرما دیا ۔" (قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۴ / ۱۸۶، الجزء السابع)

 

ایک واقعہ کو بہت سے پڑھے لکھے نوجوان اور ہٹ دھرم مولوی کہتے ہیں کہ یہ مستند نہیں۔۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ کسی جنگ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سر سے ٹوپی گر گئی۔۔ چونکہ وہ رسول اللہ کی وفات کے بعد کا زمانہ تھا اور صحابہ کرام کے علم میں تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  جب سے ایمان لائے ہیں ان کی ٹوپی پاک میں نبی کریمﷺ کے موئے مبارک ( سر کے بال) سلے ہوئے ہیں ۔۔ لہذا اس ٹوپی کو میدان جنگ سے اٹھاتے اٹھاتے چار یا 5 صحابہ کرام  شہید ہوئے۔۔اور ایک جنگ میں جب حضرت خالد بن ولید  کو جنگ میں تکلیف اٹھانی پڑی تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے وہ ٹوپی سر پر نہیں رکھی ہوئی جس میں آقاﷺ کے بال سلائی کئے ہوئے تھے۔۔تب آپ نے وہ ٹوپی منگوائی۔۔اور بعض روایات میں ہے کہ آپ کی زوجہ وہ ٹوپی لے کر خود میدان جنگ میں پہنچیں ۔۔

 (حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 3 روزنامہ پاکستان)

میں بھی جب تک علمیت پر یقین رکھتا تھا اس واقعہ پر مشکوک تھا ۔ جب تک کہ میں نے YouTube  پر چیچنیا میں  حضور نبی کریمﷺ کے پیالہ مبارک کا استقبال نہ دیکھ لیا۔۔ مجھے تب احساس ہوا کہ عشق اور عقل میں فرق ہے۔ اگر آپ اس عقیدت اور محبت اور احترام کو دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ ساڑھے 14 سو سال بعد اگر احترام کا یہ عالم ہے تو صحابہ کرام کے ادب و احترام کا کیا عالم ہو گا۔۔ شاید پوری فوج ہی پہلے ٹوپی پاک کو پیروں کے نیچے آنے سے بچاتی پھر دشمن کو سوچتی۔۔۔

 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

 

تب مجھے وہ واقعہ یاد آیا کہ جب حضرت خالد بن ولید کو حضرت ابوبکر صدیق نے مانع زکوۃ  قبائل  سے چند نو مسلموں کی شہادت پر میدان جنگ سے بلایا تھا۔۔ اور حضرت عمر  غصے سے تلملا رہے تھے۔ جب حضرت خالد مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنی ٹوپی کے کناروں پر دشمن سرداروں کے ٹوٹے تیر بطور اعزاز لگائے ہوئے تھے۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ تیر نوچ کر نیچے پھینک دئے ۔۔ لیکن ٹوپی کو ہاتھ نہ لگایا۔۔ جب حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ خالد آپ نے اس مسلمان سردار کو کیوں مار دیا۔۔تو آپ نے سینہ اونچا کر کے فرمایا یا خلیفتہ الرسول وہ مسلمان نہی تھا۔۔ حضرت عمر نے پوچھا تمہارے پاس اس کی کیا سند ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھا۔۔ تو آپ نے فرمایا جب اس نے مجھ سے بات کی تو کہا ۔۔ تمہارے رسول اللہ۔۔۔ بس مجھے غصہ آگیا۔۔ کہ ہمارے رسول اللہ کیوں نہی کہا۔۔ تو حضرت ابوبکر نے ان کا عذر  قبول کیا۔ اور حضرت عمر نے ازرائے تاسف ان کے تیر ان کی ٹوپی مبارک میں واپس لگانے لگے اور خالد بن ولید سے پیار سے معذرت بھی مانگ رہے تھے۔ ( قتل مالک بن نویرہ کا واقعہ)

