آگے پیچھے پھرنے والے اب کہاں دیتے ہیں ساتھ
جن سے امیدِ وفا تھی، وہ دَغا دینے لگے
وقت بدلا تو رفیقوں نے بھی آنکھیں پھیرلیں
’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘
141
آگے پیچھے پھرنے والے اب کہاں دیتے ہیں ساتھ
جن سے امیدِ وفا تھی، وہ دَغا دینے لگے
وقت بدلا تو رفیقوں نے بھی آنکھیں پھیرلیں
’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