تباہ کن مہنگائی، بیمار شخصی رویوں کا شاخسانہ 208

تباہ کن مہنگائی، بیمار شخصی رویوں کا شاخسانہ

آن عزت تو دور کی بات ہو گئی وطن عزیز میں 13سال سے جاری و ساری جمہوری پارلیمانی عمل کو 24سال سے متروک ہوئی ہارس ٹریڈنگ (ایٹ لارج) کا بازار رمضان المبارک کی شاموں راتوں میں اسلام آباد میں لگا کر 14سال سے جاری جمہوری و پارلیمانی عمل کوسبوتاژ کرنے کے کتنے ہی پریشان کن نتائج مافیا راج کے دوران ہی نکلتے رہے لیکن سب سے بڑا اور فوری بے قابو مہنگائی جوخاتمہ حکومت پر تباہ کن ہو گئی آن عزت تو دور کی بات ہے کون سی عزت نفس اور آئینی ضمانت والے بنیادی انسانی حقوق، بے بس پسی مظلوم قوم کے کروڑوں گھرانوں کو جان ومال کے لالے ڈال دیئے ۔بجلی اور پٹرول کے قطعی ناقابل برداشت چھلانگیں لگاتے نرخوں نےگھر گھر بجلیاں گرا دیں جب ملکی تاریخ کےسب سے بڑے اقتصادی بحران میں ’’اناج دشمن‘‘87رکنی وزرا جعلی مشیروں اور معاونین کی 87رکنی 16ماہی لشکری کابینہ اپنے آخری دو ہفتوں میں جلدی جلدی اقساط میں بھاری بھرکم نرخوں کی بمباری سے گھر گھر کچن کے کچن اجاڑتی، اولیگارکی (مافیاراج) کے درباریوں ، پٹواریوں میں ارباہا روپے کی مکمل بلاجواز مراعات سے نواز کر غیر محفوظ سرخیل آسودہ پناہ گاہوں کا رخ لئے لندن، دبئی، امریکہ، کینیڈا اور نہ جانے کہاں کہاں سدھار گئے ’’سدا بھاگ لگیں رہیں ان کے اور آل اولاد کے ‘‘ جاتے جاتے اور پہنچ کر اعلان کر گئے اور کر رہے ہیں کہ الیکشن (مکمل مرضی کے ) ہوئے تو پھر حسب روایت آن بان شان سے فلاں فلاں تاریخ میں آمد ہوگی۔

اس سے قبل کہ قابل قبول مکمل مجبور غیر آئینی نگرانی حکام کو گھمبیر صورتحال کے مطابق فوری اقدامات کی کوئی تجاویز دی جائیں یہ بتانا اور بروقت جتانا لازم ہے کہ یہ درپے 16ماہی آئین شکنی سے بننے والی انتہائی تشویشناک صورتحال کے اصل حقائق کو واضح کیا جائے اور ملکی داخلی یکجہتی اور امن و سلامتی کو درپیش چیلنج کے پس پردہ وجوہات کو مختصراً عوام الناس اور ملکی کرتے دھرتوں کے سامنے لایا جائے بلند و باگ ہم وطنو، سنو ، سمجھو اور مانو کہ جو کچھ ہوا وہ ریاستی انتظام سے نپٹنے میں اختیار ہونے والے چند شخصی اور حقیر حجم کے بیمار گروہی رویوں سے ہوا وگرنہ سیاسی و اقتصادی بحران اور ’’نازک وقت‘‘ تو عشروں سے ہماری قومی زندگی کا ریگولر فیچر بن چکا ۔

بلاشبہ سیاست و حکومت کے اچھا برا ہونے میں دوربینی (وژن) معیاراور علم و اہلیت کا بہت بڑا دخل تو ہوتا ہی ہے لیکن شخصی اور اس (سیاست و حکومت) میں شامل اور قربت کے تائیدی و مخالف گروہی رویے سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ان کا اپنی عمومی حیثیت میں مستقل سا ہو گیا مثبت و منفی، متوازن اور غیر متوازن ہونا آئین قانون کی بالادستی کے ذریعے عوامی مفادات پر تیزی سے نیچے آتا عوامی زندگی پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔

ہمارا معاشرہ بھی اپنی مجموعی تعلیمی شخصیت کے حوالے سے کوئی سائنٹیفک سوسائٹی تو ہے نہیں کہ ہم مختلف حساس شعبوں کی پالیسی و فیصلہ سازی حکمت ہائے عملی اور عملدرآمد کو عوام دوست بنانے کےلئے مطلوب مثبت رویے اختیار کرنے کیلئےکوئی نظم یا جزوترکیبی کے طور حکومتی ڈھانچے اور سیاسی جماعتوں میں شامل کر سکیں۔اگر کوئی صاحب الرائے اور رائے ساز عوامی حلقوں کی سطح سے ایسی جرات و گستاخی کا مرتکب ہو بھی جائے تو اس پر سیاسی مکاری سے سزا دینا مجرمانہ خاموشی اختیار کرلینا یا مکمل عدم توجیہ سے اسے مکمل بے اثر کر دینا بھی ہمارے سیاسی و حکومتی کلچر میں سخت منفی انفرادی و اجتماعی رویوں کا مستقل خاصا ہے ۔

پاکستان میں گزشتہ دو سال سے اپوزیشن، حکومت اور پاکستان کے قومی سیاسی سفر کے مرحلے کے عین اس وقت جب تیرہ پندرہ سال سے جاری بڑھتے اقتصادی (آئینی و سیاسی نہیں) بحران میں اپنی سیاست و حکومت کے حوالے سے مخصوص درجے کا توازن اختیار کرکے کچھ حدودمتعین کرنا اور ایک محدود لیکن بے حد حساس قومی ایجنڈے پر اتفاق و اتحاد قائم کرنا ناگزیر ہو گیا تھا عین اس وقت بلند درجے کے تینوں اسٹیک ہولڈرز کے وژن (دوربینی ) معیار حکومت و سیاست اور فیصلہ سازی اور عملدآمد کی مطلوب صلاحیت اور جذبے پر ملبوس اقتدار اعلیٰ عہدوں اور بڑی ذمے داری پر ہر تین بلکہ منفی رویے غالب آگئے جس کا بڑا خسارہ یہ ہوا کہ ان دائروں سےباہر اور دور پاکستان کے ’’دوست‘‘ ہم پر بڑی مہربانی سے سرشار ہوگئے پھر بہت کچھ ہوا منفی رویوں کا غلبہ بڑھتا گیا اس سے احتجاج و تنقید کی مکمل آزادی کےساتھ چلتا سستی سے ہی بڑھتا پارلیمانی و سیاسی عمل اور پہلے سے بحران میں تبدیل ہوتی معیشت سنگین، آئینی و سیاسی بحران سے جڑ کر مسلسل بڑھتی پیچیدگی میں جکڑی گئی اور کتنے چھوٹے اور حقیر ذاتی گروہی مفادات کے لئے کیا کیا رویہ اختیار کیا اور اس کے کتنے مہلک نتائج ساتھ ساتھ نکلتے رہے ان سب سوالوں کے جواب بحران پیدا کرنے اور بڑھاتے چلے جانے والوں کو بخوبی اور عوام الناس کوبھی خوب معلوم ہیں لیکن دوسال بعد نیا مجموعی قومی رویہ بھی بڑا مہلک ثابت ہوا اب بپھرا ناگزیر عوامی رویہ ملک گیر سطح پر شہر شہر، قصبے قصبے ، بازار بازار گزشتہ تین روز سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کی دید میں تیزی سے وسعت آ رہی ہے مزید تجزیے کی کوئی ضرورت نہیں ملکی ماحول کیسا بنا ہوا ہے اور عوام پر کیا گزر رہی ہےسب کچھ سمجھ رہے ہیں اور سب کے رویے خطرناک ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں خبریں آ رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کے بچے کھچے کور گروپ نے کہیں چھپ چھپا کر اجلاس کرکے کچھ کفر توڑا تو ہے شنید ہے زیادہ سوشل میڈیا سے اور محتاط انداز میں مین اسٹریم میڈیا سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہ سب کے ساتھ بیٹھنے اور کم سے کم لیکن ناگزیر اتفاق ایجنڈا کوئی روڈ میپ کوئی فوری اقدامات کرنے پر آمادہ ہیں اگر یہ سب کچھ درست ہے تو اتنے حبس اندھیرے اور بھوک میں اسے آب حیات کا اوپر سے آیا خطرہ جانا جائے بات اس پر ہو کہ بلی کے گلے میں بلاتاخیر گھنٹی کون اور کیسے باندھے، وگرنہ عوامی رویہ تو برسوں سے کڑے صبر جمیل سے لبریز ہو کر سڑکوں، شاہرائوں ،بازاروں میں نکل آیا ہے جو دوسال کے سخت گیرسیاسی منفی انفرادی اور گروہی رویوں کا شاخسانہ ہے دیکھو دیکھو روک سکو تو روک لو سیلاب نہ بن جائے سب اپنے اپنے ذہنی خناس اور رویے تبدیل کرو سب ہی کچھ ٹھیک ہونے لگے گا ۔ وماعلینا الالبلاغ

بشکریہ جنگ نیوزکالم