اسی طرح حضرت  عباس۔ ( چچا رسول۔کریمﷺ) کے گھر کا ایک پرنالہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا جس سے بارش کے پانی کی چھینٹیں نمازیوں پر پڑتیں۔۔ حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک روز حضرت عمر نے جلال میں آ کر اس پرنالہ کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔۔ حضرت عباس مقدمہ قاضی کے پاس لے گئے حضرت عمر خلیفہ ہوتے ہوئے کٹہرے  میں بلا لئے گئے ۔۔ قاضی نے خلیفہ سے پوچھا آپ نے یہ کیوں کیا۔۔ تو حضرت عمر نے بارش کی چھینٹوں کا عذر پیش کیا۔۔ جب حضرت عباس کی باری آئی تو انہوں نے کہا کہ میں اسے اس لئے نہی ہٹا رہا تھا کہ یہ جگہ حضور نبی کریمﷺکی مرضی سے چنی گئی اور انہوں نے مجھے اپنے کندھوں پر بیٹھا کر یہ پرنالہ لگوایا تھا اسی جگہ۔۔ 

اب جو حضرت عمر کی طرف قاضی نے دیکھا تو آپ رو رہے تھے اور حضرت عباس سے درخواست فرما رہے تھے کہ مجھے آپ معاف کر دیں آپ پہلے بتا دیتے کہ آقاﷺ نے خود لگوایا ہے، اس جگہ چل کر اسے پھر سے لگاتے ہیں اور آپ میرے کندھوں پر اسی طرح سے سوار ہوں جیسے رسول کریمﷺکے کندھوں مبارک پر سوار ہو کر آپ نےلگایا ۔۔ اور ایسا ہی ہوا۔۔ اس عدل کے بعد حضرت عباس نے وہ پورا مکان مسجد نبوی  کو بطور تحفہ دے دیا۔۔( سیرت عباس ، سیرت صحابہ،  مسند احمد ۔ جلد اول)

 

غرض ہم میں سے کوئی بھی نبی کریمﷺکی تعظیم کا حق اس طرح ادا نہیں کر سکتا جس طرح صحابہ کرام نے ادا کیا۔۔ 

 

میرا سوال یہ ہے کہ آج 1444 سال گزرنے کے باوجود  بھی جب آقاﷺ کے بال مبارک کسی ملک میں بطور تبرک آتے ہیں یا آقا کریمﷺکے پیالہ مبارک کو دیدار کے لئے لایا جاتا ہے،تو وہاں کا صدر عوام آرمی سب سڑک پر کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرماتے ہیں ۔۔ اور ایک قیمتی صندق میں رکھ کر لائے جاتے ہیں۔۔  کیا  ہم اگر یہ کہ دیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کی ٹوپی پاک جس میں آقاﷺ کے بال پاک لگے تھے اسے بچانے میں چار صحابہ شہید ہوئے ۔۔ ایک ضعیف واقعہ ہے۔۔تو میرا سوال آج  کے نوجوانوں سے ہے کہ کیا آقاﷺ کے بال مبارک زمین پر گرنے سے بچانے کو آپ جان دینے کے لئے تیار ہیں۔۔ یا آپ کو علم یو جس کپڑے میں آقاﷺ کے بال مبارک۔لپٹے ہیں وہ نیچے گر گیا ہے تو آپ کا کیا رد عمل ہو گا۔۔ 

 

بس یہی ایمان ہے۔۔ کہ صرف حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھنے ( مقابلے کی اجازت طلب کرنے) پر جادوگر  موسی علیہ السلام  کے صحابی بن سکتے ہیں تو امام الانبیاء نبی کریمﷺ کے نام ،ان کی حرمت اور ان کی سنت کو بچانے والے کو اللہ کیا اجر عطا فرمائیں گے ۔۔  اس پر سوچیں۔۔

کیونکہ نبی کریمﷺ کی تعظیم ہی اصل دین ہے۔۔

 

ترجمہ: تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین) کی مدد کرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اللہ کی صبح و شام تسبیح کرو( الحج)

 

اُنہیں جانا، اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب 

بشکریہ اردو کالمز