لیہ شہر کی صوبائی نشست پر سید ثقلین شاہ روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئےایک بار پھر من پسند امیدوار لانے کیلئے دوستوں کو لالی پاپ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لیکن خود ان کیلئے یہ مخالفتیں شکست کا سبب بن جائیں گی،ن لیگ کی مرکزی قیادت کیلئے ملک شکور سواگ کے بعد لیہ کی یہ نشست جیتنا ایک خواب بن گیا،اس کی بڑی وجہ ن لیگ میں ثقلین شاہ کی انٹری تھی اس نشست پر جن امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں ان میں مہر طفیل لوہانچ،عابد انوار علوی،سیٹھ اسلم،مہر اسلم سمرا،اور مہر اعجاز احمد اچلانہ نمایاں ہیں،مہر اعجاز احمد اچلانہ نے اس خواہش کے ساتھ یہ درخواست دی کہ سید ثقلین شاہ کی مخالفت اور رضامندی نہ ہونے سے مذکورہ دیگر امیدوار پارٹی ٹکٹ کے حصول میں ناکام رہیں گے اور میرا چھکا لگ جائے گا،اندر خانے کی یہ دراصل ایک سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور سابق ممبر قومی اسمبلی کی گٹ مٹ تھی یہ مفادات کی وہ سیاست ہے جس کی بھینٹ مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی کو چڑھایا جارہا ہے،مہر اعجاز احمد اچلانہ مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی پر ایک طرح کا یہ احسان رکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کی ٹکٹ کی اگر ثقلین شاہ نے مخالفت کی ہے تو میں نے میدان خالی نہیں چھوڑا،لیکن کوئی مہر اعجاز احمد اچلانہ کو سمجھائے کہ اگر پارٹی کیلئے آپ اتنے ہی مخلص ہیں،مہر طفیل اور عابد انوار علوی کی نظر اندازی کا آپ کواتنا ہی درد ہے،یا ورکروں کیلئے آپ کے اندر کوئی ہمدردی کا جذبہ ٹھاٹھیں مار رہا ہے تو پارٹی قیادت کے سامنے مہر طفیل لوہانچ یا عابد انوار علوی کا مقدمہ لڑیں لیکن ہوا یہ کہ پارٹی قیادت کے سامنے وہ اپنا خالی کاسہ لیکر پہنچ گئے اور ٹکٹ کی بھیک اپنے لئے مانگی لیہ کی مرکزی اور شہری نشست کیلئے بے چینی دیکھیں،لیہ کی اس نشست پر ان کا نہ توکوئی ووٹ بنک ہے اور نہ کوئی عوامی رابطہ جو عوامی ووٹ بنک پر اثر انداز ہوسکے -ایک بے پرکی انہوں نے یہ اڑائی کہ ان کا یہ دوٹوک موقف کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں پارٹی کے ورکر ز،متوالے،سپورٹرز اور ووٹرز سبھی بد دلی کا شکار ہوں گے اور ان کا یہ کہنا کہ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ فائدہ کی بجائے ووٹ بنک کو نقصان پہنچائے گی محض لیہ شہر میں اپنی گیم ڈالنامقصد ہے،عوامی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ مہر اعجاز اچلانہ اور سید ثقلین شاہ اندر خانے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے آبائی حلقہ میں سید ثقلین شاہ کی مخالفت ان کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے۔،مہر اعجاز احمد اچلانہ اگر ذاتی مفادات کیلئے نہیں کھیل رہے تو لیہ شہر میں عابد انوار علوی کو ساتھ لیکر ملاقاتیں کس چیز کی دلیل ہیں۔ انہیں نہیں بھولنا چاہیئے کہ عابد انوار علوی کا لیہ شہر میں پارٹی ورکر ہونے کے ناتے سے ایک حوالہ موجود ہے،لالہ زار میں بھی ان کی برادری موجود ہے جبکہ مہر طفیل لوہانچ کو لیہ شہر اور دیہی علاقوں میں دوست احباب کے علاوہ اپنی برادری اور سمرا برادری کی بھی حمایت حاصل ہے،سیاست میں اگر لوہانچ برادری کا پس منظر دیکھا جائے تو لدھانہ کی یونین کونسل میں لوہانچ برادری کے بغیر ضلع کونسل کی نشست کوئی جیت نہیں پایا،اور مہر طفیل لوہانچ نے اپنے پہلے الیکشن میں لدھانہ سے ایک کثیر ووٹ اسی وجہ سے حاصل کیا تھا دوسری جانب سید ثقلین شاہ کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ لدھانہ یونین کونسل میں ان کے مخالف کے مقابلے میں کوئی ووٹ دلا سکتا ہے تو وہ مہر طفیل لوہانچ کی برادری ہے،سوشل سیکٹر میں ان کا کام بولتا ہے اور عوامی رابطے کا یہ ایک بڑا ذریعہ ہے،اسٹیبلشمنٹ جتنا چاہے آپ کے سر پرجس طرح ہاتھ رکھے لیکن مخالف ملک نیاز احمد جکھڑ ایک مضبوط امیدوار ہے جسے موجودہ حالات میں ہرانا ممکن نہیں،یہی نہیں یونین کونسل جمن شاہ میں بھی مہر احمد حسن کلاسرہ ایک مضبوط ووٹ بنک رکھتے ہیں اور وہ ایک عرصہ سے جکھڑ خاندان کیلئے ناقابل شکست اور درد سر بنے ہوئے ہیں ،مہر احمد حسن جو ہمیشہ ثقلین شاہ کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہے مہر طفیل لوہانچ کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں ان کی راہیں بھی جدا ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں،جہاں تک مہر اسلم سمرا کی بات ہے ان کی درخواست بھی سید ثقلین شاہ کے کہنے پر جمع کرائی گئی تاکہ من پسند امیدوار کو لانے کیلئے مہر اسلم سمرا کو دستبردار کرا کر مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی کو بلیک میل کیا جاسکے کہ ضلعی صدر دستبردار ہوگیا ہے اس لئے آپ بھی اگر آزاد لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں لیکن میں دوستوں کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا پس پردہ سید رفاقت گیلانی کے ساتھ وعدے وعید اور راز و نیاز کر لئے گئے ہیں،سید ثقلین شاہ کی وجہ سے مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی تذبذب کا شکار ہیں یقینا انہیں تذبذب کا شکار ہونا بھی چاہیئے کہ مہر اعجاز اچلانہ اپنے مفادات کی پچ پر کھڑے ہیں اور سید ثقلین شاہ اپنے مفادات بچانے میں لگے ہوئے ہیں،سید ثقلین شاہ اور مہر اعجاز احمد اچلانہ ایک بار پھر لیہ کی مرکزی نشست کو مفادات کی بلی پر چڑھانے کی تیاری مکمل کر چکے ہیں اب صرف یہ ا علان ہونا باقی ہے کہ مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی کے سر پر جھوٹے وعدوں کی پنڈ کتنی بھاری ہوگی؟ اور اس کاوزن مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی سہار بھی سکیں گے یا نہیں،ثقلین شاہ کا نیا سلیکٹڈ کون ھوگا ؟
243